رسم و رواج کی اصلاح اور فرسودہ روایات کے خاتمے سے متعلق عالی قدر امیرالمؤمنین حفظہ اللہ تعالیٰ کی ہدایات (دوسری قسط)
اس عنوان کی پہلی قسط میں عالی قدر امیرالمؤمنین حفظہ اللہ تعالیٰ کے فرمان نمبر ۱۷ کی روشنی میں فرسودہ اور غیر شرعی رسم و رواج کی بنیادوں اور مختلف صورتوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔ تاہم اس فرمان کی اہمیت محض غیر ضروری اور نقصان دہ رسومات کی ممانعت تک محدود نہیں، بلکہ اس کے نفاذ سے حاصل ہونے والے ان مثبت نتائج میں بھی پوشیدہ ہے، جو افغانستان کے عوام کی انفرادی اور اجتماعی زندگی پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ سرکاری اور علاقائی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس فرمان کے نفاذ سے متعدد صوبوں میں غیر ضروری اخراجات میں نمایاں کمی آئی ہے اور خاندانوں کو معاشی بوجھ سے کسی حد تک نجات اور زندگی میں سکون میسر آیا ہے۔
مثال کے طور پر صوبہ غور کے محکمہ امر بالمعروف نے اعلان کیا ہے کہ عالیقدر امیرالمؤمنین حفظہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے نفاذ کے بعد اس صوبے کے محتسبین نے شریعت کے خلاف رائج تقریباً ۳۰۰ رسم و رواج اور غیر شرعی معاملات کی روک تھام کی ہے۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق شادی بیاہ کی تقریبات، غیر ضروری اخراجات اور نمود و نمائش سے تھا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ قیادت کا یہ فرمان محض کاغذی ہدایت بن کر نہیں رہ گیا، بلکہ عملی طور پر نافذ ہوا ہے اور اس کے قابلِ ذکر مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
اس فرمان کا ایک اور اہم نتیجہ اس بھاری معاشی بوجھ میں کمی ہے، جس نے برسوں سے افغان خاندانوں، بالخصوص شادی کی عمر کو پہنچنے والے نوجوانوں کی زندگی مشکلات سے دوچار کر رکھی تھی۔ صوبہ سرپل میں محتسبین اور علمائے کرام کے ایک مشترکہ اجلاس میں اس حقیقت کی نشاندہی کی گئی کہ بہت سے نوجوان شادی کے بے تحاشا اخراجات اور غیر ضروری رسم و رواج کے باعث اپنا وطن چھوڑ کر بیرونِ ملک ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ یہ بات واضح کرتی ہے کہ فرسودہ رسومات اور نوجوانوں کی ہجرت جیسے سماجی مسائل کے درمیان براہِ راست تعلق پایا جاتا ہے۔
فرمان نمبر ۱۷ کے نفاذ سے خاندانوں کو اب محض اپنی معاشرتی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے اپنی مالی استطاعت سے بڑھ کر اخراجات کرنے کی مجبوری سے نجات مل سکے گی، جبکہ نوجوان بھی اطمینان کے ساتھ گھر بسانے اور ازدواجی زندگی شروع کرنے کے بارے میں سوچ سکیں گے۔ صوبہ بغلان میں علمائے کرام کے ایک اجلاس میں بھی اس بات پر زور دیا گیا کہ شادی بیاہ، فاتحہ خوانی، تعزیت اور حج کی تقریبات میں رائج غیر ضروری اور فرسودہ رسومات عوام پر بھاری مالی بوجھ ڈالتی ہیں اور بعض اوقات خاندانی مسائل اور اختلافات کا سبب بھی بنتی ہیں۔ لہٰذا اس فرمان کا نفاذ نہ صرف خاندانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے، بلکہ خاندانی نظام کو مضبوط بنانے اور اس کے انتشار کو روکنے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
اس فرمان کے نفاذ کے دینی اور اخلاقی فوائد بھی نمایاں ہیں۔ صوبہ بادغیس میں عوامی آگاہی کے سلسلے میں منعقدہ ایک اجتماع کے دوران علمائے کرام کی کونسل اور محکمہ حج و اوقاف کے نمائندوں نے احادیثِ نبویہ کی روشنی میں غیر شرعی اور فرسودہ رسومات سے اجتناب اور قرآن وسنت کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ قیادت کا یہ فرمان شرعی اصولوں سے ہم آہنگ ہے اور اس کا نفاذ معاشرے میں دینی اقدار سے وابستگی اور اسلامی تعلیمات کی پاسداری کے جذبے کو فروغ دینے میں معاون ہے۔
اسی طرح صوبہ فاریاب میں عوامی آگاہی کے ایک اجتماع میں واضح کیا گیا کہ اس فرمان کا بنیادی مقصد شادی بیاہ، تعزیتی تقریبات، حج اور عمرے سے متعلق امور میں غیر ضروری اخراجات اور نقصان دہ معاشرتی رسومات کی روک تھام ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ فرمان اجتماعی زندگی میں اعتدال، سادگی اور میانہ روی کے فروغ کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالیقدر امیرالمؤمنین حفظہ اللہ تعالیٰ کا مقصد محض فرسودہ رسومات پر پابندی عائد کرنا نہیں، بلکہ نمود و نمائش، فضول خرچی اور ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اخراجات کرنے کی مسابقت کے بجائے معاشرے میں اسلامی اعتدال، سادگی اور قناعت پر مبنی طرزِ زندگی کو فروغ دینا بھی ہے۔
اس فرمان کی تشہیر، وضاحت اور عوامی سطح پر اس کے مقاصد کو اجاگر کرنے میں ذرائع ابلاغ اور ثقافتی اداروں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ صوبہ دایکندی میں منعقدہ ایک رابطہ اجلاس کے دوران صوبائی ڈائریکٹر اطلاعات و ثقافت نے ذرائع ابلاغ سے مطالبہ کیا کہ وہ فرمان نمبر ۱۷ کے بارے میں مسلسل عوامی آگاہی پر مبنی مواد نشر اور شائع کریں، تاکہ معاشرے میں مثبت ثقافتی تبدیلی پیدا ہو اور نقصان دہ رسم و رواج کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس فرمان کا کامیاب نفاذ تمام متعلقہ اداروں اور طبقات کی مشترکہ اور مربوط کوششوں کا متقاضی ہے۔ اس عمل میں علمائے کرام، حکومتی ذمہ داران، ذرائع ابلاغ اور خود عوام، سب کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
اسی سلسلے میں وزارتِ خارجہ نے بھی اس فرمان کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا۔ وزیرِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ غیر اسلامی رسم و رواج کا تسلسل نہ صرف اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی کا باعث بنتا ہے، بلکہ عوام پر غیر ضروری مالی بوجھ بھی ڈالتا ہے اور معاشرے میں وسیع پیمانے پر بے چینی اور نارضایتی کو جنم دیتا ہے۔
عالیقدر امیرالمؤمنین حفظہ اللہ تعالیٰ کا فرمان نمبر ۱۷ محض ایک انتظامی حکم نہیں، بلکہ افغان معاشرے کی عمومی تہذیب و ثقافت کی اصلاح کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس فرمان کے مثبت اثرات خاندانوں کے اخراجات میں کمی، نوجوانوں کی ہجرت کی روک تھام، خاندانی نظام کے استحکام، دینی اقدار سے عوامی وابستگی کے فروغ اور سادہ طرزِ زندگی کو رواج دینے کی صورت میں دیکھے جاسکتے ہیں۔
تاہم ان مقاصد کا مکمل حصول مسلسل عوامی آگاہی، علمائے کرام اور حکومتی ذمہ داران کے باہمی تعاون اور عوام کی بھرپور شرکت کا تقاضا کرتا ہے۔ صوبہ غور کی مثال، جہاں شریعت کے خلاف رائج ۳۰۰ معاملات اور رسومات کی روک تھام کی گئی، اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ پختہ عزم اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کے ذریعے فرسودہ رسم و رواج کا خاتمہ ممکن ہے اور معاشرے کو اسلامی سادگی اور اعتدال پر مبنی طرزِ زندگی کی طرف گامزن کیا جاسکتا ہے۔
یہی وہ نصب العین ہے جس کے حصول کے لیے عالیقدر امیرالمؤمنین حفظہ اللہ تعالیٰ کوشاں ہیں، اور جس کی تکمیل فرد، خاندان اور پوری اسلامی معاشرت کے لیے خیر و فلاح کا باعث بن سکتی ہے۔


















































