مشرقِ وسطیٰ، جو عالمی معیشت کے بڑے ستونوں میں سے ایک ہے، حالیہ عرصے میں شدید مادی اور معنوی دباؤ کا شکار ہے۔ نہ صرف اس خطے کے عرب ممالک اور اقوام، بلکہ وہ دیگر ممالک بھی جو اس کے ساتھ دینی، ثقافتی، معاشی اور سیاسی روابط رکھتے ہیں، سخت دباؤ میں ہیں۔ اگر خطے کے ہمسایہ ممالک کی یہی خاموشی برقرار رہی تو ممکن ہے کہ مستقبل قریب میں وہ اس سے بھی بدتر حالات کا سامنا کریں۔
دورِ حاضر میں صرف ایران ہی کھل کر پورے مغرب اور اسرائیل کے مقابل ڈٹا ہوا ہے۔ ایک طرف اس نے قطر، کویت، سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک میں امریکی اڈوں کی بنیادوں کو ہلا دیا ہے، تو دوسری طرف انہی ممالک کے بعض مراکز کو بھی نشانہ بنایا ہے، جو ممکنہ طور پر ان ممالک میں انتقام کی مستقل فضا پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم اگر یہ ممالک اپنی مغرب نواز پالیسیوں پر غور کریں، جن سے ہمیشہ دشمن کو فائدہ پہنچا ہے اور آج بھی مسلم اقوام مغربی اور اسرائیلی مفادات کے لیے قربانیاں دے رہی ہیں، تو مشرقِ وسطیٰ اور خطے کا مستقبل امن اور خوشحالی کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ نہ صرف اس خطے بلکہ تمام اسلامی ممالک سے مغربی، خصوصاً امریکی فوجی اور غیر فوجی اڈوں کا خاتمہ کیا جائے۔
اگرچہ بظاہر امریکہ اور اسرائیل ناکام دکھائی دیتے ہیں اور ایران کامیاب نظر آتا ہے، مگر امریکہ پوری قوت کے ساتھ ایران پر حملے کر رہا ہے۔ اس کے باوجود شام، ترکی اور پاکستان میں امریکی اہداف پر کسی قسم کے حملے کی خبریں سامنے نہیں آئیں۔ اس صورت حال کو ایک طرف ایران کی احتیاطی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر ایران ایسا کرے تو ممکن ہے کہ یہ ممالک خود اس کے خلاف اقدام کریں یا امریکہ کو زمینی راستہ فراہم کریں۔ پاکستان تو اپنی مجبوریوں کے تحت پہلے ہی اس کے لیے آمادہ دکھائی دیتا ہے تاکہ اپنی تباہ حال معیشت کے لیے فنڈنگ کا کوئی سہارا حاصل کر سکے، جیسا کہ اس نے امریکہ کے کہنے پر افغانستان کے خلاف بے جواز اور ناکام جنگ شروع کی تھی۔
ان تمام چیلنجز کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ اور خطے کے ممالک، خصوصاً اسلامی ممالک (جن سے جلد ہی حجاج کے قافلے روانہ ہونے والے ہیں)، کو چاہیے کہ وہ مغرب کے مقابلے میں ایران کا ساتھ دیں تاکہ وہ فوائد واپس حاصل کیے جا سکیں جو مغربی طاقتیں مفت میں لے جا رہی ہیں، اور اپنے معاشروں کی دینی، ثقافتی، سیاسی اور معاشی خودمختاری کو اپنے قابو میں کر سکیں۔
موجودہ حالات نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ پوری دنیا کے لیے چیلنجز اور مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ ایک طرف روس اور یوکرین کی جنگ، اور دوسری طرف امریکہ و اسرائیل کا ایران کے ساتھ تنازع، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر براہِ راست اثر انداز ہو رہے ہیں، جس کا اثر خود بخود دیگر اشیاء پر بھی پڑ رہا ہے۔ مزید برآں، دنیا کے بڑے حصے میں فضائی اور زمینی راستے غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔
آخر میں، امریکہ اور وینزویلا، امریکہ و اسرائیل اور ایران، ایران اور جزیرۂ عرب، امریکہ اور چین، امریکہ اور شمالی کوریا، امریکہ، پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازعات میں سب سے بڑا اور تباہ کن کردار امریکہ کا ہے۔ اس کے مقابلے میں متعلقہ ممالک کو ایک مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ہوگی تاکہ دنیا کو ایک خطرناک ایٹمی جنگ سے بچایا جا سکے۔ کیونکہ حالیہ تحقیقات اور پیش گوئیوں کے مطابق، اگر ایٹمی جنگ چھڑ گئی تو دنیا کی تقریباً تین ارب آبادی بیمار اور معذور ہو جائے گی، زندگی کے وسائل لکڑی اور پتھر جیسی نوعیت کے رہ جائیں گے، اور انسانوں کو غاروں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑے گا۔




















































