جب ہم آج دنیا کے حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو دل مایوس سا ہونے لگتا ہے۔ ایک طرف کفریہ دنیا کی مادی ترقی، ٹیکنالوجی، میڈیا، معیشت اور ہتھیاروں کا غرور ہے، اسلام کے خلاف ان کے مسلسل منصوبے، سازشیں اور مکر و فریب ہیں، تو دوسری طرف مسلمانوں کی دنیا ہے کہ جہاں مادی ترقی، ٹیکنالوجی، میڈیا اور ہتھیاروں میں تو حالت کمزور ہے ہی، بلکہ حالت یہاں تک پہنچی ہے کہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو صبح و شام کھانے پینے کے بندوبست میں لگی رہتی ہے۔ مزید یہ کہ پورے مسلمانوں کا ڈھانچہ بکھرا پڑا ہے، جہاں اتحاد اور اتفاق کا نام و نشان تک نہیں۔ بس ایک مٹھی بھر جوانانِ اسلام حق کا علم بلند کیے کفر کے خلاف برسرِ پیکار ہیں، جنہیں اپنے ہی مسلمان دہشت گرد سمجھتے ہیں یا پھر ان کی ظاہری حالت کو دیکھ کر یہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ کافروں کا کیا مقابلہ کریں گے جو ہر قسم کی طاقت سے لیس ہیں۔
نتیجتاً ان کی مالی مدد سے بھی گھبرا کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں کہ کہیں ہم بھی ان کے ساتھ قتل نہ کر دیے جائیں۔
لیکن ان مسلمانوں کو ذرا قرآن کی طرف رجوع کرنا چاہیے کہ قرآن کیا کہتا ہے؟ قرآن پکار کر کہتا ہے کہ نہیں، یہ چمک دمک عارضی ہے، اور کفر کی یہ ساری تعمیر دراصل ریت کی دیوار ہے۔ ان کی طاقتیں مکڑی کے جالے کی مانند ہیں، جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ، اِتَّخَذَتْ بَیْتًا، وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ، لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ
[سورۃ العنکبوت: 41]
ترجمہ: جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا سہارا بنا رکھا ہے، ان کی مثال مکڑی جیسی ہے جس نے ایک گھر بنا لیا، حالانکہ سب گھروں سے کمزور گھر مکڑی کا ہی ہوتا ہے، کاش وہ یہ بات سمجھتے۔
اور جب یہ کمزور جالے ٹوٹتے ہیں تو وہی لمحہ اہلِ ایمان کے لیے فتح کا لمحہ بنتا ہے، اس لیے اگلی آیت میں اللہ اہلِ ایمان کو قریب فتح کی خوشخبری سناتے ہیں:
نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ [سورۃ الصف: 13]
ترجمہ: اللہ کی طرف سے مدد آئے گی اور فتح بہت قریب ہوگی۔
اور یہ فتح تعداد اور اسلحے کی کثرت سے نہیں بلکہ اللہ کی تائید سے ملتی ہے، جیسا کہ تاریخ گواہ ہے کہ قلت بھی کثرت پر غالب آجاتی ہے:
كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ [سورۃ البقرۃ: 249]
ترجمہ: کتنی ہی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک چھوٹی سی جماعت اللہ کے حکم سے بڑی بڑی جماعتوں پر غالب آگئی۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ میدان میں دو تدبیریں چل رہی ہوتی ہیں، ایک باطل کی چال اور دوسری اللہ کی تدبیر، اور آخر میں چلتی صرف اللہ کی تدبیر ہے:
اِنَّهُمْ یَكِیْدُوْنَ كَیْدًا، وَّ اَكِیْدُ كَیْدًا [سورۃ الطارق: 15-16]
ترجمہ: یہ لوگ خفیہ چالیں چل رہے ہیں، اور میں بھی اپنی خفیہ تدبیر کر رہا ہوں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرعون اور موسیٰ کا قصہ سناتا ہے۔ فرعون اس وقت کی سپر پاور تھا۔ اس کے پاس اقتدار تھا، دولت تھی، فوج تھی، اور اسے اپنی ترقی اور ٹیکنالوجی پر وہی گھمنڈ تھا جو آج کی کفریہ دنیا کو ہے۔
اس نے بنی اسرائیل کو ختم کرنے کے لیے کیا منصوبہ بنایا؟ ہر پیدا ہونے والے بچے کو قتل کر دو تاکہ موسیٰ پیدا ہی نہ ہو سکے۔ بظاہر منصوبہ مکمل تھا، کوئی کمی نہیں تھی۔
لیکن اللہ کی تدبیر دیکھیں! اللہ نے اسی موسیٰ کو جس کے ڈر سے وہ بچوں کو قتل کر رہا تھا، اسی فرعون کے محل میں، اسی کی گود میں پال کر دکھایا۔ وہی بچہ جو اس کی سلطنت کے خاتمے کا سبب بننا تھا، وہ اس کے اپنے گھر میں پروان چڑھ رہا تھا۔
یہ اللہ کا طریقہ ہے۔ وہ باطل کو مہلت دیتا ہے، اسے اپنے منصوبوں میں مست کر دیتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ سمجھتا ہے کہ اب میں کامیاب ہو گیا، تو اللہ کی ایک تدبیر اس کے سارے منصوبوں کو تہس نہس کر دیتی ہے۔
آج بھی صورتِ حال وہی ہے۔ آج کے فرعونوں کو بھی اپنی AI، اپنے ڈرونز، اپنی معیشت، اپنے میڈیا اور اپنے عالمی اداروں پر بڑا ناز ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اسلام کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے۔ تعلیمی نظام، معاشی نظام اور میڈیا کے ذریعے مسلمانوں کی نئی نسل کو دین سے دور کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔
لیکن وہ بھول گئے ہیں کہ تدبیر تو صرف اللہ کی چلتی ہے۔
اور اسی لیے جب معاملہ میدانِ جنگ تک پہنچتا ہے تو ان کی اسی اندرونی کمزوری کا پردہ چاک ہوجاتا ہے، کہ بظاہر متحد نظر آنے والے یہ لشکر درحقیقت بزدل اور منتشر ہیں، یہی وجہ ہے کہ میدانِ جنگ معرکۂ حق و باطل میں ان کی حالت کو اللہ تعالیٰ یوں بیان فرماتے ہیں:
لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًی مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ، بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ، تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰی[سورۃ الحشر: 14]
ترجمہ: یہ لوگ تم سے کھل کر کبھی جنگ نہیں کریں گے، بلکہ ہمیشہ مضبوط قلعوں میں چھپ کر یا دیواروں کی آڑ سے لڑیں گے۔ ان کی آپس کی دشمنی بہت سخت ہے، تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو حالانکہ ان کے دل الگ الگ اور پھٹے ہوئے ہیں۔
اور اس سارے معرکے کے بعد جو انجام سامنے آتا ہے وہ طے شدہ ہے، کہ ظاہری قلعے اور دیواریں نہیں بلکہ تقویٰ ہی باقی رہتا ہے:
وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ [سورۃ الاعراف: 128]
ترجمہ: اور آخری کامیابی ہمیشہ پرہیزگاروں اور اللہ سے ڈرنے والوں ہی کے لیے ہے۔
لہٰذا مسلمان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ مایوسی کفر ہے۔ مسلمان کا کام منصوبوں کا غم کرنا نہیں، اپنا فرض ادا کرنا ہے۔ اور وہ کیا ہے؟ ان کافروں کے خلاف میدانِ جنگ میں کود کر ان کے خلاف مسلح مزاحمت کرنا۔ باقی نتیجہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ دیکھیں! فرعون کے مقابلے میں موسیٰ کو صرف اپنا عصا پھینکنے کا حکم تھا، نتیجہ اللہ نے خود پیدا کیا۔
و ما علینا الاالبلاغ



































