اگر ہم پاکستان کی سکیورٹی اور سیاسی صورتِ حال کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو صاف نظر آتا ہے کہ اس ملک کے بیشتر داخلی بحران بیرونی عوامل سے نہیں، بلکہ اپنے ہی حکمرانوں کی غلط، امتیازی پالیسیوں اور کمزور حکمرانی کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔ بلوچستان کا مسئلہ اس حقیقت کی نمایاں مثالوں میں سے ایک ہے، ایسا بحران جو برسوں سے جاری ہے اور دن بہ دن مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کے بحران کی بنیادی وجہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس صوبے کے عوام کے ساتھ غیر منصفانہ اور امتیازی سلوک ہے۔ بلوچ عوام کئی عشروں سے اپنے سیاسی، معاشی اور ثقافتی حقوق سے محروم رکھے گئے ہیں۔ جبری گمشدگیاں، شہری آبادی کے خلاف فوجی کارروائیاں، قدرتی وسائل کی لوٹ مار، اور بلوچی زبان و ثقافتی شناخت کو کچلنے کی پالیسیاں، ان سب نے بلوچ معاشرے کے وجود پر گہرے زخم چھوڑے ہیں۔
یہ فطری بات ہے کہ اس طرح کی پالیسیاں غصہ اور وسیع پیمانے پر ناراضگی کو جنم دیتی ہیں اور شدید بلکہ مسلح ردِعمل کے لیے زمین ہموار کرتی ہیں۔ کیونکہ کوئی بھی احتجاجی تحریک یا مسلح تصادم بلا وجہ پیدا نہیں ہوتا۔ جب کوئی حکومت مکالمے اور انصاف کے بجائے زور، محرومی اور تضحیک کی زبان اختیار کرے تو عوام ردِعمل دکھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں بحران کی اصل وجہ وہی نظام ہوتا ہے جس نے پُرامن راستے بند کر رکھے ہوں۔ مگر اس واضح حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے پاکستان کے حکمرانوں اور ان کے وحشی طرزِ حکمرانی نے آسان راستہ اختیار کیا ہے، یعنی الزام دوسروں پر ڈال دینا۔
بلوچستان کے بحران میں کردار کے حوالے سے پاکستانی حکمرانوں کی جانب سے افغانستان اور ہمسایہ ممالک پر الزام تراشی کی حقیقی سکیورٹی اہمیت سے زیادہ پروپیگنڈے کا حربہ ہے۔ سیاسی فریب کے اصولوں کے مطابق یہ ایک معروف طریقہ ہے کہ جب کوئی ریاست اپنے داخلی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو جائے تو اپنے لیے خیالی دشمن تراش لیتی ہے۔ دھوکے کا یہ طریقہ، جسے پاکستان کے حکمرانوں نے اپنایا ہے، یعنی قصور دوسروں پر ڈالنا، نہ بحران حل کرتا ہے اور نہ ہی عوام کا اعتماد بحال کرتا ہے۔ بلکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت میں انتظامی صلاحیت کی کمی ہے اور وہ اپنے متنوع معاشرے کو درست طور پر سمجھنے سے قاصر ہے۔ جو حکومت اپنے شہریوں کی آواز نہ سنے، وہ ہر چیز کو سکیورٹی مسئلہ بنا دیتی ہے، اور یہی عمل اسے مزید گھیرے میں لے آتا ہے۔
بلوچستان کے بحران کو درست طور پر سمجھنے کے لیے نگاہ بیرونی عوامل سے ہٹا کر پاکستان کے اندرونی حقائق کی طرف کرنی ہوگی، امتیاز، عدم مساوات اور جبر کی طویل تاریخ کو سامنے رکھنا ہو گا۔ جب تک بلوچ عوام سیاسی شمولیت، معاشی انصاف اور اپنی ثقافتی شناخت کے تحفظ کے حق سے محروم رہیں گے، واضح ہے کہ پاکستان کے داخلی بحران جاری رہیں گے۔
اس ضمن میں عوامی شعور اور دانشوروں کا کردار نہایت اہم ہے۔ معاشرے کو سمجھنا چاہیے کہ اس بحران کا حل صرف حقیقی داخلی اصلاحات کے ذریعے ممکن ہے، نہ کہ ہمسایہ ممالک پر الزام تراشی سے۔ حکمرانوں کا یہ طرزِ عمل موجودہ حقیقت سے فرار ہے، حل نہیں۔ آخر میں تاریخ کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ کوئی بھی حکومت جبر کے بل بوتے پر طویل عرصے تک قائم نہیں رہ سکتی۔ اگر پاکستان کی موجودہ رجیم استحکام، امن اور قومی یکجہتی کی خواہاں ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے آپ کو آئینہ دکھانا ہوگا اور اپنی امتیازی اور ناکام پالیسیوں کا سنجیدگی سے ازسرِنو جائزہ لینا ہوگا۔ پاکستان کے موجودہ بحران زیادہ تر ماضی کے حکمرانوں کے غلط فیصلوں کا نتیجہ ہیں، ایک ایسی حقیقت جسے نہ پروپیگنڈے سے چھپایا جا سکتا ہے اور نہ ہی الزام تراشی سے۔




















































