داعش، زوال پذیر جمہوری نظام کے فرار شدہ عناصر اور پاکستانی فوجی رجیم وہ نام ہیں جن کی بنیاد شیطنت، مسلمانوں سے دشمنی اور کفری دنیا کے مقاصد کے حصول کے لیے رکھی گئی ہے۔
ہر وہ شخص جو مسلمانوں کے متفقہ اور برحق امیر کے خلاف خروج کرے اور اس کی اطاعت سے انکار کرے، اسے خارجی کہا جاتا ہے، خواہ وہ صحابۂ کرامؓ کے زمانے میں خلفائے راشدین کے مقابلے میں نکلا ہو، یا تابعین اور ان کے بعد آنے والے دیگر امیروں کے مقابلے میں نکلا ہو یا نکلے۔ (شیطان کا لشکر، ص ۲۸)
خوارج پیدائش سے لے کر آج تک اسلام، اسلامی نظام، اسلامی شعائر، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آج تک مسلمانوں کے تمام امیروں کے مقابلے میں گستاخ اور دشمن رہے ہیں۔ یہ اسلامی تاریخ میں ظاہر ہونے والا پہلا بدعتی اور گمراہ گروہ ہے۔ خارجی سوچ اور فکر کا وجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہی سامنے آ گیا تھا۔ ذوالخویصرہ تمیمی یا حرقوص بن زہیر سعدی، روایات کے اختلاف کے مطابق، پہلا خارجی تھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گستاخی کی۔ (شیطان کا لشکر، ص ۲۰-۲۱)
داعش اپنی انتہاپسندانہ فکر اور تشدد کی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان وسیع پیمانے پر قتل و غارت اور خوف کا سبب بنی ہے۔ ان کے حملوں سے اکثر شہری، مساجد اور عوامی مقامات بھی متاثر ہوئے ہیں، ان کی کارروائیاں اسلام کا نام استعمال کرکے کی جاتی ہیں، لیکن ان کی پالیسی اور اعمال مکمل طور پر اسلام سے متصادم ہیں۔
اس شیطانی گروہ (داعش) کو اپنے مذموم مقاصد تک پہنچانے کے لیے اسی پاکستان کو منتخب کیا گیا ہے، پاکستانی فوجی رجیم، جو کفری سازشوں کو نافذ کرنے والی ہے، اپنے مفادات کے حصول کے لیے ہر چیز سے گزر سکتی ہے۔ انہوں نے ہمیشہ دوسروں کے لیے افغانستان میں بحران، بدامنی، ظلم اور وحشت کو ہوا دی ہے، جب بھی افغانستان پر قبضہ ہوا، انہوں نے افغانستان کے معاملے میں قابضین سے باج لیا، ان کے ساتھ فضائی اور زمینی تعاون کیا اور محض مسلمان کے نام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جھوٹے تعاون کا دعویٰ کیا اور افغانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی۔
ایک اور بات یہ ہے کہ فوجی رجیم نے اپنی بقا کی باگیں ہاتھ سے کھو دی ہیں، انہوں نے اپنے لوگوں پر ظلم کا دائرہ اس قدر تنگ کر دیا ہے کہ ہر فرد اب اس کے مقابلے میں کوئی نہ کوئی اقدام کرنے پر مجبور ہے۔ فوجی رجیم کے خلاف ملک کے اندر وسیع مخالفتیں اٹھ کھڑی ہوئی ہیں، مختلف گروہ، اپوزیشن، ٹی ٹی پی اور بلوچ آزادی پسند ان کے لیے بڑا دردِ سر بن گئے ہیں۔ وہ اس صورتِ حال سے نجات حاصل کرنے کے لیے افغانستان کو نشانہ بناتے ہیں، بعض اوقات افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہیں، فرضی سرحد کے قریب علاقوں پر توپیں چلاتے ہیں یا شریر گروہوں کے لیے راستہ ہموار کرتے ہیں تاکہ انہیں افغانستان میں داخل کریں۔
وہ یہ کام اس مقصد کے لیے کرتے ہیں کہ اپنے لوگوں کی اپنی کمزور حکومت کے بارے میں ذہنیت تبدیل کریں، داخلی مسائل پر پردہ ڈالیں، لوگوں کو بنیادی مشکلات سے بے خبر رکھیں اور ان مطالبات سے، جو ان کے اپنے لوگ ان سے کرتے ہیں، توجہ ہٹا دیں۔
فوجی رجیم نے ایک اور نکتہ بھی منتخب کیا ہے اور اسے پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرتی ہے، وہ یہ کہ وہ افغانستان کو بھارت کا آلہ کار قرار دیتے ہیں اور اس کے ذریعے اپنے لوگوں کو یہ دکھاتے ہیں کہ گویا افغانستان بھارت اور ٹی ٹی پی کے مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان میں مداخلت کر رہا ہے، اور اس طرح اپنے لوگوں کو جذباتی کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ سب ایسی باتیں ہیں جن کا کوئی امکان بھی نہیں۔
اس کے علاوہ سابقہ جمہوری نظام کے کچھ باقی ماندہ شریر عناصر بھی ہیں، جو افغانستان کی موجودہ صورتِ حال کی مخالفت کے لیے داعش اور پاکستان کے فوجی رجیم کے ساتھ ایک مشترکہ نیٹ ورک میں کام کرتے ہیں، اسی لیے ’’شیطانی مثلث‘‘ کے تجزیے کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر مختلف گروہوں کے مقاصد، تشہیری مؤقف یا علاقائی مفادات کسی ایک نقطے پر ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، تو یہ بذاتِ خود ان کے درمیان براہِ راست تعاون کا قطعی ثبوت ہے۔
فرار شدہ جمہوری نظام کے باقی ماندہ عناصر میں سے اگست ۲۰۲۱ء میں جمہوری نظام کے سقوط کے بعد، اس نظام کے بہت سے اعلیٰ عہدیدار، سیاسی شخصیات، سکیورٹی اہلکار اور دیگر ملازمین افغانستان سے نکل گئے اور مختلف ممالک میں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، مقیم ہو گئے۔
سقوط کے بعد سابقہ جمہوری نظام کی بعض سیاسی شخصیات نے نئی صورتِ حال کے خلاف سیاسی مخالفت جاری رکھی، اور پاکستان نے بھی اپنے مذموم مقصد کے تحت اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہی شریر عناصر کو منظم کرنا شروع کیا، ان کے لیے کیمپ قائم کیے، انہیں فوجی اور تشہیری شعبے میں استعمال کرنے کے لیے تربیت دی، فرضی سرحد کے قریب ان کے لیے چوکیاں اور حتیٰ کہ پوسٹیں بھی قائم کیں، اور بالآخر اب عملاً انہیں افغانستان کے مقابلے میں استعمال کر رہا ہے۔
مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ فوجی رجیم ان تمام پہلوؤں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی بقا برقرار رکھنے کے لیے ہر قسم کے شریر عناصر کی موجودگی کا خیرمقدم کرتی ہے، دنیا کے سامنے خود کو دہشت گردی کا شکار ظاہر کرتی ہے، اسی نام پر عالمی برادری سے پیسے اور باج وصول کرتی ہے، لیکن حقیقت میں دہشت گرد، دہشت گردوں کو تربیت دینے والی اور دہشت گردوں کی معاون یہی فوجی رجیم ہے۔


















































