اپنے عوام میں سے ابھرنے والی ذمہ دار ریاستیں داخلی سیاسی استحکام اور قومی خودمختاری کو ہر چیز پر مقدم رکھتی ہیں۔ اس ترجیح کی بنیادیں اس سرزمین میں پیوست ہوتی ہیں جہاں حکمران نظام کی مشروعیت، قومی مؤقف اور عوامی قبولیت اسی جغرافیے اور ثقافت سے جنم لیتی ہے۔
پاکستان کا فوجی رجیم، جو ہمیشہ قومی خودمختاری اور طاقت کا دعویدار رہا ہے اور خود کو دنیا کے سامنے دہشت گردی کا مظلوم اور متاثرہ فریق بنا کر پیش کرتا آیا ہے، آج خود ایک ایسے ہی بحران سے دوچار ہے۔ یہ بحران بتدریج اور دانستہ طور پر ملک کو عدمِ استحکام کی گہری کھائی کی طرف دھکیل رہا ہے اور اسے بین الاقوامی سطح پر بھی تنہائی اور بے یقینی کا سامنا ہے۔ اس بے ثباتی کے نتیجے میں پاکستان کی عالمی ساکھ مسلسل گرتی جا رہی ہے، اور وہ نہ صرف کروڑوں ڈالر کے قرضوں کی واپسی کے لیے اقتصادی و سیاسی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے بلکہ اس کیفیت سے بھی دوچار ہے کہ "میں قرض مانگتا ہوں، وہ مزید قرض مانگتے ہیں۔” اسی وجہ سے وہ بارہا امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے نئے قرضوں اور سابقہ قرضوں کی ادائیگی کی مدت میں توسیع کی درخواستیں کرتا رہا ہے۔
جب کسی نظام کی بین الاقوامی ساکھ ختم ہو جائے تو اس کی بقا کی واحد امید داخلی مشروعیت، عوامی حمایت اور اپنی حقانیت میں باقی رہ جاتی ہے، تاکہ حکومتیں بیرونی سرپرستی اور عالمی پشت پناہی کے بغیر بھی قائم و دائم رہ سکیں۔ مگر بدقسمتی سے پاکستانی فوجی رجیم، جو ایک آمرانہ اور یک جماعتی عسکری اقتدار کی شکل اختیار کر چکا ہے، اس داخلی مشروعیت سے بھی محروم ہے۔ ملک کے مختلف قومیتی گروہوں اور اقلیتوں کا اعتماد اس سے اٹھ چکا ہے، جس کی واضح مثالیں بلوچستان کی مزاحمتی تحریک، تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر مسلح گروہوں کی سرگرمیاں اور بڑھتی ہوئی عوامی بے اطمینانی ہیں۔
اب اپنے اس منفی چہرے پر پردہ ڈالنے اور اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لیے پاکستانی فوجی رجیم ایک مرتبہ پھر خفیہ اور سازشی پالیسیوں کا سہارا لے رہا ہے۔ یہ رجیم پاکستان میں موجود مختلف مسلح اور شدت پسند گروہوں، افغانستان سے فرار ہونے والے اربکی عناصر، داعشی خوارج اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کے ذریعے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ دنیا کو یہ باور کرا سکے کہ پاکستان اب بھی دہشت گردی کا شکار ہے اور اس کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔
اس مقصد کے حصول کے لیے اگر ہزاروں پاکستانی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں، ملک کی معیشت، بنیادی ڈھانچہ اور ترقیاتی منصوبے متاثر ہوں، یا پاکستان مزید عدمِ استحکام اور عالمی تنہائی کی طرف بڑھ جائے، تو اس کی کوئی پروا نہیں کی جاتی۔ کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عنوان سے حاصل ہونے والی بین الاقوامی امداد، مالی معاونت اور ترقیاتی منصوبے فوجی جرنیلوں کے معاشی مفادات اور ان کے اقتدار کے دوام کی ضمانت بن جاتے ہیں، جبکہ عالمی طاقتوں کی تائید و حمایت بھی انہیں اپنے آمرانہ نظام کو برقرار رکھنے کا ایک ذریعہ فراہم کرتی ہے۔
اس حقیقت پر خود پاکستانی عوام اور ملک کے سیاسی تجزیہ کار بھی متفق ہیں۔ انہوں نے بارہا فوجی رجیم کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سابقہ ناکام اور نقصان دہ پالیسیوں کے تسلسل میں ایک بار پھر غلط سمت اختیار کر رہا ہے اور ملک کو عدمِ استحکام اور بین الاقوامی تنہائی کی گہری کھائی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ لیکن نہ صرف ان کی آوازوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے بلکہ حق بات کرنے والوں کو بھی مختلف الزامات کے تحت جبراً لاپتا کیا جاتا ہے، قتل کر دیا جاتا ہے، یا فوجی رجیم کے زیرِ اثر قائم عدالتوں سے انہیں سخت سزائیں سنائی جاتی ہیں۔
پاکستانی رجیم کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ شر و فساد پھیلانے والے گروہ، اربکی عناصر اور داعشی خوارج، کرائے کے جنگجو اور وطن فروش عناصر کے سوا کچھ نہیں، اور نہ ہی ان کے پاس کوئی قابلِ قبول تاریخی یا عوامی بنیاد موجود ہے۔ اس کے باوجود اگر ان گروہوں کی سرپرستی جاری رکھی جاتی ہے تو درحقیقت یہ اپنے ہی عوام اور پوری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، نیز ان زمینی حقائق اور تاریخی تجربات سے چشم پوشی ہے جو بالآخر پاکستان کے اندر مزید تقسیم، قومی سطح پر کمزوری اور ایک بڑے ملک کو بے بسی اور بحران سے دوچار کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔
اب وقت آ پہنچا ہے کہ پاکستانی رجیم دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے اور اپنی ناکامیوں کا بوجھ دوسروں کے کندھوں پر ڈالنے کے بجائے زمینی حقائق کو تسلیم کرے، تاکہ ایک طرف وہ بین الاقوامی اعتماد بحال کر سکے اور دوسری طرف اپنے ہمسایہ ممالک، خصوصاً افغانستان، کے ساتھ حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں کی بنیاد پر اپنے عوام اور اپنی سرزمین کے مفادات کا تحفظ یقینی بنائے۔ خطے اور دنیا کے حالات، صلاحیتیں اور چیلنجز اب پہلے جیسے نہیں رہے۔ اب پاکستان کے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ افغانستان، خطے یا دیگر ہمسایہ ممالک میں غیر مشروع مداخلت کے ذریعے اپنے جماعتی اور آمرانہ اقتدار کو برقرار رکھے یا فوجی جرنیلوں کے تجارتی مفادات اور منصوبوں کو اسی طرز پر جاری رکھ سکے۔




















































