عوامی مزاحمت
داعش جیسے انتہا پسند گروہ کے خلاف جدوجہد میں عوامی مزاحمت اور مقامی قوتوں نے ایسا اہم کردار ادا کیا جو اکثر نظرانداز کر دیا گیا۔ یہ طبعی مزاحمت، جو داعش کے ظلم و جبر کا شکار معاشروں کے اندر سے اٹھی، مختلف صورتوں میں ظاہر ہوئی؛ کہیں مسلح جدوجہد کی شکل میں اور کہیں سول نافرمانی کی صورت میں۔
عراق میں وہ سنی قبائل جو ابتدا میں داعش کے عدل و مساوات کے نعروں سے دھوکہ کھا گئے تھے، بہت جلد اس گروہ کی سفاک اور ظالمانہ حکمرانی کی تلخ حقیقت سے دوچار ہوئے۔ عراق کے مغربی علاقوں میں آباد صوبۂ انبار کے قبائل ان اولین معاشرتی اکائیوں میں شامل تھے جنہوں نے داعشی خوارج کے خلاف منظم بغاوت کا آغاز کیا۔ یہ قبائل، جو ماضی میں مرکزی حکومت سے نالاں تھے، اب اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ داعش کی حکمرانی اُن تمام نظاموں سے کہیں زیادہ بدتر ہے جن کا وہ پہلے تجربہ کر چکے تھے۔
اپنے علاقے کے سماجی ڈھانچے کی گہری واقفیت کے باعث، یہ قبائل داعش کے خلاف جدوجہد میں مؤثر مقامی قوتوں کی صورت اختیار کر گئے۔ انہوں نے نہ صرف عسکری کارروائیوں میں حصہ لیا بلکہ وسیع خفیہ نیٹ ورکس بھی قائم کیے، داعش کے جنگجوؤں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی اور یہ معلومات عراقی سیکیورٹی فورسز اور بین الاقوامی اتحاد تک پہنچائیں۔
سوریہ میں عوامی مزاحمت نے ایک مختلف رخ اختیار کیا۔ دیرالزور جیسے شہروں میں، جو مہینوں تک داعش کے محاصرے میں رہے، عام شہریوں نے نت نئے طریقوں سے مزاحمت جاری رکھی۔ ڈاکٹروں اور نرسوں نے خفیہ طور پر زخمیوں کا علاج کیا، اساتذہ نے تہہ خانوں میں بچوں کی تعلیم کا سلسلہ برقرار رکھا، اور بعض تاجروں نے خوراک اور ضروری اشیاء محصور علاقوں تک پوشیدہ راستوں سے پہنچائیں۔
موصل میں عوامی مزاحمت کے دوران خواتین نے ایک منفرد اور ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ ان میں سے بہت سی خواتین نے خفیہ رابطہ نیٹ ورک قائم کیے اور داعش کی مورچہ بندی سے متعلق اہم معلومات عراقی فورسز تک پہنچائیں۔ بعض دیگر خواتین نے اپنے مردوں کو داعش کی گرفت سے محفوظ رکھا، یا محصور خاندانوں کے لیے خوراک اور ادویات کی فراہمی میں حصہ لیا۔ یہ خاموش مگر گہری مزاحمت، اگرچہ ذرائع ابلاغ میں کم ہی نمایاں ہو سکی، لیکن اس نے داعشی انتہا پسندوں پر گہرا نفسیاتی اثر چھوڑا۔
عوامی مزاحمت کی نمایاں ترین صورتوں میں وہ شہری تحریکیں بھی شامل تھیں جو بعض علاقوں میں داعش کے خلاف ابھریں۔ جن شہروں پر داعش کا قبضہ تھا، وہاں نوجوانوں نے غیر مسلح طریقوں سے اس گروہ کا مقابلہ کیا۔ وہ دیواروں پر داعش مخالف نعرے تحریر کرتے، سماجی ذرائع ابلاغ کے ذریعے بغاوت کے پیغامات پھیلاتے، اور بعض اوقات اس گروہ کے اثاثوں کو نقصان بھی پہنچاتے۔
رقہ میں خفیہ کارکنوں کے ایک گروہ نے داعش کے جرائم کی دستاویز بندی شروع کی اور یہ شواہد عالمی ذرائع ابلاغ تک پہنچائے۔ اگرچہ یہ اقدامات بظاہر چھوٹے محسوس ہوتے تھے، مگر ان کے گہرے نفسیاتی اثرات مرتب ہوئے۔ ان کے ذریعے دنیا پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ داعش کے کنٹرول میں رہنے والے علاقوں کے عوام، اس گروہ کی تمام تر پروپیگنڈا مہم کے باوجود، اس کے حامی نہیں تھے۔
آخرکار، عوامی مزاحمت داعش کے زوال کا ایک بنیادی سبب بن کر سامنے آئی۔ جب عالمی اتحاد اور عراق و شام کی سرکاری افواج نے عسکری کارروائیاں شروع کیں، تو یہی عوامی نیٹ ورک تھے جنہوں نے نہایت اہم معلومات فراہم کیں، شہروں کی آزادی میں مدد دی، اور داعش کے خاتمے کے بعد معاشرتی بحالی کی بنیاد رکھی۔ یہ تجربہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ مقامی برادریاں انتہائی سخت حالات میں بھی، انتہا پسندی کے خلاف ڈٹ سکتی ہیں اور اپنے مستقبل کی سمت بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔




















































