بین الاقوامی سیاست کے شطرنج پر جب مہرے ہلائے جاتے ہیں تو اکثر اصولوں کے بجائے مفادات کی زبان بولی جاتی ہے۔ لیکن جب بیانیہ اصولوں کا ہو اور عمل خالصتاً مفادات کا تو ایک ایسا گہرا تضاد جنم لیتا ہے، جو کسی بھی ریاست کے سفارتی وقار کو خاک میں ملا سکتا ہے۔
اگست اور اکتوبر 2025 کے درمیان پاکستان کی طرف سے افغانستان کے ساتھ تعلقات کی بساط پر ایک ایسا ہی ڈراما دیکھنے کو ملا، جہاں پاکستانی فوجی و سیاسی اشرافیہ کے تضادات کھل کر دنیا کے سامنے آ گئے۔
کبھی ‘تزویراتی گہرائی’ کہلانے والا افغانستان آج پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک ایسا معمہ بن چکا ہے، جسے حل کرنے کی کوشش میں اسلام آباد خود اپنے ہی بُنے ہوئے جال میں پھنستا جا رہا ہے۔
کہانی کا آغاز اگست 2025 سے ہوتا ہے۔ افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کا دورۂ پاکستان طے پا چکا تھا۔ دونوں ممالک نے باقاعدہ اعلانات کر دیے تھے۔ اُس وقت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ‘1988 طالبان سینکشنز کمیٹی’ کی صدارت خود پاکستان کے پاس تھی۔ سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ کہتا ہے کہ اگر آپ کسی کے میزبان ہیں تو آپ اس کے لیے راستے آسان کرتے ہیں۔ پاکستان نے بطور چیئرمین افغان وزیرِ خارجہ کے عالمی سفری اجازت ناموں (Travel Waivers) کے لیے کاغذات تو تیار کیے، لیکن جب باری اپنے گھر میں اُن کا استقبال کرنے کی آئی تو عین وقت پر یہ دورہ منسوخ یا مؤخر کر دیا گیا۔
اس کی مثال یوں ہے، جیسے کوئی شخص اپنے مہمان کو دعوت نامہ بھیجے، اس کا ویزا بھی لگوائے، لیکن جب مہمان گھر کی دہلیز پر پہنچے تو اندرونی خاندانی جھگڑوں یا پڑوسی کے خوف سے دروازہ بند کر لے اور کہے کہ ‘ابھی وقت مناسب نہیں ہے’۔
اس منسوخی کے پیچھے پاکستانی فوج کا یہ دباؤ تھا کہ وہ عوام کو یہ دکھانا چاہتے تھے کہ تحریک طالبان پاسکتان کے معاملے پر کابل کے خلاف فوج کا موقف سخت ہے، لیکن فوج نے اپنے اسی چکر میں پاکستان کی سیاسی و سفارتی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا دیا۔
بعد ازاں اصل تضاد اُس وقت ایک طوفان کی شکل اختیار کر گیا، جب اکتوبر 2025 میں یہی افغان وزیرِ خارجہ چھ دن کے تاریخی دورے پر بھارت نئی دہلی پہنچ گئے۔ یہ وہی دورہ تھا، جس کے لیے سفری اجازت نامہ حاصل کرنے میں روس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی صدارت والی کمیٹی نے ہی سہولت کاری کی تھی۔
یعنی جس مہمان کو پاکستان اپنے ہاں روکنے سے ہچکچا رہا تھا، وہ پاکستان ہی کی صدارت میں ملنے والے پروانے کے زور پر پاکستان کے روایتی حریف بھارت کے ریڈ کارپٹ پر واک کر رہا تھا۔
اس منظر نامے نے پاکستان میں ایک شدید مایوسی اور جھنجھلاہٹ پیدا کر دی۔ ردِعمل میں پاکستانی فوج کی جو پریس کانفرنس سامنے آئی، اس کے سفارتی آداب کے پرخچے اڑے ہوئے تھے۔ فوجی ترجمان نے تاریخ کے اوراق سے غوری، غزنوی اور سومنات کے قصے نکال کر افغان انتظامیہ کو طعنہ دیا کہ ‘تمہارے آباؤ اجداد بت شکن تھے اور تم آج بت پروروں سے ہاتھ ملا رہے ہو’۔
یہ زبان کسی ایٹمی ریاست کے ذمے دار ادارے کی نہیں، بلکہ گلی محلے کے اُن بدتہذیب بچوں جیسی تھی، جو کھیل میں ہارنے کے بعد ذاتی حملوں اور طعنوں پر اتر آتے ہیں۔
یہیں پر پاکستانی اشرافیہ کا سب سے بڑا فکری تضاد کھل کر سامنے آتا ہے، جسے تین سادہ مثالوں سے سمجھا جا سکتا ہے…:
اگر غیر مسلم یا ہندوتوا نظریات رکھنے والی حکومت سے ہاتھ ملانا مذہبی طور پر گناہ یا تاریخ کے ساتھ غداری ہے تو پاکستان خود دہائیوں سے امریکا کا سب سے بڑا اتحادی رہا ہے۔ چین، جو کہ ایک باقاعدہ لا دین ریاست ہے، پاکستان کا ‘ہمالیہ سے اونچا اور شہد سے میٹھا’ دوست ہے۔ اگر پاکستانی فوج اپنے معاشی اور دفاعی مفاد کے لیے واشنگٹن اور بیجنگ سے پینگیں بڑھا اور 10 ارب ڈالر کی بھیک مانگ سکتی ہے تو ایک معاشی بحالی کا متقاضی افغانستان اپنی بقا کے لیے نئی دہلی یا ماسکو کی طرف کیوں نہیں دیکھ سکتا؟
پاکستانی فوجی اشرافیہ کا ایک بیانیہ یہ ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ لیکن دوسرا بیانیہ یہ ہے کہ وہ امارت اسلامی کو دنیا میں تسلیم کروانے کے لیے اقوامِ متحدہ کے فورمز پر وکالت بھی کرتی رہی ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے، جیسے کوئی شخص دن کے وقت عدالت میں کسی ملزم کی ضمانت کے لیے جج کے سامنے اُلٹی سیدھی دلیلیں ہانکے اور رات کو ٹی وی پر آ کر اسی ملزم کو دنیا کا سب سے بڑا مجرم قرار دے کر پھانسی کا مطالبہ کرے۔
پاکستان کا ایک پاؤں واشنگٹن کی دہلیز پر ہوتا ہے، جہاں سے اسے IMF کے قرضے اور عالمی مدد چاہیے اور دوسرا پاؤں خطے کی زمین پر ہے، جہاں اسے افغانستان اور چین سے تعلقات کی مجبوریاں درپیش ہیں۔ اس جیو پولیٹیکل دباؤ کی وجہ سے جب بھی امریکا کی طرف سے گھور کر دیکھا جاتا ہے، پاکستانی فوج امارت اسلامی سے فاصلہ بڑھا لیتی اور جب اندرونی سکیورٹی بگڑتی ہے تو سارا ملبہ کابل پر ڈال دیا جاتا ہے۔
پاکستانی فوجی و سیاسی اشرافیہ کے ان تضادات نے پاکستانی خارجہ پالیسی کو ایک تماشہ بنا دیا ہے۔ دنیا اب اسلام آباد کے بیانیے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی، کیوں کہ سب کو معلوم ہے کہ یہاں اصولوں کی کوئی مستقل بنیاد نہیں ہے۔ جب آپ جذبات، مذہب اور تاریخ کا سہارا لے کر سستی شہرت اور داخلی بیانیہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو بین الاقوامی جیو پولیٹکس کے سخت حقائق آپ کو آئینہ دکھا دیتے ہیں۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بیس سال تک جس افغانستان کو پاکستان نے اپنی ‘تزویراتی گہرائی’ سمجھا، وہ آج سفارتی و تجارتی طور پر بھارت سمیت آس پاس کی دنیا سے اس سے بھی زیادہ قریب ہے، جتنا کہ پاکستان خود جغرافیائی طور پر افغانستان کے قریب ہے۔
اور پاکستانی فوج اس پورے کھیل میں خود کو تنہا اور اپنے ہی بیانیے کے تضادات میں جکڑی ہوئی محسوس کر رہی ہے۔




















































