داعش وہ گروہ ہے جس نے اسلام کا مقدس نام اپنایا اور خود کو دین کے سچے اور حقیقی پیروکاروں کے طور پر متعارف کروایا، لیکن درحقیقت وہ مغربی انٹیلی جنس اداروں کے ہاتھوں ایک آلہ تھا۔ اس گروہ کو مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ داعش کے قیام کا بنیادی مقصد راہِ حق کے مجاہدین کو براہِ راست کچلنا اور دنیا میں اسلام کی ترقی اور پھیلاؤ کو روکنا تھا۔
اس بات کے ثبوت کے لیے بہتر ہے کہ یہ حقیقت خود اہلِ مغرب کی زبانی سنیں۔
امریکہ کی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی (DIA) کے سابق سربراہ جنرل مائیکل فلین نے دسمبر ۲۰۱۵ء میں جرمن جریدے “دار شپیگل” اور الجزیرہ نیٹ ورک کے ساتھ ایک انٹرویو میں واضح الفاظ میں اعتراف کیا:
“عراق میں جارج بش انتظامیہ کی پالیسی داعش کے وجود میں آنے کی بنیادی وجہ تھی۔”
چونکہ امریکہ مجاہدین کے ساتھ براہِ راست جنگ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا، اس لیے اس نے داعش کے قیام میں مدد کی تاکہ اس کے ذریعے عراق اور شام میں اپنے مقاصد حاصل کر سکے، یہ اقدام آخرکار عراق میں امریکہ کے مفاد میں ثابت ہوا۔
اسی طرح ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی ۲۰۱۶ء کی امریکی انتخابی مہم کے دوران اس موضوع کی طرف اشارہ کیا اور واضح الفاظ میں بارک اوباما اور ہیلری کلنٹن کو “داعش کے اصل بانی” قرار دیا۔ امریکہ، جو ہمیشہ مجاہدین کے ساتھ جنگ میں شکست کھاتا رہا تھا اور اسلام کی مسلسل بڑھتی ہوئی ترقی کا مشاہدہ کر رہا تھا، اس بات پر مجبور ہوا کہ کوئی ایسا راستہ تلاش کرے جس کے ذریعے اسلام کے نام کو استعمال کرتے ہوئے خود اسلام کو نقصان پہنچایا جائے۔ نتیجتاً اس نے داعش کے گروہ کو وجود میں لایا۔
داعش کا پہلا بڑا نقصان دہ اقدام یہ تھا کہ اس نے مختلف علاقوں میں مجاہدین کی متحد صفوں کو کمزور کیا۔ اس گروہ نے کفار کے خلاف جنگ کرنے کے بجائے مسلمانوں کے خلاف مورچہ سنبھالا، جنگیں شروع کیں اور یہاں تک کہ صلح قبول کرنے سے بھی گریز کیا۔ حالانکہ اسلام کا مبارک دین مسلمان کو قتل کرنا بہت بڑا گناہ قرار دیتا ہے اور یہاں تک کہ اسے گالی دینے اور برا بھلا کہنے کی بھی اجازت نہیں دیتا، جیسا کہ رسول اللہ صلیاللہعلیہوسلم نے فرمایا ہے:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا وَائِلٍ عَنِ الْمُرْجِئَةِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلیاللهعلیهوسلم قَالَ: سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ
“مسلمان کو برا بھلا کہنا فسق ہے اور اس کے ساتھ جنگ کرنا کفر ہے۔”
اب یہ سوال اٹھنا چاہیے کہ داعش نے کس شریعت سے یہ تعلیم حاصل کی ہے کہ وہ مجاہدین، ان لوگوں کو، جنہوں نے دینِ اسلام کی نجات اور سربلندی کے لیے برسوں نہایت سخت حالات میں جدوجہد کی ہے، قتل کرنا واجب سمجھتی ہے اور ان کا خون بہانا جائز قرار دیتی ہے؟ یقیناً داعش کی شریعت کا مقدس اسلامی شریعت سے کوئی تعلق نہیں اور دونوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے۔ واضح الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی شخص داعش کی فکر کو اسلامی قرار نہیں دے سکتا اور نہ ہی اس گروہ کو اسلام کا نمائندہ متعارف کرا سکتا ہے۔
داعش اپنے قیام کے پہلے دن سے ہی مغربی انٹیلی جنس منصوبوں کا ایک آلہ بنی ہوئی ہے اور بعض ممالک نے اپنے برے اور مذموم مقاصد کے حصول کے لیے اسے استعمال کیا ہے۔ مسلمان دوسروں کے ہاتھوں میں آلہ نہیں ہو سکتا، بلکہ وہ خود انسانیت کے رہنما اور منتظم ہیں۔ خلافتِ اسلامیہ کی اصل تاریخ پڑھیں تاکہ دیکھ سکیں کہ انہوں نے کس طرح دنیا کو فساد سے نکال کر اصلاح اور خوش حالی کی طرف رہنمائی کی اور صدیوں تک تدبیر اور طاقت کے ساتھ دنیا کی معیشت، سیاست، صنعت اور اطلاعات کو چلایا، نہ کہ داعش کی طرح، جس نے “خلافت” کے نام کو ایک انٹیلی جنس کھیل میں تبدیل کر دیا۔
آج بھی امارت اسلامیہ، اسلامی تاریخ کے حقیقی نظاموں کی طرح، مسلمانوں کے تمام معاملات کو درست طور پر چلا رہی ہے۔ موجودہ دور میں اسلام کی اصل نمائندہ امارت اسلامیہ ہے، نہ کہ فتنہ اور اختلاف پھیلانے والا گروہ داعش۔ ہر پہلو سے دیکھا جائے تو خلاصہ یہی ہے کہ داعش اسلام سے مکمل طور پر الگ اور اجنبی گروہ ہے۔




































