جنوبی ایشیا میں سکیورٹی چیلنجز، سرحدی تنازعات اور سیاسی رقابتوں کے باعث غیر رسمی مسلح گروہوں کا معاملہ ہمیشہ علاقائی اور بین الاقوامی محققین کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ ان گروہوں سے تعاون، تربیت یا استعمال کے حوالے سے مختلف دعوے اور رپورٹس سامنے آتی رہتی ہیں۔ سیاسی اور سکیورٹی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر وہ ریاست یا فریق جو قلیل مدتی سٹریٹیجک مقاصد کے لیے غیر رسمی مسلح گروہوں سے استفادہ کرتا ہے، طویل مدت میں غیر یقینی اور منفی نتائج سے دوچار ہو سکتا ہے۔
سکیورٹی امور کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستانی فوجی رجیم نے حالیہ عرصے میں، جب پاکستان میں سکیورٹی کی سطح صفر تک پہنچ گئی اور فوجی رجیم سکیورٹی کے شعبے میں ناکام رہی، ہمیشہ کی طرح ایک اور پستی کا راستہ اختیار کیا۔ فوجی رجیم نے افغانستان کے منہدم شدہ جمہوری نظام کے بے رحم اربکیوں کی تربیت شروع کر دی، وہ اربکی جو افغانستان میں اہلِ ایمان کو اذیت دینے کا بیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں اور معمولی معاوضے کے بدلے ہر مشکل اور وحشت کے لیے تیار ہیں۔
ان اربکیوں کو تربیت دے کر انہوں نے اپنے لیے قلیل مدتی فوائد مدنظر رکھے ہیں، لیکن مستقبل میں اس کے خطے، دنیا اور حتیٰ کہ پاکستان کے لیے بھی طویل مدتی نتائج ہوں گے۔
اس کے بعض قلیل مدتی فوائد درج ذیل ہیں:
۱۔ افغانستان کی سکیورٹی کو درہم برہم کرنا
فوجی رجیم اربکیوں کی تربیت کے ذریعے افغانستان میں موجود سکیورٹی کو درہم برہم کرنے، حکمران اسلامی نظام کے لیے داخلی مسائل پیدا کرنے اور افغانستان کے داخلی مسائل میں اپنے مدنظر رکھے گئے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن الحمدللہ افغانستان کی سکیورٹی چند شکست خوردہ بدمعاشوں کے ذریعے درہم برہم نہیں کی جا سکتی۔
۲۔ ٹی ٹی پی اور بلوچستان کے خلاف استعمال کرنا
تجزیہ کاروں کے مطابق، جب فوجی رجیم ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے خلاف جنگ میں ناکام رہی تو اب وہ کوشش کر رہی ہے کہ اربکیوں کو ان کے خلاف استعمال کرے، انہیں ان کے ساتھ براہِ راست لڑائیوں میں ملوث کرے اور انسانیت سوز کارروائیاں ان کے ذریعے انجام دے۔ لیکن فوجی رجیم اس فائدے میں بھی ناکام رہی ہے، کیونکہ جب باقاعدہ فوج تمام دستیاب وسائل کے ساتھ مسلح افراد کے خلاف جنگ اور سکیورٹی کے کنٹرول میں ناکام رہی، تو یہ شرپسند سکیورٹی اور جنگ کے میدان میں اسے کیا کامیابی دلا سکتے ہیں؟
۳۔ قومی اختلافات پیدا کرنا
فوجی رجیم اربکیوں کی تربیت کے ذریعے بلوچستان کی دو بڑی قوموں، یعنی پشتونوں اور بلوچوں، کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے ذریعے خفیہ طور پر قومی سطح پر قتل و غارت انجام دیتی ہے اور عوام کو اختلاف اور عداوت کی طرف اکساتی ہے۔ اسی طرح فوجی رجیم اربکیوں کے ذریعے علماء اور قومی رہنماؤں کو نشانہ بناتی ہے اور حکومت مخالف مسلح افراد کو ان کے ذریعے بدنام کرتی ہے۔ یہ ان قلیل مدتی فوائد کی چند مثالیں تھیں جنہیں فوجی رجیم نے مدنظر رکھا ہے۔
اربکیوں کی تربیت کے بعض طویل مدتی نتائج درج ذیل ہیں:
۱۔ بومرنگ افیکٹ (اپنے پیدا کیے ہوئے خطرات)
تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی رجیم نے جتنا زیادہ دہشت گرد گروہوں کے ساتھ تعاون کیا، اتنا ہی ان گروہوں کو بعد میں پاکستان کے خلاف استعمال کیا گیا۔ اب بھی اربکیوں کی تربیت پاکستان کے خلاف ایک اور خطرہ پیدا کرے گی۔
۲۔ پاکستان کی عالمی تنہائی اور بدنامی
دہشت گرد گروہوں کے ساتھ یہ کھلے تعلقات پاکستان کو عالمی برادری کی نظر میں ایک ’’ناقابلِ اعتماد‘‘ ملک بنا دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پاکستان سیاسی اور اقتصادی کمزوریوں سے دوچار ہوگا اور عالمی پابندیوں اور دباؤ کا سبب بنے گا۔
۳۔ خطے کے لیے داعش جیسا ایک نیا خطرہ
سکیورٹی محققین کا استدلال ہے کہ جب مسلح گروہوں کو سیاسی یا سکیورٹی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو بعد میں ان پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے؛ کیونکہ ان کے اپنے مقاصد، نظریات اور علاقائی اثر و رسوخ پیدا ہو جاتے ہیں۔ پھر اس سے داعش کی طرح دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، جو وسطی اور جنوبی ایشیا کے لیے ایک اور دردِ سر بن جائے گا۔
۴۔ بلوچوں اور پشتونوں کے درمیان مستقل دشمنی
اربکیوں کے ذریعے بلوچوں اور پشتونوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنا ان دونوں قوموں کے درمیان مستقل نفرت اور دشمنی پیدا کرے گا، جس کے نتیجے میں پاکستان خانہ جنگی اور ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا سامنا کرے گا۔
فوجی رجیم کی یہ سکیورٹی پالیسی، جو اربکیوں اور شرپسندوں کی تربیت پر مبنی ہے، قلیل مدتی فوائد کے حصول کی ایک خودکُش پالیسی ہے۔ یہ نہ صرف پاکستان کی طویل مدتی سکیورٹی، استحکام اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے بلکہ پورے خطے کے لیے ایک تباہ کن چیلنج بھی ہے۔ اگر آج وہ شرپسندوں کو تربیت دے رہے ہیں تو کل یہی شرپسند ان کی تباہی کا سبب بنیں گے۔ یہ تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش سبق ہے۔




















































