اسلامی نظام کے فوائد کے سلسلے میں کچھ اور فوائد بھی ہیں، جن کا ذکر درج ذیل ہے:
۵: اسلامی نظام عالمی نظام ہے
اسلام کا پیغام ایک عالمی پیغام ہے جو تمام انسانیت، قوموں، سماجی طبقات اور ذمہ داریوں کے لیے ہے۔ یہ کسی مخصوص دور، خاص گروہ یا زمانے تک محدود نہیں، بلکہ یہ انسان کے لیے ایک مکمل نظام حیات ہے جو قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کے لیے آیا ہے۔
اسلام چاہتا ہے کہ مسلمان ایک عالمی اسلامی نظام قائم کریں جو امت واحدہ کے طور پر ہو، اور یہ مشترکہ کام، اتحاد اور اطاعت کے ذریعے ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے مختلف آیات میں یہ حقیقت واضح کی کہ اسلامی نظام ایک عالمی نظام ہے:
۱: قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا
ترجمہ: کہو، اے لوگو! میں تم سب کے لیے اللہ کا رسول ہوں۔ (الأعراف: ۱۵۸)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں کے لیے مبعوث کیے گئے ہیں، نہ کہ صرف ایک مخصوص گروہ کے لیے۔
۲: وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ
ترجمہ: مجھے یہ قرآن وحی کے ذریعے دیا گیا تاکہ میں اس کے ذریعے تمہیں اور ہر اس شخص کو متنبہ کروں جس تک یہ پہنچے۔ (الأنعام: ۱۹)
۳: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
ترجمہ: ہم نے تمہیں تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔
۴: وَمَا هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ
ترجمہ: یہ قرآن تمام عالم کے لیے نصیحت اور پند ہے۔
اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً
ترجمہ: پہلے انبیاء اپنی قوموں کے لیے خاص طور پر بھیجے جاتے تھے، لیکن میں (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) تمام انسانیت کے لیے مبعوث کیا گیا ہوں۔
چونکہ اسلام ایک جامع اور کامل نظام ہے، اس لیے یہ نسخ، تبدیلی یا تغیر کو قبول نہیں کرتا۔ اس کی یہ تقاضا ہے کہ عقل کے مطابق ہر دور اور ہر جگہ میں قابل عمل ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہودیت اور نصرانیت کے بارے میں، جو بنی اسرائیل تک محدود ہیں، فرمایا:
فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولَا إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ
ترجمہ: فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم رب العالمین کے رسول ہیں، بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ رخصت کر۔
اسلام صرف ایک علاقے یا ایک زمانے کے لیے نہیں آیا، بلکہ یہ تمام انسانیت کے لیے ہے۔ اس کا سیاسی نظام بھی عالمی، جامع اور ہمیشہ کے لیے بنایا گیا ہے، کیونکہ تمام انسان ایک خدا کے بندے ہیں اور سب کو اس کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔
۶: اسلامی نظام متوازن اور معتدل نظام ہے
اسلام کی ایک خاص صفت اس کا توازن اور اعتدال ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ
ترجمہ: ہم نے تمہیں معتدل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔ (البقرہ: ۱۴۳)
اسلام ایک معتدل دین ہے، خواہ وہ عقیدے، عبادات، اخلاق، سماجی اقدار، فکر یا سیاسی نظام کے لحاظ سے ہو۔ اسلامی سیاسی نظام بھی معتدل اور متوازن ہے، برخلاف ان نظاموں کے جو یا تو افراط پر مبنی ہیں جیسے مطلق آمریت، یا تفریط پر جیسے مطلق جمہوریت۔
اسلام یہ تسلیم نہیں کرتا کہ اقتدار مطلقاً ایک فرد کے ہاتھ میں ہو، جیسے استبدادی نظام، اور نہ ہی یہ کہ عوام بغیر کسی قید کے سب کچھ خود کریں، جیسے مطلق جمہوریت۔ بلکہ اسلامی سیاسی فکر میں رہنما یا سربراہ کو "اہل حل و عقد” (علم، تقویٰ اور تخصص والے افراد) کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خَيْرُ الأُمُورِ أَوْسَطُهَا
ترجمہ: امور کی بہترین راہ معتدل راستہ ہے۔ (بیہقی وغیرہ)
لہٰذا اسلامی نظام افراط و تفریط سے پاک، معتدل، علم پر مبنی اور مشاورت والا نظام ہے۔ اس میں اقتدار نہ استبدادی ہے اور نہ مطلق عوامی، بلکہ ماہرین کی مشاورت اور علم پر مبنی ہے۔ اس متوازن سیاسی نظام کا مقصد یہ ہے کہ انصاف قائم ہو، نظم برقرار رہے، اور دین ہر دور اور نسل کے لیے قابل عمل رہے۔




















































