تاریخی مقامات کی سیر اور بتوں کی عبادت میں فرق:
بدھا کے مجسموں کی زیارت کے نام سے جو الزام پیش کیا جاتا ہے، اس میں بھی تاریخی مقامات کی سیر اور مذہبی عبادت کے درمیان فرق ملحوظ نہیں رکھا جاتا۔
افغانستان میں بعض ایسے قدیم مقامات موجود ہیں جہاں تاریخی مجسمے یا ان کی باقیات پائی جاتی ہیں۔ ان مقامات کو آثارِ قدیمہ کے طور پر دیکھنے یا ان کے گردونواح میں سیر و تفریح کے لیے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں موجود مجسموں کی عبادت کی جا رہی ہے یا ان کے سامنے مذہبی رسوم ادا کی جاتی ہیں۔
افغانستان کے مختلف علاقوں کے لوگ عرصۂ دراز سے عیدین اور دوسرے مواقع پر سیر و تفریح کے لیے نکلتے ہیں۔ خصوصاً قندھار، ہلمند، اُرزگان اور جنوبی علاقوں کے باشندے ملک کے دوسرے حصوں کا رخ کرتے ہیں۔ کابل، ہرات، قندوز، بلخ اور بامیان سمیت مختلف علاقوں کی سرسبز وادیوں، خوب صورت مقامات اور تاریخی آثار کو دیکھنے جاتے ہیں۔ ان تفریحی مقامات میں سے بعض جگہوں پر قدیم تہذیبوں کی باقیات بھی موجود ہیں۔
یہ رواج امارتِ اسلامیہ کے قیام کے بعد شروع نہیں ہوا، بلکہ ہمارے معاشرے میں پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ ان مقامات پر لوگوں کی آمدورفت کو یہ معنی پہنانا کہ امارت نے انہیں مذہبی زیارت گاہیں بنا دیا ہے، ایک الگ دعویٰ ہے جس کے لیے دلیل درکار ہے۔
امارت نے ان مقامات کی عمومی سیر و تفریح پر پابندی نہیں لگائی۔ تاہم محض پابندی نہ ہونے سے بت پرستی کی اجازت یا اس کا تحفظ لازم نہیں آتا۔ اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے یہ دکھانا ضروری ہے کہ وہاں عبادت کی کون سی صورت اختیار کی گئی اور امارت نے اس کے بارے میں کیا رویہ اپنایا۔
اہلِ تشیع کے بارے میں امارت کا طرزِ عمل:
جہاں تک افغانستان میں رہنے والے اہلِ تشیع کا تعلق ہے، امارتِ اسلامیہ کے جید علماء کرام محض شیعہ کہلانے کی بنیاد پر ہر شخص پر ایک ہی حکم نہیں لگاتے۔ اس باب میں افراد کے عقائد، ان کے ظاہر کردہ اقوال اور متعلقہ شرعی احکام کے درمیان فرق کیا جاتا ہے۔
کسی گروہ کی طرف منسوب تمام عقائد کو اس گروہ کے ہر فرد کا عقیدہ سمجھ لینا درست نہیں۔ اسی طرح کسی قول یا عقیدے کا شرعی حکم بیان کرنا اور کسی معین شخص پر اس حکم کا اطلاق کرنا بھی الگ الگ معاملات ہیں۔ تکفیر کے باب میں ان تفصیلات اور شرائط کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
یہ فرق اور تفصیل کوئی نئی بات نہیں، بلکہ ان سے پہلے اہلِ سنت کے کئی نامور علماء بھی اس کے قائل رہے ہیں۔ ان میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ بھی شامل ہیں، باوجود اس کے کہ وہ شیعوں کے خلاف سخت موقف رکھتے تھے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ﴾
ترجمہ: اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔
قندھار کے اہلِ تشیع میں بہت سے لوگ ان عقائد سے براءت ظاہر کرتے ہیں جو بعض دوسرے شیعہ گروہوں کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:
’’ہم صحابۂ کرام کو گالیاں نہیں دیتے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر طعن نہیں کرتے اور نہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے درمیان موجود قرآن نامکمل ہے۔ ‘‘
ان سے تعلق رکھنے والے بعض مقامی افراد کا بیان بھی یہی ہے کہ انہوں نے ان کے عام لوگوں یا ان کے اہلِ علم سے ایسی باتیں نہیں سنیں۔ چنانچہ ان کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے ان کے ظاہر کردہ موقف کو سامنے رکھا جاتا ہے، نہ کہ دوسروں کے عقائد لازماً ان کی طرف منسوب کر دیے جاتے ہیں۔
مذہبی اختلاف اور پُرامن معاشرت کی حدود:
امارتِ اسلامیہ نے پورے ملک میں اہلِ تشیع کو ایسی مذہبی سرگرمیاں، جو اہلِ سنت والجماعت کے مسلک سے متصادم ہیں، اپنی عبادت گاہوں اور گھروں تک محدود رکھنے اور سڑکوں پر ان کا اظہار نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اسی طرح انہیں واضح طور پر ہدایت کی گئی ہے کہ دینی مقدسات کا احترام لازم ہے۔ صحابۂ کرام اور امہات المؤمنین رضی اللہ عنہم کی توہین یا ایسے عقائد کے علانیہ اظہار کی اجازت نہیں، جن پر شرعاً مواخذہ لازم آتا ہو۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف شرعی ضابطوں کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
ان کے دروس اور تقاریر کو لاؤڈ اسپیکروں پر نشر کرنے کی اجازت نہیں، جبکہ اذان اس پابندی سے مستثنیٰ ہے۔
ان انتظامی اقدامات کا ذکر اپنی جگہ، لیکن کسی فرد کے قول یا عمل پر شرعی حکم لگانے کے لیے تحقیق اور متعلقہ شرائط کا لحاظ بہرحال ضروری ہے۔ محض الزام کو ثابت شدہ جرم اور ہر اختلاف کو کفر کے درجے میں رکھ دینا درست نہیں۔
شہریوں کی حفاظت، ان کے عقائد کی تائید نہیں:
اہلِ تشیع بھی ہمارے ملک کے باشندے ہیں۔ ان کی جان، مال اور جائز حقوق کی حفاظت کو ان کے تمام مذہبی عقائد کی تصدیق قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اگر وہ مقررہ حدود کی پابندی کرتے ہیں اور کسی قابلِ مواخذہ خلاف ورزی کے مرتکب نہیں ہوتے تو امارتِ اسلامیہ کی ذمہ داری ہے کہ دوسرے شہریوں کی طرح ان کے حقوق کی بھی حفاظت کرے اور کسی کو ان پر ناحق حملہ کرنے یا انہیں نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دے۔
یہاں دو الگ شرعی امور کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے: ایک کسی کے عقیدے اور عمل کا شرعی جائزہ، اور دوسرا اس کی جان، مال اور جائز حقوق کا تحفظ۔ کسی فرد یا گروہ سے اعتقادی اختلاف بذاتِ خود اس کی جان و مال کو مباح قرار دینے کی دلیل نہیں بنتا، نہ ہی کسی کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ ازخود اس پر دست درازی کرے۔ اگر کوئی خلاف ورزی ثابت بھی ہو جائے تو اس کی تحقیق، عدالتی فیصلہ اور اس فیصلے کا نفاذ بااختیار شرعی مراجع کی ذمہ داری ہے، افراد اور گروہوں کی نہیں۔
اسی اصول کی بنا پر، امارت کی جانب سے ان لوگوں کی جان و مال کا تحفظ ان کے عقائد کو درست قرار دینے یا ان کے اعمال کی تائید کرنے کے مترادف نہیں؛ کیونکہ ظلم کی روک تھام بذاتِ خود ایک مستقل شرعی ذمہ داری ہے۔ لہٰذا محض اس تحفظ کی بنیاد پر امارت کو شرک کا حامی قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ ایسے دعوے کے لیے واضح اور معتبر دلیل درکار ہے، جس سے کسی متعین شرکیہ قول یا عمل کی تائید ثابت ہو۔
عدل، دعوت اور اصلاح کی حکمت:
اس طرزِ عمل کا مقصد یہ ہے کہ مذہبی اختلافات کو بدامنی اور باہمی زیادتی کا ذریعہ بننے سے روکا جائے، اجتماعی زندگی میں مقررہ حدود کی پابندی قائم رہے اور دعوت و اصلاح کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو۔
افغانستان میں رہنے والی مختلف برادریوں کی نئی نسلیں جب عدل، پُرامن معاشرت اور علمی دعوت کے ماحول میں پروان چڑھیں گی تو ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنے اور اہلِ سنت کے عقائد و دلائل سے واقف ہونے کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس حوالے سے امید رکھی جا سکتی ہے کہ حسنِ سلوک اور حکمت کے ساتھ دعوت ان کے لیے قبولِ حق کا ذریعہ بنے گی۔
معاشرے کی اصلاح محض سختی سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے علم، عدل، صبر اور حکمت کو بنیاد بنانا ضروری ہے۔ شرعی احکام کے اطلاق میں درست فہم اور تحقیق لازم ہے؛ لہٰذا قبروں کی مشروع زیارت کو شرک، تاریخی مقامات کی سیر کو بت پرستی اور شہریوں کے جائز حقوق کے تحفظ کو ان کے عقائد کی تائید قرار دینا درست نہیں۔ جو لوگ ان امتیازات کو نظرانداز کرکے بے بنیاد احکام لگاتے ہیں، وہ اس طرزِ عمل میں اہلِ سنت والجماعت کے معتدل منہج سے انحراف اور غلو و انتہاپسندی کا شکار ہیں۔ لازم ہے کہ ہر دعوے کو دلیل کی کسوٹی پر پرکھا جائے اور ہر عمل کا شرعی حکم اس کی حقیقی نوعیت کے مطابق متعین کیا جائے۔
یہی حکمت کا تقاضا ہے، اور جسے حکمت عطا ہوئی، اسے یقیناً خیرِ کثیر عطا ہوئی۔




















































