افغانستان کی گہری جانچ تب ممکن ہے جب اس ملک کی تاریخی حقیقت کو مدنظر رکھا جائے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ افغانستان دنیا کا ایک ایسا ملک ہے کہ:
• جس نے ہمیشہ دنیا کی بڑی اور جابر طاقتوں کو شکست دی ہے۔ (برطانیہ، سوویت یونین، امریکہ)
• ماضی میں یہ خود بھی ایک متمدن سلطنت رہ چکا ہے۔
• اگرچہ اکثر جنگوں کا میدان رہا، مگر اپنے تشخص کو ہمیشہ برقرار رکھا۔
یہ وہ نکات ہیں جو افغانستان کی سنہری تاریخ کے بڑے اسباق مانے جاتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ یہ *”قوم مضبوط ہے، کمزوری کبھی قبول نہیں کرتی اور اگر اسے آزاد چھوڑ دیا جائے تو ایک متمدن تبدیلی لے آتی ہے۔”*
اسی طرح افغانستان کی گہری جانچ تب ممکن بنتی ہے جب اس مسلمان قوم کی طاقت پر بحث کی جائے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ افغان قوم دنیا کی مضبوط اقوام میں کئی پہلوؤں سے شمار ہوتی ہے:
1: جنگی مزاحمت
دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسی قوم نہیں جو ایک صدی کے اندر تین عالمی طاقتوں کو مسلسل شکست دے اور صدیوں کے بحرانوں کے باوجود اپنا تشخص برقرار رکھے۔
2: افغانی شناخت
دین، غیرت، روایات، زبان اور دیہی سماجی اتحاد افغان مسلمان قوم کی شناخت ہے، اور یہی واحد قوم ہے جس نے شدید ثقافتی یلغار کے باوجود اپنا اصل رنگ تبدیل نہیں کیا۔
3: نوجوان آبادی اور مضبوط انسانی وسائل
افغانستان 30 سال سے کم عمر کی 75٪ سے زیادہ آبادی رکھتا ہے۔ مضبوط انسانی وسائل کے ساتھ یہ دنیا کی نسبت نہایت بہادر، فعال اور محنتی نسل رکھتا ہے۔
4: اسٹریٹجک محل وقوع
افغانستان دنیا کے نقشے پر ایک ایسا اسٹریٹجک مقام ہے جہاں سے وسطی ایشیا کی توانائی، جنوبی ایشیا کی معیشت، عرب دنیا کا اثر، چین اور روس کا اسٹریٹجک اثر سب ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔ یہ جغرافیائی مقام افغانستان کو فطری طور پر جیوپولیٹیکل طاقت بناتا ہے۔
5: کمزور حکومتیں
افغانستان کی مرکزی حکومت ہمیشہ کمزور رہی ہے، اور تاریخ بتاتی ہے کہ نسلی رقابت، مقامی رسہ کشی اور ملکی قوانین کی عدم قبولیت نے مرکزی حکومت کی تشکیل کو ہمیشہ روکے رکھا۔
معیشت کا نہ ہونا، صنعت کا فقدان، پیداواری شعبے کی غیر موجودگی، کمزور برآمدات اور خراب زرعی صورتحال نے افغانستان کو داخلی معیشت کے بجائے عملی طور پر خیراتی امداد اور بیرونی فنڈنگ پر منحصر ملک بنا دیا۔
انتظامی بے نظمی وہ دوسرا عنصر تھا جس نے پچھلی 100 برسوں میں کبھی مسلسل اصلاحات ممکن نہ ہونے دیں، بدعنوانی گہری ہوئی، اور پیشہ ورانہ صلاحیت رکھنے والے افراد یا تو ختم ہوگئے یا بکھر گئے۔
قومی سوچ کی کمزوری وہ چیز تھی جس نے افغانستان کو سیاسی تقسیم، نسلی رقابت اور علاقائی اثر و رسوخ کی بنیاد پر جنگوں کا شکار بنا کر طویل عالمی کھیلوں کے لیے قربانی کا بکرا بنا دیا۔
6: مواقع کی تصویر کشی
افغانستان قدرتی معدنیات رکھتا ہے جیسے لیتھیم، سونا، تانبہ اور نایاب عناصر، جن کی مجموعی تخمینی مالیت 1–3 ٹریلین ڈالر ہے۔
7: علاقائی ٹرانزٹ
سی پیک، کاسا 1000، ٹاپی، راہداریوں وغیرہ کی منصوبے، اگر درست اور بہتر طور پر چلائے جاتے تو افغانستان علاقائی تجارت کا دل بن جاتا۔
8: زراعت اور توانائی
افغانستان کے پاس بڑے آبی وسائل ہیں۔ زعفران، بادام، چلغوزے اور شہد کی عالمی مارکیٹ میں افغانی مصنوعات نہایت مضبوط ہیں، اسی طرح شمسی اور بادی توانائی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
9: معاشی ضرورت
افغانستان کی معیشت آج تک بحال نہ ہوئی؛ اسی لئے یہاں کبھی کوئی سیاسی استحکام مستقل نہیں رہا۔
10: فکری اور ثقافتی جنگ
فکری اور ثقافتی حملہ آوروں نے ہمیشہ افغان مسلمان قوم کی شناخت کو نشانہ بنایا ہے۔ یہاں سیکولرزم کے منصوبے، نظریاتی یلغار، بیرونی میڈیا پروپیگنڈا اور ذہنی تسلط ایک اور تباہی تھے۔
11: اندرونی سیاسی اختلافات
افغانستان میں ہمیشہ اندرونی سیاسی اختلافات پیدا کیے گئے، جو سب سے خطرناک تصادم ہیں، کیونکہ یہ بیرونی اثر و رسوخ کے دروازے کھولتے ہیں۔
12: حاصل کلام
اس سے پہلے افغانستان ایسا ملک تھا کہ قوم مضبوط تھی مگر حکومتیں کمزور۔
اگر آج کی طرح قوم کی طاقت اور حکومتی نظم ایک ساتھ موجود ہوتے تو افغانستان بہت پہلے ہی خطے کی ایک اہم اور مضبوط طاقت ہوتا۔ افغانستان نہ بے بس تھا نہ نا امید، مگر بے نظام ضرور تھا۔
آج کا افغانستان:
• منظم ہے،
• طاقت کے لیے طویل المدتی اسٹریٹجک منصوبے بنے اور عملی طور پر نافذ ہیں،
• معاشی، انٹیلیجنس، دفاعی اور فکری پالیسیاں خودمختار تیار کی گئیں،
• ہر قدم تاریخی لحاظ سے بڑے اور اسٹریٹجک تجزیے کے مطابق اٹھایا جاتا ہے،
• نسلی رقابتیں، مقامی رسہ کشی اورحکومتی قوانین کی عدم قبولیت ختم ہوگئی،
• معاشی فعالیت، صنعتی تحریک، پیداواری شعبے کی حرکت، برآمدات میں اضافہ جاری ہے،
• زراعت دن بدن ترقی کر رہی ہے،
• خیراتی اور بیرونی امداد پر منحصر ملک سے مقامی معیشت کی طرف منتقل ہوا،
• ادارے نظم و ضبط کی طرف آ رہے ہیں،
• ادارہ جاتی اصلاحات جاری ہیں،
• انتظامی بدعنوانی ختم ہوچکی ہے،
• بکھرے ہوئے پیشہ ور کادر بھرتی اور منظم کیے جا رہے ہیں،
• افغانستان سیاسی تقسیم، نسلی رقابت، علاقائی اثر و رسوخ کی بنیاد پر جنگوں اور دوسروں کے کھیل سے نکل آیا ہے،
• مواقع (Opportunities) کی تصویر کشی کی جا رہی ہے،
• قدرتی ذخائر، لیتھیم، سونا، تانبہ اور نایاب عناصر، پیشہ ورانہ انداز میں نکالے جا رہے ہیں،
• علاقائی ٹرانزٹ،
• سی پیک، کاسا 1000، ٹاپی، راہداری منصوبے، آغاز اور درست انتظام،
• افغانستان علاقائی تجارت کا دل بن رہا ہے،
• بڑے آبی ذخائر پر کنٹرول،
• زعفران، بادام، چلغوزے، انار، سیب، پھلوں اور شہد کی عالمی منڈیوں تک رسائی،
• شمسی اور بادی توانائی کے وسیع امکانات،
• ملک کو لاحق خطرات کا نقشہ (Threats) تیار،
• انٹیلیجنس محاصروں سے نکلنا،
• پڑوسی ممالک کے اسٹریٹجک مفادات کو متوازن پالیسی کے دائرے میں رکھنا،
• اسٹریٹجک گہرائی، ثقافتی و مذہبی اثر، دوسروں کی مخالفانہ پالیسیوں سے پرہیز، سکیورٹی توازن اور علاقائی کنٹرول کو مقابلے سے بچانا،
• انٹیلیجنس تصادموں اور معاشی ضرورتوں سے نکلنا،
• افغانستان کی معاشی بحالی کے لیے عالمی اقدامات،
• سیاسی استحکام کو مستقل بنانا،
• فکری اور ثقافتی جنگوں سے دفاع،
• افغان مسلمان قوم کی شناخت کا تحفظ،
• سیکولرزم منصوبوں، نظریاتی یلغار، بیرونی میڈیا پروپیگنڈا اور ذہنی تسلط کا سخت مقابلہ،
• اندرونی سیاسی اختلافات کا خاتمہ
• اور بیرونی اثر کے دروازے بند کرنا۔
یہ وہ اقدامات ہیں جو موجودہ افغان حکومت نے انتہائی مضبوطی اور شدید سنجیدگی کے ساتھ انتہائی قلیل وقت میں کیے، ان پر عمل جاری ہے اور ان شاءاللہ جاری رہے گا۔
اور یہی وہ ترقی ہے جو پڑوسی ملک کے لیے قابلِ قبول نہیں!




















































