جنوبی اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ڈیورنڈ لائن اب محض روایتی سرحدی جھڑپوں یا سفارتی احتجاج کی گزرگاہ نہیں رہی… بلکہ یہ خطہ ایک ایسی گہری، تکنیکی اور تزویراتی جنگ کے نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، جس نے پرانے تمام اصولوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔
طویل عرصے تک دفاعی پوزیشن پر رہنے اور اسرائیلی طرز پر جارحیت پسند پاکستانی فوج کی ناپاک عسکری دراندازیوں پر محض صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے والی امارت اسلامیہ افغانستان نے اب ایک ایسا جوابی عسکری اور انٹیلی جنس نظریہ اپنا لیا ہے، جس کا مقصد ڈیورنڈ لائن پار سے آنے والے خطرات کا انتظار کرنا نہیں، بلکہ اُنہیں ان کے اصل مراکز کے اندر ہی پیشگی اقدام کے تحت جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔
یہ تبدیلی محض ایک روایتی ردعمل نہیں، بلکہ کابل کی طرف سے خطے کے سکیورٹی منظرنامے پر امن کے علم بردار ایک نئے جنگی اعلان کی دستک ہے۔
ماضی میں جب بھی پاکستانی فوج کی جانب سے ڈیورنڈ لائن کی خلاف ورزی یا فضائی حدود کی پامالی کا کوئی واقعہ رونما ہوتا تھا تو کابل کی طرف سے سفارتی احتجاج یا محدود جوابی فائرنگ دیکھنے کو ملتی تھی۔
تاہم جون 2026 کے حالیہ واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ امارت اسلامیہ کی پالیسی اب مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ اب پالیسی ‘انتظار کرو اور دیکھو’ کی نہیں، بلکہ ‘پیشگی دفاع’ (Pre-emptive Defense) کی ہے۔
کابل کا پیغام واضح ہے کہ آئندہ کی کارروائیاں محض کسی حملے کا بدلہ یا روایتی انتقام نہیں ہوں گی، بلکہ افغانستان کے امن اور خود مختاری کو خطرے میں ڈالنے والے ہر عنصر… خواہ وہ پاکستانی فوج کی جارحیت ہو یا اُس کے زیرِ سایہ پنپنے والے داعش (ISIS-KP) جیسے پراکسی نیٹ ورکس… ان سب سہولت کاروں اور سہولت یافتاؤں کے خلاف براہِ راست اور حتمی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔
کابل اب خطرات کو افغانستان کی دہلیز تک پہنچنے سے پہلے ہی ڈیورنڈ لائن پار ان کے محفوظ ٹھکانوں میں کچلنے کی تزویراتی صلاحیت اور عزم کا عملاً مظاہرہ کر رہا ہے۔
کابل کی اس نئی عسکری اسٹریٹیجی کا سب سے شان دار اور چونکا دینے والا پہلو امارت اسلامیہ کی وہ فضائی اور انٹیلی جنس پیش رفت ہے، جس نے بڑے بڑے دفاعی ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
چاغی اور قلعہ عبداللہ جیسے بلوچستان کے دور دراز اضلاع سے لے کر خیبر پختونخوا کے اورکزئی جیسی قبائلی بُھول بُھلیوں تک کی گہرائی میں جا کر داعش کے ‘ہائی ویلیو ٹارگٹس’ کو کامیابی سے نشانہ بنانا امارت اسلامیہ کی نئی جنگی مشین کا ایک زبردست کارنامہ ہے۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستانی فوج کے جدید ترین ریڈارز، فضائی دفاعی نظام (Air Defense Systems) اور کھربوں روپوں کی لاگت سے بنے برقی نگرانی کے نیٹ ورکس کی موجودگی کے باوجود افغان فضائیہ کے ترمیم شدہ کمرشل اور لیزر گائیڈڈ ڈرونز کا پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونا اور اہداف کو کامیابی سے تباہ کرنا ایک غیر معمولی تکنیکی برتری کو ثابت کرتا ہے۔
یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ امارت اسلامیہ نے سَستی، مگر انتہائی مؤثر اور دقیق (Precise) ٹیکنالوجی کو اپنے گہرے زمینی انٹیلی جنس نیٹ ورک کے ساتھ اس مہارت سے جوڑا ہے کہ وہ حریف کے دفاعی حصار کو سیکنڈوں میں بے اثر کرنے کی پوزیشن میں آ چکے ہیں۔
اس پوری صورتِ حال نے پاکستان کے روایتی انسدادِ دہشت گردی کے نام نہاد بیانیے کو ایک ایسے تضاد اور تاریک کنویں میں لا کھڑا کیا ہے، جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ اور دیکھنے کے لیے کوئی روشنی دکھائی نہیں دیتی۔
جب کابل کا انٹیلی جنس ونگ ‘المرصاد’ پاکستانی فوج کی انتہائی نگرانی میں رہنے والے علاقے وادیٔ تیراہ (قمبر خیل) میں داعش کے تربیتی مراکز پر عین کارروائی کی مصدقہ ویڈیوز اور تھرمل امیجز پبلک کرتا ہے تو دنیا کے سامنے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ امارت اسلامیہ کا انٹیلی جنس پھیلاؤ کتنا گہرا اور فعال ہے۔
چناں چہ پاکستانی فوج کے آئی ایس پی آر نے اپنی اسی شرمندگی اور ناکامی چھپانے کے لیے میڈیا کو یہ ٹاسک دے رکھا ہے کہ وہ یہ راگ الاپے کہ پاکستان میں داعش موجود نہیں ہے اور یہ کہ پاکستان نے افغان فضائیہ کے یہ ڈرون حملے راستے میں ہی روک لیے تھے۔
تاہم المرصاد کی جانب سے سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز نے عالمی سطح پر واضح کر دیا ہے کہ امارت اسلامیہ کے ڈرون اٹیک واقعی پاکستان میں داعش اور افغان جمہوری فوج کے بھاگے ہوئے عناصر کے ٹھکانوں پر ہوئے ہیں، جن کی تصدیق مقامی افراد اور آزاد صحافیوں نے بھی کی ہے۔
چناں چہ امارت اسلامیہ اس وقت شطرنج کی اس بساط پر ایک ایسی ردعمل پر قائم اقدامی پوزیشن سنبھال چکی ہے، جہاں وہ عالمی برادری، خصوصا شمالی، وسطی اور جنوبی ایشیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو رہی ہے کہ امارت اسلامیہ ہی وہ قوت ہے، جو خطے میں امن و امان قائم کرنے، اسے برقرار رکھنے اور مستحکم بنانے کی صرف صلاحیت ہی نہیں رکھتی، بلکہ اس میں مخلص بھی ہے۔
یوں واضح ہو جاتا ہے کہ امریکا سے اتحاد کا دم بھرنے اور اسے اپنے لیے قابلِ فخر نسبت سمجھنے والی پاکستانی فوج کو خطے کا امن و تجارتی نظام خراب کرنے کا مزید موقع نہیں دیا جا سکتا۔
لہذا اب یہ محض سرحد شریک دو ملکوں کی روایتی سرد جنگ نہیں ہے… بلکہ یہ امارت اسلامیہ کی طرف سے اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک نئے، سائنسی اور دور رَس عسکری دور کا آغاز ہے، جس کی لپیٹ میں پاکستان کی فاسد فوج اور اُس کی داعش جیسی پراکسی کی وہ تمام پناہ گاہیں آ چکی ہیں، جہاں کبھی امارت اسلامیہ کے خلاف سازشوں کے تانے بانے بُنے جاتے تھے۔


















































