اگرچہ داعش خود کو مسلمانوں کے سامنے ایک اسلامی اور جہادی جماعت کے طور پر متعارف کراتی ہے، لیکن اس کے اعمال اور طرزِ عمل ایک مختلف حقیقت کو آشکار کرتے ہیں۔ مساجد اسلام کے ابتدائی دور سے ہی امتِ مسلمہ کی دینی، علمی اور معاشرتی زندگی کے بنیادی مراکز رہی ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں اسلام دشمنوں نے انہی مراکز سے شکست کھائی ہے، اور علماء نے مساجد کے منبروں اور جمعہ کے خطبات کے ذریعے لوگوں کو اسلام، جہاد اور راہِ حق کے دفاع کی دعوت دی ہے۔
افغانستان میں امریکہ کی شکست بھی مسجد اور مدرسے کے اسی مورچے سے شروع ہوئی۔ قابضین کے خلاف جہاد کی صدا اور ان کے خلاف جدوجہد کی شرعی مشروعیت کا اعلان جمعہ کے دن مساجد کے میناروں سے بلند ہوتا تھا۔ یہی مساجد اور مدارس اس بات کا سبب بنے کہ افغانستان برطانیہ کے لیے قبرستان ثابت ہوا، سوویت یونین کی کمر افغانستان کے پہاڑوں میں ٹوٹ گئی، اور امریکہ کی فوجی ہیبت خاک میں مل گئی۔ آج افغانستان اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایک مکمل اسلامی نظام کے سائے تلے سانس لے رہا ہے۔
لیکن داعش، جسے ان دینی اور علمی مراکز کے تحفظ اور مضبوطی کے لیے کوشش کرنی چاہیے تھی، اس کے برعکس مساجد کو نشانہ بناتی ہے، انہیں تباہ کرنے کے لیے بارودی سرنگیں نصب کرتی ہے اور نمازیوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرتی ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روکنا اور مساجد کو ویران کرنے کی کوشش کرنا اسلام میں بڑے گناہوں میں شمار ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَىٰ فِي خَرَابِهَا ۚ أُولَٰئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ ۚ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾
"اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ کی مسجدوں میں اس کے نام کا ذکر کرنے سے روکے اور ان کی ویرانی کی کوشش کرے؟ ایسے لوگوں کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ خوف کے سوا ان میں داخل ہوں۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بہت بڑا عذاب۔”
(سورۃ البقرہ: 114)
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ داعش مساجد کو کیوں نشانہ بناتی ہے، جبکہ لاکھوں مسلمان انہی مساجد کے ذریعے اپنے دین کے احکام سیکھتے ہیں اور اسلام کی تعلیمات سے آشنا ہوتے ہیں؟ افغانستان کی مساجد کسی بھی اعتبار سے ان مساجدِ ضرار کی مانند نہیں ہیں جو منافقین نے تعمیر کی تھیں۔
مسجدِ ضرار کے پسِ پشت چار مذموم مقاصد تھے: مسلمانوں کے خلاف سازش کرنا، امت کے درمیان تفرقہ پیدا کرنا، اسلام دشمنوں کے ساتھ تعاون کرنا اور اہلِ ایمان کو اذیت پہنچانا۔ لیکن افغانستان کی مساجد ایمان، اتحاد اور ہدایت کے مراکز ہیں۔ انہی مساجد سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رسول اللہ ﷺ کی پیروی اور اسلامی اخوت کی آواز بلند ہوتی ہے۔
آئیے، داعش کو اسلامی شریعت کے ترازو میں تولتے ہیں۔ کیا وہ سب کچھ جو داعش انجام دے رہی ہے، شریعتِ محمدی کے احکام کے مطابق ہے؟ ہرگز نہیں۔ ان کے اعمال کا اسلامی شریعت سے کسی قسم کا تعلق نہیں۔ اسی لیے داعش ایک گمراہ اور منحرف جماعت ہے جو اسلام کے صراط مستقیم اور شریعتِ محمدی کے مقدس منہج سے ہٹ چکی ہے۔




















































