پاکستان ایسا ملک نہیں ہے کہ جہاں اب بحران، ظلم، ناانصافی اور عدم اعتماد عروج پر پہنچے ہوں اور اس نے دوسروں کی غلامی کو اپنا لیا ہو؛ بلکہ پاکستان اپنی موجودہ شکل میں وہ حکومتی ڈھانچہ ہے جس کی بنیاد انگریزوں اور دیگر بیرونی قوتوں کے تزویراتی مقاصد کے لیے رکھی گئی ہے۔
یہی تاریخی پس منظر اس بات کا سبب بنا ہے کہ پاکستان کے سیاسی نظام پر عوام اور سیاست دانوں کے اعتماد کی فضا دن بہ دن کمزور ہوتی جائے۔
آج نہ صرف عام لوگ بلکہ بڑی تعداد میں سیاسی رہنما بھی ایک دوسرے اور ریاستی اداروں پر بے اعتماد ہیں؛ اقتدار کے لیے مسابقت، سیاسی مداخلتیں، قانون کا غیر مساوی نفاذ اور حکومتی اقدار پر مسلسل تنقید وہ عوامل ہیں جنہوں نے عدم اعتماد کی سطح کو بلند کر دیا ہے۔ کسی ملک کا استحکام اس وقت یقینی بنایا جاتا ہے جب قانون کی حکمرانی، انصاف، شفافیت اور عوام کی مرضی کا احترام موجود ہو؛ جب بھی یہ اقدار کمزور ہوتی ہیں، سیاسی اختلافات گہرے ہوتے ہیں، قومی اتحاد کو نقصان پہنچتا ہے اور ملک نئے بحرانوں سے دوچار ہوتا ہے۔ اسی لیے پاکستان کی سیاسی صورتِ حال کے بارے میں مختلف تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پائیدار استحکام کے لیے بنیادی اصلاحات اور عوامی اعتماد کی بحالی کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے:
"اس ملک کا موجودہ حکومتی اور انتظامی نظام اب جاری مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور پاکستان کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔”
نقوی نے پاکستان اقتصادی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو ملک دس سال بعد بھی انہی اقتصادی، انتظامی اور حکومتی مسائل سے دوچار ہوگا۔ اس نے زور دیا کہ موجودہ ڈھانچے کے ذریعے پاکستان کے مسائل حل نہیں کیے جا سکتے اور ملک کو مسائل کے حل کے لیے وسیع پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس کا مزید کہنا تھا:
"جس نظام میں ہم زندگی گزار رہے ہیں، وہ پہلے ہی زوال کا شکار ہے، چاہے ہم اسے تسلیم کریں یا نہ کریں۔”
تو نقوی کے ان بیانات کو دیکھا جائے تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ فوجی رجیم کی حالت کس حد تک پہنچ چکی ہوگی، جب ایک حکومت کے اتنے اعلیٰ سطح کے عہدیدار کو اپنی ہی حکومت پر اتنا عدم اعتماد ہو جائے تو یہ ان کے زوال کی آخری سسکیاں اور تابوت میں آخری کیلیں ٹھونکے جانے کا آغاز ہوتا ہے، اور یہ بات بالکل بعید نہیں کہ یہ سب کچھ بہت قریب کے وقت میں عملی طور پر بھی نظر آ جائے۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے بھائی مولانا عطاءالرحمن نے کہا ہے:
"شاید ایسا وقت آ جائے کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سفر کے لیے پاسپورٹ کی ضرورت ہو۔”
انہوں نے فوج اور حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ان علاقوں میں عوام پر ظلم بند کریں۔
عطاءالرحمن کے ان بیانات کو دیکھتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان تقسیم کی حد تک بھی پہنچ چکا ہے۔ مذکورہ بیانات کا مطلب یہ ہے کہ ممکن ہے بلوچ مزید بلوچستان کو آزاد سرزمین قرار دے دیں اور اپنے علاوہ کسی اور کو وہاں حکمرانی کا اختیار نہ دیں؛ بلوچ قوم اب فتح کی حدود کے قریب دکھائی دیتی ہے اور یہ ان کا مسلمہ حق بھی ہے۔
اسی طرح پاکستان میں جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اس ملک کے فوجی رہنماؤں کو دوسروں کی چھتوں پر برف پھینکنے کے بجائے اپنے گزشتہ اعمال کا ازالہ کرنا اور اپنی قوم کو جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے 1971ء کی جنگ میں پاکستانی فوج کی تاریخی شکست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک ویڈیو کلپ میں کہا:
"جب آپ کے فوجی مشرقی پاکستان، یعنی موجودہ بنگلہ دیش میں، ہتھیار ڈال کر سب کے سامنے رسوا ہوئے، اس وقت آپ بھارت کو کیا پیغام دے رہے تھے؟ فوج کو اپنے گزشتہ اعمال اور سرگرمیوں پر شرمندہ ہونا چاہیے، میری باتوں پر نہیں۔”
قابلِ ذکر ہے کہ 1971ء کی جنگ میں پاکستان بھارت اور بنگلہ دیش کی مشترکہ افواج کے خلاف جنگ میں الجھ گیا اور ان کے مقابلے میں تاریخی شکست سے دوچار ہوا، جس کے نتیجے میں دسیوں ہزار پاکستانی فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیے اور مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش کے نام سے ایک آزاد ملک بن گیا۔
جناب فضل الرحمن کے ان تازہ بیانات، جو انہوں نے اردو زبان میں دیے ہیں، نے ملکی اور علاقائی تبدیلیوں میں پاکستانی فوج کے کردار کے حوالے سے بحث چھیڑ دی ہے۔
اب صرف پاکستانی سیاست دان اور رہنما ہی نہیں بلکہ عام شہری بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ بلوچستان اب فوج کے کنٹرول سے نکل چکا ہے؛ صرف بلوچستان ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان میں ایسی کوئی جگہ باقی نہیں رہی جہاں مکمل سکیورٹی موجود ہو۔ ہدفی حملے، کار بم دھماکے، گوریلا حملے اور گھات لگا کر حملے پاکستانی فوجی رجیم کے دروازوں تک پہنچ چکے ہیں۔
بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی سے پوچھا جاتا ہے کہ اگر آپ کو ایک بار پھر بلوچستان کا وزیر اعلیٰ مقرر کیا جائے تو کیا بلوچستان کے حالات بہتر ہو جائیں گے؟
نواب اسلم رئیسانی جواب میں کہتے ہیں:
میں نہیں؛ اب اگر کسی کو بھی بلوچستان کا وزیر اعلیٰ مقرر کیا جائے، حالات بہتر ہونے کی کوئی امید نہیں ہے۔
مجموعی طور پر، پاکستانی فوجی رجیم کی موجودہ سیاسی اور سکیورٹی صورتِ حال کے بارے میں حکومتی عہدیداروں، سیاسی رہنماؤں اور علاقائی شخصیات کے حالیہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ملک گہرے سیاسی، اقتصادی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے؛ جب ریاست کے اعلیٰ عہدیدار اور اپوزیشن کے رہنما نظام کی صلاحیت، فوج کے کردار اور ملک کے مستقبل پر تنقید کرتے ہیں تو اسے سیاسی عدم اعتماد میں اضافے کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔




















































