داعش کی قیادت بعثی سیکولرز اور خوارج کے مشترکہ عناصر پر مشتمل تھی، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
۱- ابوبکر البغدادی، داعش کا سربراہ، یا اصطلاحاً خلیفہ:
اس کا اصل نام ابراہیم عواد، یا ابراہیم البدری السامرائی تھا۔ اس نے بعثی حکومت کی سرپرستی میں بغداد کی اسلامی یونیورسٹی سے اسلامی علوم میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، اور اس کے بعد صدام حکومت کے خاتمے تک استاد اور امام رہا۔
2003ء تک اس کا کسی بھی بین الاقوامی اسلامی جہادی تحریک سے کوئی تعلق نہیں تھا، اور نہ ہی اس وقت تک وہ عالمی خلافت اور عالمی جہاد پر یقین رکھتا تھا، کیونکہ بعثیوں نے تمام ائمہ اور دینی اساتذہ کو سخت نگرانی میں رکھا ہوا تھا، اور جس شخص میں محض جہادی یا خلافت کی فکر بھی پائی جاتی، اسے تدریس یا امامت کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ بالکل اسی طرح جیسے آج متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور کویت میں ایسے علماء پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔
دوسری بات یہ کہ ابوبکر البغدادی سنی عرب تھا اور بدری قبیلے سے تعلق رکھتا تھا، لیکن داعش اور سی آئی اے نے اس کے بارے میں جھوٹا دعویٰ کیا کہ وہ قریشی قبیلے سے ہے۔ حالانکہ یہ ایک واضح اور مسلم حقیقت ہے کہ بدری قبیلہ عراق کا ایک مقامی قبیلہ تھا، نہ کہ حجاز کا۔ ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ بدری قبیلے کا تعلق حجاز کے قبائل یا قریش سے تھا۔
۲- ابومسلم الترکمانی:
اس کا اصل نام فاضل احمد عبداللہ الحیالی تھا۔ وہ البغدادی کا نائب تھا۔ داعش سے پہلے بعث پارٹی کا رکن، سیکولر اور صدام حسین کی حکومت کی فوج کا جنرل تھا۔ وہ صدام کی اسپیشل فورسز کا کمانڈر اور بعث پارٹی کا فعال رکن تھا۔
۳- حاجی بکر:
اس کا اصل نام سمیر عبد محمد الخلیفاوی تھا۔ بظاہر وہ البغدادی کا مشیر تھا، لیکن حقیقت میں داعش کا تمام اختیار اسی کے ہاتھ میں تھا، اور داعش کی تشکیل، تنظیم اور قیام کا اصل ذمہ دار بھی وہی تھا۔ پردے کے پیچھے اس کا اثر و رسوخ البغدادی سے بھی زیادہ تھا۔ یہی حاجی بکر تھا جس نے داعش کے منصوبے کو ڈیزائن کیا، اس کی منصوبہ بندی کی اور اس کا آغاز کیا۔ داعش سے پہلے وہ ایک سیکولر بعثی، صدام حسین کی فوج کا کرنل، بعث پارٹی کا فعال رکن اور صدام حکومت کا ایک اہم انٹیلی جنس افسر تھا۔
۴- ابوعلی الانباری:
اس کا اصل نام عدنان اسماعیل نجیم تھا۔ داعش میں وہ البغدادی کی طرف سے شام کا ذمہ دار اور اس کا نائب تھا۔ اسی طرح البغدادی نے اسے عالمی خلافت کے فروغ کا ذمہ دار، اور دوسرے ممالک میں داعش میں شامل ہونے والے گروہوں کا نگران اور رابطہ کار بھی مقرر کیا تھا۔ داعش کو بین الاقوامی سطح پر پھیلانے میں اس کا کلیدی کردار تھا۔ داعش سے پہلے وہ ایک سیکولر بعثی اور صدام کی بعثی حکومت کی فوج کا ایک اعلیٰ اور اہم جنرل تھا۔ اسی طرح صدام حکومت میں بعثی فکر کی ترویج اور فوج کی تعلیم و تربیت کا بھی ذمہ دار تھا۔
۵- ابوعبداللہ الکردی:
وہ داعش کی انٹیلی جنس کا ایک اہم رکن تھا۔ داعش سے پہلے صدام کی فوج کی انٹیلی جنس کا اہم افسر اور بعث پارٹی کا فعال سیکولر رکن تھا۔
۶- ابو احمد العلوانی:
وہ داعش کی قیادت کا ایک اہم رکن تھا۔ داعش سے پہلے صدام حکومت کی انٹیلی جنس کا اہم افسر اور بعث پارٹی کا فعال سیکولر رکن تھا۔
۷- ابولقمان:
وہ داعش کی قیادت کا ایک اہم اور کلیدی رکن تھا۔ داعش سے پہلے بعث پارٹی کا فعال سیکولر رکن اور صدام حکومت کا انٹیلی جنس افسر تھا۔
آئیے اب یہ جانتے ہیں کہ سیکولروں کے ساتھ ساتھ داعش کی قیادت میں اور کون لوگ شامل تھے؟
۱- ابو محمد العدنانی:
اس کا اصل نام طہ صبحی فلاح تھا۔ وہ داعش کا ترجمان، اہم رکن، اور سادہ الفاظ میں داعش کا دماغ تھا۔ داعش سے پہلے وہ القاعدہ کے مجاہدین میں شامل تھا، ابو مصعب الزرقاوی تقبلہ اللہ کا قریبی ساتھی تھا، اور القاعدہ کی قیادت سے بیعت کر چکا تھا۔ لیکن العدنانی نے قدیم خوارج کی طرح اپنے امیروں کے خلاف بغاوت کر دی، تمام اسلامی اور جہادی تحریکوں کی تکفیر کی، اور ان کے قتل کے فتوے جاری کیے۔
العدنانی بھی قدیم خوارج کی طرح انتہائی گستاخ تھا اور تمام اسلامی تحریکوں کے بارے میں نہایت توہین آمیز زبان استعمال کرتا تھا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے اس کی وہ دعا بھی قبول کر لی جس میں وہ کہا کرتا تھا: "اے اللہ! اگر ہم خوارج ہیں تو ہمیں نیست و نابود کر دے۔”
۲- ابو عمر الشیشانی:
اس کا اصل نام تارخان باتیراشویلی تھا۔ وہ جارجیا کا شہری تھا، داعش کا وزیر دفاع، جنگی امور کا ذمہ دار اور قیادت کا رکن تھا۔ وہ ایک سخت گیر انتہاپسند سلفی اور خوارجی فکر کا حامل تھا۔ اس نے بھی تمام مسلمانوں، اسلامی تحریکوں اور جہادی تنظیموں کی تکفیر کی، اور شام میں ان بہت سے مجاہدین کو شہید کیا جو روس اور شام کے رافضی نظام کے خلاف برسرِ پیکار تھے۔
۳- ابوحمزہ المہاجر:
وہ البغدادی کا اہم مشیر اور داعش کی قیادت کا رکن تھا۔ لیکن داعش سے پہلے وہ القاعدہ سے بیعت کر چکا تھا، اور ابو مصعب الزرقاوی تقبلہ اللہ کے بعد عراق میں القاعدہ کے شعبے کا ذمہ دار تھا۔ اس نے بھی تاریخی خوارج کی طرح اپنے امیروں کے خلاف بغاوت کی، ان کی تکفیر کی، اور اپنے قائد، شہید ابوخالد السوری، جو القاعدہ کی قیادت کے رکن تھے، کو شہید کر دیا۔
۴- ابو یمن العراقی:
وہ القاعدہ کا رکن تھا۔ ان سب نے بغاوت کی، اپنے امیروں کی تکفیر کی، تمام اسلامی جہادی تحریکوں اور پوری دنیا کے مسلمانوں کی تکفیر کی، اور بہت سے مجاہدین اور عام مسلمانوں کو شہید کیا۔




















































