داعش اسرائیلی اور امریکی جرنیلوں کو ہدف بنانے سے تو آنکھیں چراتی ہے، لیکن علمائے دین کو نشانہ بناتئ ہے۔ اس گروہ کی قیادت کا بیرونی خفیہ اداروں سے تعلق ان کے اعمال سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ ایک طرف جب اسرائیلی جرنیل بے رحمی کے ساتھ بے گناہ بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو شہید کرتے ہیں اور مسلسل اسلام کے مقدسات کی توہین کرتے ہیں، یہاں تک کہ اسلام کے عظیم پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی نازیبا اور بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں۔
تو یہ گروہ ان کا مقابلہ کرنے کے بجائے اُس عالم کو قتل کرتا ہے جس نے اللہ تعالیٰ جل جلالہ کے دین کی تبلیغ کے راستے میں اپنی داڑھی سفید کی ہو۔ کیا ایسے لوگ وہ خلافت قائم کر سکتے ہیں جو امت کے جان و مال کی حفاظت کرے؟
داعش نے اسلامی خلافت کے خوبصورت نام پر ایک سیاہ داغ لگا دیا ہے۔ یہ خارجی گروہ اسلام کو دنیا کے سامنے خوف، دہشت، تشدد اور سر قلم کرنے والے دین کی صورت میں پیش کرتا ہے، حالانکہ اسلام کا مقدس دین ظلم کے خاتمے کے لیے نازل ہوا ہے۔ جب قرآن عظیم الشان نازل ہوا تو دنیا وحشت اور جبر سے بھری ہوئی تھی، مگر اس کے بعد رحمت اور عدل کو فروغ ملا اور ظلم کے ایوان یکے بعد دیگرے منہدم ہو گئے۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی قیادت کے سائے میں بدامنی امن میں بدل گئی۔ خواہ کافر ہو، مسلمان ہو یا یہودی، سب نے پاکیزہ اسلامی حکومت کے زیر سایہ امن و سکون کے ساتھ زندگی گزاری۔ وہ اسلام جس نے انسان اور جن دونوں کو سکون عطا کیا۔
"وَما أَرسَلناكَ إِلّا رَحمَةً لِلعالَمينَ” (سورۃ الانبیاء، آیت ۱۰۷)
ترجمہ:
اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم، اور نتیجتاً دینِ اسلام، پوری دنیا کے انسانوں کے لیے رحمت، مہربانی اور خیر کا سرچشمہ ہے۔ آج کے داعشی خوارج اسلام کو دنیا کے سامنے خوف اور ظلم کی شکل میں پیش کرتے ہیں۔
کیا وہ دین جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کے سامنے پیش کیا، اس چیز سے مطابقت رکھتا ہے جو داعش پیش کر رہی ہے؟ یا داعش عرش سے کوئی نیا دین لے آئی ہے؟
بلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری پیغمبر ہیں اور آپ کی شریعت بھی آخری شریعت ہے۔ داعش ایک انحرافی راستے پر گامزن ہے۔ صحیح بخاری میں آیا ہے:
«رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے کھانے کی چیز (جو) خریدی اور اپنی زرہ اس کے پاس گروی رکھ دی۔»
(صحیح بخاری، حدیث ۲۵۰۹ اور ۲۹۱۶)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بھی مدینہ کے دورِ امن میں یہودیوں کے بازاروں میں جاتے تھے اور تجارت کرتے تھے۔ اگر تجارتی تعلقات کی بنیاد پر اُس نظام کی تکفیر کی جائے جو امت کے نوجوانوں کے خون سے قائم ہوا ہو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا کیا حکم ہوگا جو یہودیوں کے بازاروں میں جایا کرتے تھے؟
آخر میں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ داعش ایک گمراہ گروہ ہے جو اسلام کی سرخ لکیر سے تجاوز کر چکا ہے۔ وہ شریعت جو داعش پیش کرتی ہے، اس کا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے کوئی تعلق نہیں۔




















































