اللہ اکبر! اللہ تعالیٰ بہت عظیم ہے۔ وہ درخت جن کے پھل تجھے پسند ہیں، وہ تیرے معزز والد نے تیری آمد سے پہلے بوئے تھے۔
سلطانِ مصر کے مکتوب میں آیا ہے:
اللہ اکبر! یہی نصرت و ظفر ہے، یہی وہ فتح ہے جو انسانوں کے گمان و تصور سے بالا ہے۔
قسطنطنیہ کی فتح کے موقع پر سلطانِ مصر کے شاعر کا کلام:
یوں ہی اللہ کی رضا کے لیے عزائم بلند ہونے چاہئیں، ورنہ تیز تلواریں رومالوں سے کیا فرق رکھتی ہیں۔ تیرا لشکر وہ ہے جس کے گھوڑے سمندر کی طرح ہیں، جن کی موجیں ہیبت بکھیرتی ہیں۔ وہ لشکر جس نے کامیابی کا پرچم چاروں سمت لہرا دیا ہے۔ یہ پرچم محض علامت نہیں بلکہ خود فتح و کامرانی اس لشکر کے غلام اور خدمت گزار ہیں۔
اے اسلام کے مددگار! اے وہ کہ جس کے فتوحات کے قصے زمانے کی کتاب کے ہر ورق پر آخر تک ثبت ہوں گے!
تجھے یہ عظیم کامیابی مبارک ہو۔ روئے زمین پر اس فتح کی یاد ہمیشہ قائم رہے گی، جیسے جلتے دن کی روشنی مٹ نہیں سکتی۔ پس کل کی صبحیں اور ستاروں کی منزلیں بھی اس کا ذکر کریں گی۔
سلطان محمد فاتح کا مکتوب بہ نام شریفِ مکۃ المکرمہ:
سلطان محمد نے مکۃ المکرمہ کے شریف(گورنر) نام ایک خط لکھا، اس میں فتح کی بشارت دیتے ہوئے دعا کی درخواست کی، اور ساتھ قیمتی تحائف روانہ کیے۔ مکتوب کی چند سطور یہ ہیں:
ابتدا میں مکۃ المکرمہ کے شریف کی ثنائے جمیل کی، پھر لکھا:
’’ہم نے یہ مکتوب اس لیے روانہ کیا ہے کہ تمہیں اس عظیم فتح کی خوشخبری دیں جس سے اللہ تعالیٰ نے اس سال ہمیں نوازا۔ یہ ان فتوحات میں سے ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔ یہ قسطنطنیہ کی درخشاں اور مشہور فتح ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس خبر سے تم مسرور ہو جاؤ اور تمہارے ساتھ حرمین کے رہنے والے، علماء، نیکوکار، زاہدین، عبادت گزار، مشائخ، پرہیزگار ائمہ، بڑے اور چھوٹے سب خوشی کا اظہار کریں۔‘‘
وہ لوگ جو بیت اللہ شریف کے غلاف سے لپٹتے ہیں، یعنی وہ اہلِ عقیدہ جو کبھی شکستہ نہیں ہوتے، وہ جو زمزم اور مقامِ ابراہیم کے وارث ہیں، وہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوار میں اعتکاف گزارتے ہیں، وہ جو عرفات میں ہماری سلطنت کے لیے بارگاہِ الٰہی میں دعا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی برکتوں سے ہم پر رحمتوں کی بارش فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔
میں اپنے سفیر کے ہاتھوں یہ نذرانہ بھیج رہا ہوں، یہ ہدیہ خاص تمہارے لیے ہے: سونے کی مکمل مقدار (فلورین)، مالِ غنیمت اور ایک تیز رفتار گھوڑا۔ سات ہزار فلورین صرف غریبوں کے لیے ہیں، دو ہزار سرداروں اور عمائدین کے لیے، ایک ہزار حرمین کے خاص خدام کے لیے، باقی مکۃ المکرمہ و مدینہ منورہ کے محتاجوں کے لیے ہیں۔ میری تم سے یہ درخواست ہے کہ یہ رقم مستحقین کے درمیان ان کی ضرورت کے مطابق تقسیم کردو۔
میں سب لوگوں سے یہ التماس کرتا ہوں کہ ہمیں ہمیشہ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اور ہم پر اپنی شفقت و مہربانی فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے اور قیامت تک تمہیں سعادت و عزت کی سرداری عطا فرمائے۔




















































