چونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک علمائے دین بلند درجات اور عظیم مقام کے حامل ہیں، اس لیے اسلامی معاشرے میں بھی انہیں نہایت احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور دین کی معرفت اور تعارف کا بنیادی مرجع سمجھا جاتا ہے۔ دینی احکام، عقائد اور عملی رہنمائی کے سلسلے میں لوگ بڑی حد تک علماء کے فتاویٰ اور ارشادات سے رجوع کرتے ہیں اور اپنی دینی زندگی کو ان کی رہنمائی کی بنیاد پر ترتیب دیتے ہیں۔
لیکن جب بعض علماء اپنے اصل منصب و ذمہ داری کے بجائے دربار کی خوشنودی، ذاتی مفادات، دنیاوی مراعات اور مصلحتوں کو ترجیح دینے لگتے ہیں تو رفتہ رفتہ معاشرے کا ان پر اعتماد کم ہونے لگتا ہے، جس کے نتیجے میں علماء کے مقام و اثر میں زوال آنا شروع جاتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ان بنیادی اسباب کو پہچانا جائے جنہوں نے اس صورتِ حال کو جنم دیا ہے، تاکہ اصلاح کے لیے عملی اقدامات کیے جا سکیں۔ ذیل میں چند اہم نکات کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:
۱- اللہ تعالیٰ کی رضا کے بجائے لوگوں کی رضا کو ترجیح دینا:
علماء کا بنیادی فریضہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے حق بات بیان کریں اور دین کا پیغام بغیر کسی تحریف کے لوگوں تک پہنچائیں۔ لیکن بعض اوقات کچھ علماء ذاتی مفادات، معاشرتی دباؤ یا سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رضا پر لوگوں کی رضا کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس قسم کا طرزِ عمل نہ صرف علماء کے منصب کی روح کے منافی ہے بلکہ معاشرے میں ان کی ساکھ پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔
حدیثِ شریف کا مفہوم ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں لوگوں کی رضا تلاش کرتا ہے، نہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوتا ہے اور نہ ہی لوگ۔
لہٰذا علماء کے لیے ضروری ہے کہ حق بات بیان کرنے میں ثابت قدمی، صداقت اور تقویٰ کو اپنا بنیادی اصول بنائیں۔
۲- معاشرے سے کنارہ کشی اور سماجی فاصلے کا بڑھ جانا:
معاشرے سے الگ تھلگ ہو جانا اور صرف تدریسی ماحول تک محدود رہنا، علماء اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے کا ایک اہم سبب ہے۔ اگرچہ علمی مصروفیات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن معاشرے کے حقیقی حالات، فکری مسائل اور سماجی چیلنجز سے بے خبری علماء کے اثر و رسوخ میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ لوگوں سے میل جول اور رابطے کا مطلب یہ نہیں کہ علماء اپنا وقار یا دینی ذمہ داری چھوڑ دیں، بلکہ مقصد یہ ہے کہ وہ معاشرے کے حقائق سے قریب سے آگاہ ہوں اور لوگوں کے مسائل کو براہِ راست سمجھ سکیں۔ اگر علماء معاشرے سے دور رہیں گے تو پھر اس کی اصلاح کیسے کریں گے؟
عبدالہادی مجاہد اپنی کتاب "مدرسہ اور مبارزہ” میں لکھتے ہیں:
"مدارس کے نصاب میں علمی جمود کے ساتھ ساتھ افسوس کے ساتھ ایک ایسی نفسیاتی کیفیت بھی غالب ہے جس میں استاد اور طالب علم دونوں یہ کوشش کرتے ہیں کہ حتیٰ الامکان معاشرے سے الگ تھلگ رہیں اور اپنا وقت صرف کتاب کی تدریس اور تعلیم میں گزاریں، اور ان فکری، سیاسی، معاشرتی اور اخلاقی حالات و مشکلات سے، جن سے معاشرہ دوچار ہے، اس بہانے خود کو دور رکھیں کہ کتاب کی تعلیم کے لیے زیادہ وقت مل سکے۔ اس طرح کی گوشہ نشینی کے نتیجے میں معاملہ یہاں تک پہنچ جاتا ہے کہ معاشرے کی قیادت دوسرے لوگ سنبھال لیتے ہیں اور حالات پر اس طرح قابض ہو جاتے ہیں کہ دینی علماء محکومی اور محرومی کی حالت میں چلے جاتے ہیں۔”
مدرسہ اور مبارزہ، ص: ۱۹۳
۳- حکمرانوں کے دربار کے زیرِ اثر آ جانا:
جب علماء حق بات بیان کرنے کے بجائے حکمرانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کریں اور ان کی غلط پالیسیوں کو دینی توجیہات کا لبادہ اوڑھا کر عوام کے سامنے پیش کریں تو اس سے نہ صرف علماء کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ معاشرے میں ان کے اثر و رسوخ میں کمی اور فکری انحراف بھی پیدا ہوتا ہے۔
اکبر بادشاہ کا واقعہ مشہور ہے۔ وہ بنیادی طور پر ایک اچھا انسان تھا اور اس کا دربار ہمیشہ علماء سے بھرا رہتا تھا، لیکن جب انہوں نے حق گوئی کے بجائے حکمران سے قربت حاصل کرنے اور اس سے مراعات لینے کو ترجیح دی تو وہ ایک وسیع سلطنت کے حکمران کی گمراہی کا سبب بن گئے۔
بعد ازاں ایک متدین اور مخلص عالم، مجدد الف ثانی رحمہ اللہ تعالیٰ کی کوششوں نے اللہ تعالیٰ کی مدد سے امت کے ایک بڑے حصے کو اس آزمائش سے نجات دلائی، ورنہ ہندوستان بھی اندلس کے انجام سے دوچار ہو جاتا۔
۴- علمی کمزوری اور علمی معیاروں کا پست ہو جانا:
علماء کے کندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ عقائد، اخلاق، فقہی احکام، سماجی معاملات اور تنازعات کے حل کے سلسلے میں معاشرے کی اکثر ذمہ داریاں انہی کے سپرد ہوتی ہیں۔ اس عظیم ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے وسیع علمی استعداد، گہرا مطالعہ اور ہر پہلو سے فکری تیاری ناگزیر ہے۔
اگر علم حاصل کرنے کا مقصد صرف سند حاصل کرنا رہ جائے اور علمی معیار کمزور ہو جائیں تو یہ علماء کی ساکھ میں کمی اور امت کی فکری کمزوری کا سبب بنتا ہے۔
ڈاکٹر علی صلابی اپنی کتاب "عثمانی خلافت” میں لکھتے ہیں:
"عثمانی خلافت کے آخری دور میں زوال کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی تھا کہ وہ بغیر اہلیت کے ہر شخص کو نہایت آسانی سے اسناد دے دیتے تھے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی طالب علم ابتدائی چند کتابیں پڑھ لیتا تو اسے مکمل سند عطا کر دی جاتی، اور کئی مرتبہ دیہات کے لوگ صرف خطوط اور مراسلت کے ذریعے اسناد حاصل کر لیتے تھے۔ ان کا استاد قاہرہ میں بیٹھا ہوتا اور مکہ مکرمہ میں موجود شاگرد کو دیکھے بغیر ہی اسے سند دے دیتا تھا۔
اس آسانی نے مسلمانوں کو علم کے حقیقی حصول سے غافل کر دیا اور وہ صحیح طریقے سے علم حاصل نہ کر سکے۔ علمی میدان میں سند کو درست طریقے سے دینا ایک اہم قدر ہے، جبکہ غلط طریقے سے سند جاری کرنا علوم میں کمزوری کا سبب بنتا ہے، کیونکہ پھر بہت سے لوگوں کا مقصد صرف وہ اسناد حاصل کرنا رہ جاتا ہے جو محض کاغذ پر لکھی ہوتی ہیں اور جن کا حقیقی علم حاصل کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔”
عثمانی خلافت، ص: ۵۹۸



















































