افغانستان، یہ قدیم اور تاریخی سرزمین، کئی دہائیوں سے اس ہمسایہ ملک کی سیاسی چالوں اور توسیع پسندی کی قربانی بنتا آ رہا ہے جو خود کو بھائی کہتا ہے، لیکن عملاً ہمیشہ پیٹھ میں چھرا گھونپتا رہا ہے۔ پاکستانی فوجی رجیم، جس کی مداخلت، دباؤ اور جرائم کی ایک بدترین تاریخ ہے، ہمیشہ یہ کوشش کرتی رہی ہے کہ افغانستان کو اپنے اثر و رسوخ کا خصوصی علاقہ بنا دے اور اپنی مذموم پالیسیاں اس ملک پر مسلط کرے۔ پاکستان نے اپنے قیام کے وقت سے ہی افغانستان کو ایک خودمختار اور برادر ملک کے طور پر نہیں، بلکہ اپنی ’’اسٹریٹیجک گہرائی‘‘ کے طور پر دیکھا ہے۔ اس منحرف سوچ کی جڑیں تنازعات اور بے بنیاد دعوؤں میں پیوست ہیں، جن سے اسلام آباد نے کبھی دست برداری اختیار نہیں کی۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سابقہ جمہوری حکومت نے پاکستان کے مسلسل دباؤ کے باعث اس رجیم کے بہت سے مذموم مقاصد تسلیم کر لیے تھے اور کسی حد تک اسلام آباد کی سیاسی یرغمال بن چکی تھی۔ لیکن امارت اسلامیہ کے برسرِ اقتدار آنے اور افغان قوم کی عظیم فتح کے بعد یہ سازشیں یکے بعد دیگرے ناکام ہو گئیں اور فوجی رجیم کے ناپاک ہاتھ افغانستان کے سیاسی معاملات سے دور ہو گئے۔
امارت اسلامیہ کے برسرِ اقتدار آنے کے ساتھ افغانستان اب وہ کمزور اور دباؤ کا شکار ملک نہیں رہا تھا جس میں کوئی بھی بیرونی طاقت مداخلت کر سکتی ہو۔ یہ حکومت، جو عوام کی حمایت، آزادانہ فیصلوں اور خودمختار مؤقف پر قائم ہے، تمام بیرونی سازشوں کو ملک سے دور رکھنے میں کامیاب ہوئی اور کسی بھی ملک کو اس بات کی اجازت نہیں دی کہ وہ اس سرزمین پر اپنی پالیسیاں نافذ کرے۔ پاکستان، جو برسوں تک افغان حکومت اور عوام پر دباؤ ڈال کر اپنے مقاصد آگے بڑھاتا رہا تھا، اچانک خود کو بے بس محسوس کرنے لگا۔ یہ بڑی شکست پاکستانی فوجی رہنماؤں کے لیے، جنہوں نے افغانستان میں مداخلت کو اپنا معمول بنا لیا تھا، قابلِ قبول نہیں تھی۔
اسی وجہ سے احساسِ حقارت اور افغانستان میں سیاسی معاملات کے میدان سے اپنے ناپاک ہاتھوں کے دور ہو جانے کے باعث پاکستانی فوجی رہنما غصے میں آ گئے اور انہوں نے نہتے عوام کے خلاف ظالمانہ حملوں کا راستہ اختیار کیا۔ افغانستان کے بعض علاقوں پر پاکستان کے توپ خانے اور فضائی حملے، جن کے نتیجے میں بارہا بے گناہ خواتین اور بچوں کی شہادتیں ہوئی ہیں، جنگی جرائم کی واضح مثال ہیں۔ یہ حملے نہ صرف افغانستان کی قومی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ انسانیت کے خلاف جرم بھی شمار ہوتے ہیں۔
داعش کے دہشت گرد گروہوں کے ساتھ تعاون، شر و فساد پھیلانے اور افغانستان میں بدامنی پیدا کرنے کے ذریعے پاکستانی فوجی رجیم نے اس ملک کے استحکام کو نشانہ بنانے اور اس قوم کا خون بہانے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کی پالیسیاں امریکہ اور اسرائیل جیسے ممالک کے مفادات سے وابستہ ہیں۔ اسلام آباد خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کے محافظ ’’ژاندارم‘‘(Gendarme) کے طور پر ذمہ داری ادا کرتا ہے، تاکہ ایشیا میں ان طاقتوں کے مقاصد کو آگے بڑھائے اور کسی نہ کسی صورت میں اپنے آقاؤں کی خدمت کرے۔ لیکن امارت اسلامیہ کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد وہ مزید افغانستان میں اپنی دشمنانہ اور مجرمانہ پالیسیاں آگے بڑھانے کے قابل نہیں رہا۔ اس ناکامی نے پاکستانی رہنماؤں کو غصے میں مبتلا کر دیا اور انہیں بزدلانہ حملوں پر آمادہ کیا۔
پاکستان، جو خود کو خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کا عملی بازو سمجھتا ہے، امارت اسلامیہ کے سامنے اپنی شکست تسلیم نہیں کر سکتا, اسی لیے وہ افغان عوام کے خلاف ظالمانہ جرائم کا ارتکاب کرتا ہے۔ لیکن ظلم اور جرم، جلد یا بدیر، ظالم ہی کا دامن پکڑتے ہیں۔ آج پاکستان میں اس ظلم کے اثرات وسیع پیمانے پر دکھائی دے رہے ہیں۔ اقتصادی بحران اور بدامنی سے لے کر عوامی احتجاجی مظاہروں تک، یہ سب اس رجیم کی ظالمانہ پالیسیوں کے برے نتائج کی نشانیاں ہیں۔ پاکستانی عوام بھی اپنی فوج کی پالیسیوں کا شکار ہوئے ہیں اور ان مظالم نے پاکستان کے لوگوں کے دلوں میں غصے کی آگ بھڑکا دی ہے۔
پاکستانی فوجی رجیم کو سمجھ لینا چاہیے کہ ظلم اور جرائم ہمیشہ باقی نہیں رہتے۔ افغان قوم، جو اپنے ایمان اور آزادی پر بھروسا رکھتی ہے، اس دباؤ کے سامنے ثابت قدم کھڑی ہے اور کوئی بھی بیرونی طاقت اس کے عزم کو توڑ نہیں سکتی۔ اسلام آباد کو اپنی دشمنانہ پالیسیوں سے دست بردار ہو جانا چاہیے اور دشمنی کے بجائے پُرامن ہمسائیگی کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ بصورتِ دیگر، ظلم کی وہ آگ جو اس نے خود بھڑکائی ہے، اس کے اپنے دامن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
آج افغانستان امارت اسلامیہ کی قیادت میں تمام بیرونی سازشوں کا راستہ روکنے میں کامیاب ہو چکا ہے اور کسی بھی ملک کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اس سرزمین پر اپنی پالیسیاں نافذ کرے۔ یہ عظیم کامیابی پاکستانی رہنماؤں کے لیے ایک بڑی شکست ہے اور وہ احساسِ حقارت کے باعث اپنے جرائم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ یہ جرائم ہمیشہ جاری نہیں رہیں گے اور بہت جلد ان کے نتائج خود انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی سلطنت ظلم کے ذریعے ہمیشہ قائم نہیں رہ سکی اور پاکستان بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں ہے۔


















































