جب کسی شخص پر انفرادی اور شخصی سطح پر ظلم ہوتا ہے… خواہ اس کی ذات، جان، مال یا آبرو کو نشانہ بنایا جائے تو شریعتِ اسلامیہ اسے سب سے پہلے ‘دفعِ صائل (حملہ آور کو روکنے) اور خود اختیاری دفاع کا بنیادی حق’ عطا کرتی ہے۔
فقہِ اسلامی کے متفقہ اصول کے مطابق اگر کوئی شخص کسی دوسرے کی جان یا مال پر ناحق حملہ کرے تو مظلوم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ تدریج کے ساتھ اپنا دفاع کرے اور حملہ آور کو شریعت کی طرف سے اجازت کی مقدار کے مطابق نقصان پہنچا کر بھی خود کو محفوظ رکھے۔
جیسا کہ جامع الترمذی کی حدیث نمبر 1421 کے مفہوم کے مطابق حضرت نبی کریم ﷺ کے واضح ارشادات کی روشنی میں اپنے حق، جان اور مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جانے والا شخص شرعاً ‘شہید’ کا درجہ پاتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ شریعت مظلوم کو یہ اجازت بھی دیتی ہے کہ وہ ظالم کے خلاف علانیہ آواز اٹھائے، اس کی برائی کو ظاہر کرے اور اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا برابر کا بدلہ (قصاص یا بدلِ مالی) طلب کرے۔ جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے کہ:
‘اللہ تعالیٰ برائی کو علانیہ زبان پر لانے کو پسند نہیں فرماتا، مگر مظلوم کے لیے اس کی اجازت ہے.’ (سورۃ النساء: 148)
تاہم انفرادی حقوق کے اس معاملے میں شریعت نے انتہائی دقیق اور واضح حد بندیاں بھی قائم کی ہیں۔ مظلوم کو بدلہ لینے یا دفاع کرنے کا جو حق حاصل ہوتا ہے، اس کا دائرہ کار صرف ‘مماثلت اور عدمِ تجاوز’ تک محدود ہے۔ یعنی مظلوم اپنے ظالم سے صرف اُتنے ہی ظلم کا بدلہ لے سکتا ہے، جتنی خود اِس مظلوم پر زیادتی ہوئی ہو۔ اس سے ایک انچ آگے بڑھنا شرعاً ظلم اور تعدی بن جاتا ہے۔
جیسا کہ سورۃ الشوریٰ کی آیت نمبر 40 میں یوں درج ہے کہ:
«وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا ۖ فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ»
اور برائی کا بدلہ اُسی جیسی برائی (یعنی برابر کا بدلہ) ہے، پھر جو شخص معاف کر دے اور اصلاح کر لے تو اس کا ثواب اللہ کے ذمے ہے، یقیناً وہ (حد سے بڑھنے والے) ظالموں کو پسند نہیں فرماتا۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ انفرادی طور پر بدلہ لینا یا سزا دینا مظلوم کا خود اپنے ہاتھ سے قانون توڑنا نہیں ہے، بلکہ اِس کے لیے اجازت اور شرعی طریقہ کار کی پابندی ضروری ہے۔ عدل کے قیام اور انتقام کو ذات کے جنون سے بچانے کے لیے اس کا حتمی فیصلہ شرعی قاضی یا عدالتی نظام کے سپرد کیا جاتا ہے، تاکہ معاشرہ ذاتی عداوتوں اور انارکی کی آماج گاہ نہ بنے۔
یوں شریعت انفرادی مظلوم کو اپنے دفاع اور حقِ انصاف کا مکمل شرعی جواز فراہم کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی اسے حدود و قيود کا پابند بنا کر انتقام کو مطلق العنان ہونے سے روکتی ہے۔
تاہم جب یہ ظلم انفرادی سطح سے نکل کر اجتماعی اور ریاستی شکل اختیار کر لے تو مظلوم کے ذہن میں صرف اپنے دکھ کا مداوا نہیں… بلکہ شریعت کے احکام، عدالت اور بدلے کے فلسفے پر بھی صد ہا سوال جنم لے لیتے ہیں۔
اس معاملے کو ذرا تفصیل و گہرائی سے سمجھتے ہیں…
ایک عام انسان جب یہ دیکھتا ہے کہ اُس کی بستی، گاؤں یا شہر کو ظالمانہ طور پر ریاستی عسکری آپریشنز کا نشانہ بنایا گیا ہے، لوگ بے گھر ہوئے ہیں اور مداوا و احتجاج وغیرہ جیسی انصاف کی تمام راہیں مسدود ہو گئیں اور کر دی گئی ہیں… حتیٰ کہ عدالتیں بھی خاموش تماشائی یا ظالم کے ہاتھ مضبوط کرنے والی بن گئی ہیں تو وہ مسلمان ہونے کے ناطے اپنے رب کے دین سے جواب اور انصاف مانگتا ہے کہ:
‘میرا انصاف کہاں ہے؟’
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مظلوم کے پاس عدالت کا کوئی در کھلا نہ رہے تو کیا شریعت اِس مسلمان مظلوم کو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے کا حکم دیتی ہے؟ اور کیا ظالم کے خلاف اقدام کرتے وقت ظالم کا مذہب دیکھنا ضروری ہے؟
ظالم کا مذہب اور عدل کا عالم گیر اسلامی تصور:
شریعتِ اسلامیہ کا سب سے بنیادی اور اٹل قانون یہ ہے کہ ‘ظلم بہرحال ظلم ہے، خواہ وہ کرنے والا مسلمان ہو یا الف، بے، تے اور ثے جیسا جیسا کوئی غیر مسلم…’ عدلِ اسلامی کی نظر میں مظلوم کا حق اور ظالم کا تعاقب کسی مذہبی یا قبیلہ جاتی امتیاز کا محتاج نہیں ہوتا۔
جیسا کہ قرآنِ پاک میں سورۃ النحل کی آیت 126 ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
‘اور اگر تم بدلہ لو تو اتنا ہی لو، جتنی تم پر زیادتی کی گئی ہو.’
اسی طرح اسلامی تاریخ اور فقہ کا بنیادی قاعدہ ہے کہ:
‘جب کوئی آپ کے گھر، مال یا جان پر حملہ آور ہو تو شریعت اسے ‘صائل’ (حملہ آور) قرار دیتی ہے۔’
جامع الترمذی کی حدیث نمبر 1393 میں مذکور ہے کہ:
ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا:
‘اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر کوئی شخص میرا مال چھیننے آئے تو میں کیا کروں؟’
آپ ﷺ نے فرمایا:
‘اسے اپنا مال نہ دو۔’
اس نے پوچھا:
‘اگر وہ مجھ سے لڑے؟’
فرمایا: ‘تو تم بھی اس سے لڑو۔’
اس نے کہا:
‘اگر وہ مجھے قتل کر دے؟’
آپ ﷺ نے فرمایا:
‘تو تم شہید ہو۔’
اس نے پوچھا:
‘اگر میں اُسے قتل کر دوں؟’
آپ ﷺ نے فرمایا:
‘وہ جہنم میں جائے گا۔’
اس فرمان سے واضح ہوتا ہے کہ دفاع کا تعلق حملے کو روکنے سے ہے، حملہ آور کا مذہبی کارڈ یا اس کا مسلمان ہونا ظالم کو تحفظ فراہم نہیں کرتا۔
پُرتشدد یا مسلح مزاحمت: بغاوت یا حقِ دفاع؟
یہاں معاشرے میں پھیلے ہوئے تصورِ مزاحمت اور بغاوت کو سمجھنا بھی ضروری ہے…
یوں کہ جب بات انفرادی دفاع سے بڑھ کر اجتماعی بنیادوں پر ظالم ریاست یا طاقت کے خلاف مسلح اقدامات تک پہنچتی ہے تو زبان اور اصطلاحات کا استعمال اَہم ہو جاتا ہے۔ ظالم قوتیں ہمیشہ مظلوم طبقے کی دفاعی کوششوں کو ‘بغاوت’، ‘خروج’ یا ‘دہشت گردی’ کا نام دیتی ہیں، تاکہ اسے اخلاق و مذہب کی مقامی و عالمی سطح پر تنہا کیا جا سکے۔
تاہم شرعی اور فقہی سائنسی اعتبار سے ‘بغاوت (بغی) وہ سرکشی ہے… جو کسی عادل، قانون پسند اور شرعی حاکم کے خلاف محض اقتدار یا فساد کے لیے کی جائے۔’
دوسری طرف جب ریاست خود بے گناہ شہریوں پر بمباری کرے، اُن کو بے جا ہجرت در ہجرت پر مجبور کر دے اور عدلیہ رشوت یا خوف کے باعث ظالم کا آلہ کار بن جائے تو مظلوم کا اسلحہ زیب تن کر کے اپنے دفاع و حق کے لیے کھڑا ہونا ‘بغاوت’ نہیں، بلکہ ‘مسلح مزاحمت” (Armed Resistance) اور ‘دفاعِ نفس’ کہلاتا ہے۔
فقہِ اسلامی کے عظیم امام حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا فکری موقف اس حوالے سے انتہائی روشن ہے۔ انہوں نے اموی اور عباسی ادوار کے جابر حکمرانوں کے خلاف سیدنا نفسِ زکیہ رحمہ اللہ اور سیدنا زید بن علی رحمہ اللہ کی تحریکوں کی نہ صرف اخلاقی، بلکہ مالی حمایت بھی کی۔ امامِ اعظم رحمہ اللہ کے نزدیک جابر حکمران اور جابر نظام کے خلاف اپنے حقوق کا تحفظ کرنا بزدلی سے برداشت کرنے سے کہیں زیادہ افضل عمل تھا، بشرطیکہ اس کا مقصد ظلم کا خاتمہ اور عدل و انصاف کی فراہمی ہو۔
جاری ہے..




















































