تاریخ گواہ ہے کہ پاکستانی فوج نے کبھی کوئی خیر کا کام نہیں کیا، بلکہ یہ فوج شروع ہی سے اس لیے تشکیل دی گئی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور افراتفری پھیلائے، تاکہ مسلمانوں میں سے ایسی قوت جنم نہ لے جو کفار کے لیے دردِ سر بن جائے۔ اسی وجہ سے ماضی میں جب بھی ایسی کوئی قوت ابھری جو حقیقی معنوں میں مسلمانوں کی قوت کی نمائندگی کرتی تھی، یا کوئی ایسا گروہ، تنظیم یا حتیٰ کہ کوئی فرد اٹھ کھڑا ہوا، تو اس فوج نے اپنی تمام تر طاقت اس کے خلاف استعمال کی۔
عالمِ کفر کی جانب سے پاکستان کے جوہری پروگرام کو قبول کیا جانا بھی انہی خدمات کا نتیجہ ہے، ورنہ عالمِ اسلام میں پاکستان سے کہیں بہتر ممالک موجود ہیں جو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، لیکن انہیں اجازت نہیں دی جاتی، آخر کیوں؟ وجہ یہی ہے کہ پاکستانی فوجی رجیم کسی نہ کسی بہانے مسلمانوں پر حملے کرتی ہے، اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا، کیونکہ ان کے کافر آقاؤں کی جانب سے انہیں یہی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ حالیہ حملے بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں، جو ایک سوچے سمجھے، خطرناک اسٹریٹیجک منصوبے اور سازش کا حصہ ہیں۔ یہ حملے کسی بھی صورت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں نہیں ہیں، ورنہ یہ بزدل اور جھوٹی فوج کم از کم ایک ایسا حقیقی ثبوت تو پیش کرے جس سے یہ دکھا سکے کہ یہ دیکھو، ہم نے ایک دہشت گرد کو ہلاک کیا ہے۔ بلکہ یہ براہِ راست عام اور بے گناہ افغانوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے، جیسا کہ پوری دنیا نے دیکھا۔
پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ اس وقت شدید داخلی بحران سے دوچار ہے اور “تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى” کی مصداق بن چکی ہے۔ ملک کی معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے، مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے، روپیہ دن بہ دن اپنی قدر کھو رہا ہے اور پورا ملک IMF کے قرضوں کے بھاری بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ روزگار کے مواقع میں کمی، بجلی کی مسلسل بندش اور آٹے کی قلت کے باعث لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔ ایسے سنگین حالات میں عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے اس مکار فوجی رجیم کو ایک بیرونی دشمن کی ضرورت ہے، تاکہ خود کو جنگ میں مصروف ظاہر کر سکے۔ اسی وجہ سے افغانستان پر حملہ کیا گیا اور جنگ کی فضا پیدا کی گئی۔ اس جنگ سے دونوں ممالک کو کتنا نقصان پہنچے گا، اس فوج کے لیے اس کی کوئی اہمیت نہیں۔
دوسری اہم وجہ مکہ معاہدہ ہے۔ اب پاکستان کی حالت یہ ہے کہ ایک طرف وہ امن معاہدے کرتا ہے تاکہ اپنی کشکول چند ریال سے بھر سکے، اور دوسری طرف اسے اپنے آقاؤں کی بات بھی ماننی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان افراتفری جاری رہنی چاہیے۔ اگر پاکستان مکہ معاہدے کی بنیاد پر عملی طور پر میدان میں اترتا ہے تو ظاہر ہے کہ حوثیوں کے ختم ہونے کا خدشہ ہے، وہ حوثی جو مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان اس معاہدے سے نکلنا نہیں چاہتا، کیونکہ اس کی نظریں سعودی عرب کی جیب پر بھی ہیں۔
لہٰذا، اس سارے تنازع سے خود کو نکالنے کے لیے اسے سب سے آسان راستہ یہی دکھائی دیتا ہے کہ افغانستان پر حملہ کرے، تاکہ اس کے انگریز آقا بھی خوش رہیں اور سعودی عرب کے سامنے یہ بہانہ بھی پیش کیا جا سکے کہ ’’ہم خود جنگ میں الجھے ہوئے ہیں۔‘‘ اس طرح ایک تیر سے دو شکار کرتا ہے، ایک طرف افراتفری بھی جاری رہے گی، اور دوسری طرف جیب بھی ریالوں سے بھری رہے گی۔
اسی طرح، اس منافق گروہ کا ایک اور خطرناک مقصد یہ ہے کہ ملک میں ان تمام گروہوں کو جنہیں وہ ’’دہشت گرد گروہ‘‘ کہتے ہیں، افغانستان کے پراکسی گروہوں کے نام سے مشہور کرے، تاکہ دنیا کے سامنے یہ تاثر دیا جا سکے کہ گویا دہشت گردی کا اصل مرکز افغانستان ہے، اور کافر قوتیں ایک بار پھر براہِ راست یا بالواسطہ افغانستان کی طرف متوجہ ہوں۔ اسی مقصد کے لیے یہ فوج باقاعدگی سے مسلح گروہوں کی تربیت کرتی ہے اور داعش خراسان اور مختلف محاذ اسی فوج کے اشاروں پر سرگرم ہیں۔ جیسا کہ دیکھا گیا، ان داعشیوں اور محاذوں نے افغانستان کی صورتِ حال خراب کرنے کی بہت کوششیں کیں، لیکن بحمدللہ تعالیٰ ان کی تمام کوششیں ناکام اور بے اثر ہو گئیں۔ اس کے بعد ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور انہوں نے افغانستان پر براہِ راست حملے شروع کر دیے۔
پاکستان کے باشعور عوام کو سمجھنا چاہیے کہ آپ کی فوج آپ کے ٹیکس کے پیسوں سے آپ کی سرحدوں کی حفاظت نہیں کرتی، بلکہ ان پیسوں سے کاروبار، فیکٹریاں، جزیرے اور بینکوں میں اثاثے بناتی ہے اور ساتھ ہی اپنے گھناؤنے مقاصد کے لیے مسلح گروہوں کی بھی تربیت کرتی ہے۔ یہی اس فوج کا اصل کاروبار ہے۔ آپ کی معیشت کی تباہی کی ایک بنیادی وجہ یہی فوجی پالیسیاں ہیں۔ جب تک یہ پالیسیاں ختم نہیں ہوں گی، نہ پاکستان میں امن قائم ہوگا اور نہ پورے خطے میں استحکام پیدا ہوگا۔ لہٰذا، اے پاکستان کے باشعور عوام! اٹھیں، غفلت کی نیند سے بیدار ہو جائیں، ورنہ جو کچھ ابھی آپ کے پاس باقی ہے، وہ بھی آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔



















































