مقدس اسلام نے اپنے ظہور سے لے کر آج تک ایسے پیروکار تیار کیے ہیں جن کے نزدیک اسلام، اس کے الٰہی احکام اور اس کے مقدس نظام سے بڑھ کر کوئی چیز اہم اور قیمتی نہیں۔ ان پیروکاروں نے اپنے خالق پر کامل توکل کرتے ہوئے ہر دور کے ظالموں اور سرکشوں پر، خواہ وہ ماضی میں تھے یا آج ہیں، ثابت کر دیا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت انہیں اسلامی نظام اور اسلامی حکومت کے دفاع سے باز نہیں رکھ سکتی۔
جب ہم مسلمانوں اور کفار کے درمیان پیش آنے والے تاریخی واقعات کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دشمنوں نے متعدد مواقع پر مسلمانوں کی شجاعت اور بہادری کا اعتراف کیا ہے اور خود مسلسل ذلت آمیز شکستوں سے دوچار ہوئے ہیں۔ اسی طرح ایک اور قوم، جس نے کبھی بھی غیر ملکی تسلط اور حکمرانی کے سامنے سر نہیں جھکایا، افغانستان کی بہادر عوام ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جس نے تاریخ کے مختلف ادوار میں امن اور بحران دونوں کا سامنا کیا، مگر نہ کبھی کسی کافر یا جابر طاقت کی غلامی قبول کی اور نہ آئندہ کبھی قبول کرے گی۔ جارح امریکہ اور نیٹو آخری حملہ آور تھے جنہیں شکست اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔
آج مختلف مراحل سے گزرنے اور اسلامی نظام کے قیام کے بعد، معاشرے کی اہم ترین ضرورتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اختلافات کی فضا سے نکل کر استحکام، اصلاح اور تعمیر و ترقی کی راہ اختیار کی جائے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے انسانوں کے درمیان رائے کا اختلاف ایک فطری امر ہے، تاہم اسلامی شریعت نے اختلاف کے لیے ایسے اصول و ضوابط مقرر کیے ہیں کہ وہ دشمنی، تفرقے اور معاشرے کے لیے نقصان کا باعث نہ بنے۔ اس لیے بنیادی مقصد دین، اسلامی نظام، عوام کی جان و مال، معاشرے کے امن اور اجتماعی مفادات کا تحفظ ہونا چاہیے۔
ایک مومن کو صرف جذبات، تعصب یا محدود فہم کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرنے چاہییں بلکہ حقائق، وقت کے تقاضوں اور ہر اقدام کے نتائج کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ﴾ (المائدہ: 8)
ترجمہ: "اے ایمان والو! اللہ کے لیے انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو اور عدل کے ساتھ گواہی دو۔”
اسی طرح اسلام کی عظیم تعلیمات میں سے ایک مسلمانوں کے اتحاد کا تحفظ بھی ہے۔ امت مسلمہ کے تاریخی تجربات نے ثابت کیا ہے کہ داخلی اختلافات اور تفرقہ ہمیشہ کمزوری اور نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ﴾ (الأنفال: 46)
ترجمہ: "آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم کمزور ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔”
اگر اختلاف اخلاق اور شریعت کے دائرے سے نکل جائے تو وہ نہ صرف مسائل کا حل نہیں بنتا بلکہ عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیتا ہے۔ اسی لیے ہر فیصلہ معاشرے کے اتحاد اور قوم کے مستقبل کو پیش نظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔ اسلام اپنے پیروکاروں کو اصلاح کی دعوت دیتا ہے، لیکن اسلام میں اصلاح ہمیشہ حکمت، علم اور درست طریقۂ کار کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔ اختلافِ رائے اور تنقید اگر خیرخواہی اور اصلاح کی نیت سے ہو تو مفید ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اگر وہ انتشار، بدامنی اور عوام کو نقصان پہنچانے کا ذریعہ بن جائے تو اس سے کوئی مطلوبہ نتیجہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ خصوصاً ایسے لوگ جو آج صرف مغربی مقاصد کی تکمیل اور اپنی ذاتی خواہشات اور بے راہ روی کے لیے اختلاف اور تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
افغانستان طویل عرصے تک جنگوں اور بدامنی کا شکار رہا ہے۔ اس دوران سب سے زیادہ نقصان عام لوگوں نے اٹھایا: بے شمار خاندان غم و اندوہ میں مبتلا ہوئے، ترقی کے مواقع ضائع ہوئے اور ملک کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
عقل اور شریعت دونوں کا تقاضا ہے کہ انسان ماضی کے تجربات سے سبق حاصل کرے۔ ان راستوں کو دوبارہ اختیار کرنا جن کا انجام درد، مصیبت اور تباہی تھا، مستقبل کے مسائل کا حل نہیں ہو سکتا۔
اسلامی شریعت میں انسانی جان کا تحفظ دین کے عظیم مقاصد میں سے ایک ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے متعدد ارشادات میں مسلمانوں کے خون اور مال کی حرمت پر زور دیا ہے۔
معاشرہ اسی وقت ترقی کر سکتا ہے جب لوگ امن کے ساتھ زندگی گزاریں، بچے تعلیم حاصل کریں، معیشت ترقی کرے اور عوام کی خدمت کے مواقع فراہم ہوں۔ کوئی بھی مقصد بے گناہ لوگوں کو نقصان پہنچانے کا جواز نہیں بننا چاہیے۔ افغانستان صرف باہمی تعاون، علم، مہارت اور معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ علماء، اہلِ علم، نوجوان اور سماجی شخصیات، سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اجتماعی بھلائی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
اختلافِ رائے اپنی جگہ موجود ہو سکتا ہے، لیکن دائمی دشمنی کسی مسئلے کا حل نہیں۔ جو معاشرہ اپنے اختلافات کو عقل، شریعت اور باہمی گفت و شنید کے ذریعے سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہو، وہی ترقی اور استحکام کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ مختلف آراء رکھنے والے تمام افراد کے لیے پیغام یہ ہے کہ بڑے مسائل جذبات اور تصادم سے نہیں بلکہ علم، حکمت، صبر اور اجتماعی مفادات کو پیش نظر رکھ کر حل کیے جاتے ہیں۔
اسلام مسلمانوں کو عدل، اخوت، اصلاح اور فتنے سے بچنے کی تلقین کرتا ہے، لیکن افسوس کہ آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اسلامی نظام کو گرانے اور مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ ان سابق حملہ آوروں اور جابر طاقتوں سے عبرت حاصل کریں جو غرور اور تکبر کے ساتھ اس سرزمین پر آئے تھے، مگر آخرکار شکست، ذلت اور رسوائی کا سامنا کرتے ہوئے یہاں ٹھہرنے کے بجائے فرار کو ترجیح دینے پر مجبور ہو گئے۔




















































