امتِ مسلمہ کی عزتِ رفتہ کی بحالی کے طریقے
امتِ مسلمہ کی کمزوری کے مسئلے میں حل کی راہوں پر بحث سب سے اہم حصہ ہے، کیونکہ جب تک ایک مسلمان کی فکری اور ایمانی بنیادوں کی اصلاح نہ ہو، کوئی بھی سیاسی یا اقتصادی تبدیلی اس کے لیے پائیدار نتائج نہیں لا سکتی۔ امتوں میں حقیقی تبدیلی ہمیشہ انسان سے شروع ہوتی ہے، ڈھانچوں سے نہیں، اور انسان ایمان، فکر اور تربیت کے ذریعے تشکیل پاتا ہے۔
وہ طریقے جن پر عمل کرکے مسلمانوں کی کھوئی ہوئی عزت دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہے درج ذیل ہیں:
۱۔ قرآن کریم کی طرف گہری اور عملی واپسی
قرآن کریم امتِ مسلمہ کی شناخت کی بنیاد ہے۔ یہ کتاب صرف تلاوت یا برکت کے لیے نہیں، بلکہ زندگی کا ایک مکمل نظام ہے جو عقیدہ، اخلاق، سیاست، معیشت اور معاشرتی تعلقات کو منظم کرتی ہے۔
بدقسمتی سے آج بہت سے مسلم معاشروں میں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ قرآن کریم صرف احترام کی حد تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اور اسے اونچی طاقچوں میں رکھا جاتا ہے، لیکن نفاذ اور عمل کے میدان میں اس کا کردار کمزور پڑ گیا ہے۔ قرآن مجید کی طرف واپسی کا مقصد یہ ہے کہ وہ قانون سازی اور اقدار کے تعین کا اصل مرجع بنے اور مسلمان ہمیشہ اس یقین اور اعتماد پر قائم رہیں کہ یہ انسانیت کے لیے بہترین قانون ہے۔
قرآن کریم کے فہم کی سطح کو انفرادی اور سطحی فہم سے اٹھا کر اجتماعی اور تمدنی فہم تک پہنچایا جائے، قرآنی معارف کو نظامِ تعلیم و تربیت، ذرائع ابلاغ اور ثقافت میں شامل کیا جائے، مسلمان قرآن کریم کو محض ثواب اور برکت کی کتاب کے طور پر نہیں بلکہ زندگی کا طریقۂ کار سمجھیں۔ جب بھی قرآن عظیم الشان کو صرف پڑھنے کے مرحلے سے زندگی میں ڈھالنے کے مرحلے تک منتقل کیا جائے گا، معاشرہ بتدریج اصلاح کی جانب گامزن ہوگا۔
۲۔ دلوں میں حقیقی اور زندہ ایمان کا احیاء
اسلام میں ایمان صرف ایک ذہنی یقین نہیں، بلکہ انسان کے اعمال کو حرکت دینے والی قوت ہے۔ وہ ایمان جو عمل میں نظر نہ آئے، اس کا اجتماعی اثر نہیں ہو سکتا۔ اسلام کو محض نعروں کا دین نہیں بلکہ عمل کا دین سمجھا جانا چاہیے۔
بدقسمتی سے امت مسلمہ کی موجودہ کمزوری بڑی حد تک کمزور اور غیر فعال ایمان کی وجہ سے ہے۔ ایمان کو زندہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ:
• اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت اور دعا کے ذریعے انسان کا تعلق مضبوط کیا جائے،
• انفرادی اور اجتماعی رویے میں اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے کا احساس پیدا کیا جائے،
• ایمان کو گناہ ترک کرنے اور ذمہ داری ادا کرنے کی ترغیب میں تبدیل کیا جائے،
• اور روزمرہ زندگی میں آخرت کے تصور کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔
جب معاشرے میں ایمان زندہ ہوجائے تو فساد، ظلم اور ناانصافی خود بخود کم ہونے لگتی ہے، کیونکہ انسان محسوس کرتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں اور اس پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
۳۔ خاندانی تربیتی نظام کی بنیادی اصلاح
خاندان انسان کی تشکیل کا پہلا مدرسہ ہے۔ اگر خاندان کی اصلاح نہ ہو تو کوئی بھی تعلیمی یا معاشرتی نظام صالح انسان کی تربیت نہیں کر سکتا۔ بہت سے موجودہ معاشروں میں خاندان اپنے تربیتی کردار سے دور ہوگیا ہے۔
خاندان کی اصلاح کے سلسلے میں ضروری ہے کہ:
• والدین صرف معاشی ذمہ داری تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنے تربیتی کردار کی طرف بھی واپس آئیں،
• بچوں کو بچپن ہی سے دینی اقدار سکھائی جائیں،
• خاندان میں محبت، احترام اور نظم و ضبط کا ماحول پیدا کیا جائے،
• بچوں کو نامناسب ذرائع ابلاغ کے منفی اثرات سے محفوظ رکھا جائے۔
جو بچہ ایک صحت مند خاندان میں پروان چڑھے گا، وہ معاشرے میں بھی ایک مفید اور ذمہ دار انسان ہوگا۔
۴۔ مسلمانوں کے ذہنوں میں زندگی کے مقصد کی ازسرِنو تعمیر
اہم بحرانوں کے سلسلے میں سب سے زیادہ مؤثر بحران زندگی کے مقصد کا کھو جانا ہے۔ بہت سے لوگوں نے زندگی کو صرف دولت، مقام اور مادی لذتوں کے حصول تک محدود کر دیا ہے۔ اسلام نے زندگی کا مقصد واضح طور پر بیان کیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور عدل و ہدایت کی بنیاد پر زمین کو آباد کرنا ہے۔
اسی مقصد کو دوبارہ زندہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ:
• نظامِ تعلیم میں تخلیقِ انسان کے مقصد کی وضاحت کی جائے،
• سوچ کے زاویوں کو مادہ پرستی سے ذمہ داری پر مبنی فکر کی طرف منتقل کیا جائے،
• انسانوں میں خدمت کا جذبہ عبادت کے طور پر مضبوط کیا جائے،
• نوجوان نسل میں احساسِ رسالت کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔
جس معاشرے کے پاس کوئی مقصد ہو، وہ سرگردانی اور زوال کا شکار نہیں ہوتا۔
۵۔ دینی فکر کی انفرادی سطح سے تمدنی سطح تک اصلاح
ایک سنجیدہ مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے مواقع پر دین کو صرف انفرادی عبادات تک محدود کر دیا گیا ہے، حالانکہ اسلام ایک تمدنی نظام ہے۔
دینی فکر کی اصلاح کا مطلب یہ ہے کہ:
• اسلام کو صرف عبادت کے طور پر نہیں بلکہ زندگی کے ایک مکمل نظام کے طور پر سمجھا جائے،
• ایسے ہمہ جہت مفکرین تیار کیے جائیں جو دین کو بھی سمجھتے ہوں اور اپنے دور سے بھی واقف ہوں،
• شریعت کے محدود اور سطحی نقطۂ نظر سے گریز کیا جائے۔
یہ فکری تبدیلی امت میں ہر بڑے تحول کے لیے مقدمہ ہے۔ اگر اس کا مختصر نتیجہ اخذ کریں تو اس مرحلے میں امت کی اصلاح کی بنیادی جڑ “انسان کی ازسرِنو تعمیر” ہے۔ ایسے انسان کی تلاش ہونی چاہیے جس کا ایمان زندہ ہو، قرآن کو اپنی زندگی کا طریقۂ کار سمجھتا ہو، واضح مقصد رکھتا ہو اور جس نے خاندان اور معاشرے میں صحت مند تربیت حاصل کی ہو۔ اس فکری اور ایمانی اصلاح کے بغیر کسی بھی قسم کی سیاسی یا اقتصادی تبدیلی پائیدار اور دیرپا نہیں ہوگی۔




















































