افغانستان پر پاکستانی رجیم کے فضائی حملے اور ملک کی فضائی حدود اور زمینی سالمیت کی خلاف ورزی دہشت گرد گروہوں کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں کی جا رہی، بلکہ پاکستانی فوجی جرنیل ان آمرانہ، ظالمانہ اور غیرمنطقی اقدامات کے ذریعے اپنے ملک میں جاری بحرانوں، سیاسی تبدیلیوں اور داخلی بدامنی سے عوامی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس وقت پاکستان کے گوشے گوشے میں بدامنی اور بے ثباتی پھیلی ہوئی ہے۔ اس ملک کے مختلف سماجی طبقات اس ناکام اور فرسودہ نظام کی پالیسیوں سے تنگ آ چکے ہیں اور بے صبری سے اس نظام کے خاتمے کے منتظر ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستانی رجیم اپنی ہی سرزمین پر معمول کا امن و امان قائم رکھنے میں ناکام ہو چکi ہے، ایسے میں افغانستان کا مقابلہ کرنے کے دعوے تو بہت دور کی بات ہیں۔
ہر ملک کی مسلح افواج اپنے شہریوں اور اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے تشکیل دی جاتی ہیں، نہ کہ پاکستانی رجیم کی طرح اپنے ہی عوام کا سکون، خوشحالی اور تحفظ چھیننے کے لیے۔ آج اس غیر مستحکم نظام کی وجہ سے پاکستان کا کوئی بھی شہری خود کو محفوظ اور پُرسکون محسوس نہیں کرتا، لیکن اس کے باوجود اپنی داخلی مشکلات کا بوجھ دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا مسئلہ کئی برسوں سے پاکستان کو درپیش اہم سکیورٹی چیلنجز میں شمار ہوتا ہے۔ اس گروہ کی جڑیں، تنظیمی ڈھانچہ اور سرگرمیوں کی بنیاد خود پاکستان کے داخلی حالات میں موجود ہے۔ اسی لیے اس مسئلے کا حل سب سے پہلے پاکستان کی داخلی، سکیورٹی اور سماجی پالیسیوں میں اصلاحات اور مؤثر نظم و نسق کا متقاضی ہے۔
اپنے داخلی مسائل کی ذمہ داری دوسرے ممالک پر ڈال دینا، جبکہ نہ کوئی واضح ثبوت موجود ہو اور نہ ہی حقیقی علاقائی تعاون، کبھی بھی کسی پائیدار حل کا باعث نہیں بن سکتا۔ مسلح گروہوں کے خلاف مؤثر جدوجہد کے لیے باہمی ہم آہنگی، خلوصِ نیت اور انتہاپسندی کے جنم لینے اور مضبوط ہونے کے اسباب کے خلاف ہر پہلو سے جدوجہد ناگزیر ہے۔
اس رجیم کو یہ حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ وہ افغانستان کے عوام کے صبر و تحمل سے ناجائز فائدہ نہیں اٹھا سکتi، کیونکہ ہم ان بہادر آباؤ اجداد کے وارث ہیں جن کی شجاعت، غیرت اور قابلِ فخر تاریخی روایت دنیا پر عیاں ہے۔ آخر میں، خطے میں استحکام اور امن کے قیام کا بہترین راستہ یہی ہے کہ پاکستانی رجیم اپنی غیر دانشمندانہ کارروائیوں سے باز آئے، بے بنیاد الزامات لگانے کے بجائے اپنی ذمہ داریوں کو تسلیم کرے اور اپنے داخلی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔




















































