گزشتہ قسط میں امارتِ اسلامیہ اور طالبان کے خلاف داعشی خوارج اور غالی مدخلیوں کی جانب سے دیوبندیت کے متعلق پھیلائے جانے والے شبہات کا علمی اور شرعی جائزہ لیا گیا تھا۔ اسی سلسلے کی اس قسط میں ماتریدیت کے تاریخی پس منظر، اعتقادی بنیادوں، علمی خدمات اور دیگر کلامی مکاتبِ فکر کے ساتھ اس کے اختلافات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے بعد شرعی اصولوں کی روشنی میں اس دعوے کا تجزیہ کیا جائے گا کہ ماتریدی عقیدہ مبینہ طور پر کفر پر مبنی ہے اور اسی بنیاد پر امارتِ اسلامیہ اور طالبان کی تکفیر جائز ہے۔
ماتریدیت: تاریخی پس منظر، اعتقادی بنیادیں اور تکفیر کے دعوؤں کا شرعی جائزہ
ماتریدی عقیدے کی حقیقت اور تاریخی پس منظر
ماتریدیت، علمِ عقائد میں اہلِ سنت کے معروف کلامی مکاتبِ فکر میں سے ایک ہے، جس کی نسبت تیسری صدی ہجری کے اواخر اور چوتھی صدی ہجری کے اوائل کے نامور حنفی عالم، مفسر اور متکلم امام ابو منصور محمد بن محمد الماتریدی السمرقندی رحمہ اللہ (متوفیٰ ۳۳۳ھ) کی طرف کی جاتی ہے۔
امام ماتریدی رحمہ اللہ کسی نئے دین، مستقل عقیدے یا الگ مذہبی فرقے کے بانی نہیں تھے، بلکہ انہوں نے حنفی علمی روایت کے اعتقادی اصولوں کی تشریح، تنظیم اور دفاع میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی کے دلائل کے ساتھ عقلی استدلال سے بھی کام لیا، تاکہ معتزلہ، فلسفیانہ رجحانات اور دیگر کلامی گروہوں کے شبہات کا جواب دے سکیں۔
ان کی اہم علمی تصانیف میں ‘كتاب التوحيد’ اور ‘تأويلات أهل السنة’ شامل ہیں، جن میں توحید، صفاتِ الٰہی، نبوت، ایمان، قضا و قدر اور دیگر اعتقادی مسائل پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔
ماتریدیت کا حنفی اعتقادی روایت کے ساتھ گہرا تاریخی اور علمی تعلق ہے، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ امام ماتریدی رحمہ اللہ کی تمام کلامی توضیحات کو بعینہٖ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اقوال قرار دیا جائے۔
ماتریدی عقیدے کے بنیادی اصول:
ماتریدی علماء کا اعتقادی منہج اسلام کے بنیادی عقائد پر استوار ہے، جس کے اہم اصول درج ذیل ہیں:
۱۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان: ماتریدی حضرات اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اس کی بے مثال ذات، قدرتِ مطلقہ، علم، ارادے اور دیگر صفاتِ کمال پر ایمان رکھتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کو مخلوقات کے ساتھ ہر قسم کی مشابہت سے پاک اور عبادت کا واحد مستحق قرار دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾ (الشورى: ۱۱)
ترجمہ: اس جیسی کوئی چیز نہیں، اور وہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے۔
۲۔ نبوت و رسالت پر ایمان: ماتریدی حضرات تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی نبوت، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و خاتمیت اور قرآنِ کریم کی حقانیت پر ایمان رکھتے ہیں۔
۳۔ غیبی امور اور آخرت پر ایمان: وہ فرشتوں، آسمانی کتابوں، قیامت، حساب، میزان، جنت، جہنم اور دیگر ان تمام غیبی امور پر ایمان رکھتے ہیں جو قرآنِ کریم اور صحیح احادیثِ نبویہ سے ثابت ہیں۔
۴۔ قضا و قدر پر ایمان: ماتریدی حضرات اللہ تعالیٰ کو تمام موجودات کا خالق مانتے ہیں، تاہم اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ انسان اپنے اختیاری افعال میں ارادہ و اختیار رکھتا ہے اور اسی اختیار کی بنیاد پر اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔
۵۔ ایمان کی حقیقت: ماتریدی علماء کی معروف اعتقادی تشریح کے مطابق ایمان کی اصل دل سے تصدیق کرنا ہے، جبکہ دنیاوی احکام کے نفاذ کے لیے زبان سے اقرار کو شرط قرار دیا جاتا ہے۔
وہ کسی کبیرہ گناہ کے مرتکب کو محض اس کے گناہ کی بنیاد پر کافر قرار نہیں دیتے، جب تک اس سے کفر کا کوئی مستقل شرعی سبب ثابت نہ ہوجائے۔ اس اعتبار سے ان کا مؤقف خوارج کے اس عقیدے سے واضح طور پر مختلف ہے، جس کے مطابق کبیرہ گناہ کا مرتکب دائرۂ ایمان سے خارج ہوجاتا ہے۔
ان اصولوں سے واضح ہوتا ہے کہ ماتریدی علماء اسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان رکھتے ہیں، البتہ بعض اعتقادی مسائل کی تفسیر و تشریح اور طریقۂ استدلال میں دیگر کلامی مکاتبِ فکر سے ان کے اختلافات پائے جاتے ہیں۔
ماتریدیت، اشعریت اور اثری منہج کے درمیان اختلافات:
ماتریدیت اور اشعریت اہلِ سنت کے دو معروف کلامی مکاتبِ فکر ہیں۔ اشعریت کی نسبت امام ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ (متوفیٰ ۳۲۴ھ)کی طرف کی جاتی ہے۔
ان دونوں مکاتبِ فکر کے درمیان توحید، نبوت، آخرت اور دیگر بنیادی عقائد کے حوالے سے وسیع اتفاق پایا جاتا ہے، تاہم عقل و نقل کے باہمی تعلق، بعض صفاتِ الٰہی، ایمان، تکوین، حسن و قبحِ عقلی اور انسانی اختیار جیسے مسائل میں ان کے درمیان کلامی اختلافات بھی موجود ہیں۔
دوسری جانب ماتریدی علماء اور اثری یا اہلِ حدیث کے اعتقادی منہج کے پیروکاروں کے درمیان اختلافات زیادہ تر صفاتِ الٰہی سے متعلق نصوص کے فہم، تأویل کی حدود، عقلی استدلال کے استعمال اور علمِ کلام کی مشروعیت کے بارے میں ہیں۔
اثری علماء عموماً صفاتِ الٰہی سے متعلق نصوص کو بلا تعیینِ کیفیت ثابت ماننے پر زور دیتے ہیں اور ان کلامی تأویلات کی مخالفت کرتے ہیں جو ان کے نزدیک منہجِ سلف سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ اس کے برعکس ماتریدی علماء تنزیہِ الٰہی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے بعض متشابہ نصوص کی تفسیر میں تأویل سے بھی کام لیتے ہیں۔
ان اختلافات کی نوعیت اور اہمیت کے تعین میں علماء کی آراء یکساں نہیں ہیں۔ بعض علماء انہیں فروعی اور کلامی اختلافات قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض دوسرے علماء ان میں سے بعض اختلافات کو اعتقادی اہمیت دیتے ہیں۔
لہٰذا نہ تو ان مکاتبِ فکر کے درمیان مکمل یکسانیت کا دعویٰ درست ہے اور نہ ہی ان کے تمام اختلافات کو تکفیر کی حد تک پہنچانا علمی انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔
کسی کلامی نظریے کو غلط یا بدعت قرار دینا اور اس نظریے کے قائل کی تکفیر کرنا دو الگ الگ شرعی مسائل ہیں، جن کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
ماتریدی علماء کی علمی خدمات اور تاریخی اثر و نفوذ:
معتزلہ، باطنیہ، ملحدین، روافض اور دیگر فرقوں کے نظریات کی علمی تردید اور تنقید میں ماتریدی علماء کی خدمات نہایت وسیع اور قابلِ ذکر ہیں۔ ان علماء نے نہ صرف اسلامی عقائد کے دفاع، توضیح اور تشریح کے میدان میں گراں قدر علمی سرمایہ چھوڑا، بلکہ قرآن و سنت کی تدریس، تفسیر، حدیث، فقہ اور دیگر اسلامی علوم کی ترویج و اشاعت میں بھی نمایاں اور مؤثر کردار ادا کیا۔
ان کی علمی کاوشوں کی وسعت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج بھی اسلامی کتب خانوں میں قرآن و حدیث کی شروح، فقہی تصانیف، علمی تحقیقات اور دینی متون کی تدوین و اشاعت کے میدان میں اس مکتبِ فکر سے وابستہ علماء کی خدمات نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔
ماتریدیہ اور اشاعرہ کے اثر و نفوذ کا دائرہ صرف افغانستان یا کسی مخصوص خطے تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ دونوں فکری مکاتبِ فکر صدیوں سے عالمِ اسلام کے وسیع علاقوں میں رائج ہیں۔ ان کی ترقی اور اشاعت میں علمی و تدریسی سرگرمیوں کے ساتھ مختلف اسلامی سلطنتوں اور حکمرانوں کی سرپرستی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
ایوبی اور مملوکی سلطنتوں کے ادوار میں بالخصوص اشعری مکتبِ فکر کو فروغ حاصل ہوا، جبکہ سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں ماتریدی مکتبِ فکر کا اثر و نفوذ مزید وسیع ہوا۔ اس مکتبِ فکر نے ماوراء النہر، وسطی ایشیا، اناطولیہ، بلقان، ہندوستان، افغانستان اور عالمِ اسلام کے دیگر علاقوں میں اپنی جڑیں مضبوط کیں۔
اس فکری مکتب سے وابستہ بڑے علماء اور جلیل القدر شخصیات میں امام کمال الدین ابن الہمام، امام نور الدین صابونی، علامہ ابن نجیم رحمہم اللہ اور دیگر نامور فقہاء و متکلمین کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
ان تاریخی اور علمی حقائق کے پیشِ نظر ماتریدیہ کی شناخت کو محض چند اختلافی کلامی مسائل تک محدود کردینا اور ان کی صدیوں پر محیط علمی، دینی اور تحقیقی خدمات کو نظرانداز کرنا منصفانہ علمی طرزِ عمل کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔


















































