پاکستان کی سیاسی اور دفاعی تاریخ ہمیشہ سے ایسے تضادات کی آمیزش رہی ہے، جنہیں عام فہم منطق کی ترازو میں تولنا محال نظر آتا ہے…
ایک طرف تو حب الوطنی اور قومی سلامتی کا ایک ایسا سخت معیار قائم کیا جاتا ہے، جہاں پالیسی کے مطابق دشمن بنائے جانے والے بھارت سے امن، تجارت یا مشترکہ ثقافتی ورثے کی بات کرنا بھی جرمِ عظیم بن جاتا ہے تو دوسری طرف اسی ریاستی نظام کے اندر سے ایسے فیصلے صادر ہوتے ہیں… جو بظاہر اُسی پڑوسی ملک کے دیرینہ مؤقف کی تصدیق کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ وہ فکری اور عملی خلا اور تضاد ہے، جو پاکستان کے باشعور شہریوں کو اکثر ذہنی طور پر مفلوج اور مایوس کر دیتا ہے۔
اس تضاد کی تازہ ترین اور زندہ مثال وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (FIA) کی ریڈ بک میں جیشِ محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کے سر کی قیمت پچاس لاکھ سے بڑھا کر ستر لاکھ روپے مقرر کرنا ہے…
یہ اقدام محض ایک قانونی کاغذ کا ٹکڑا نہیں، بلکہ اس کے پیچھے دہائیوں پر محیط ایک پوری کہانی، ریاستی پالیسیوں کا اتار چڑھاؤ اور بیانیوں کی ایک طویل جنگ چھپی ہوئی ہے۔
ہمیں اس تضاد کو سمجھنے کے لیے اس تنظیم کے ماضی کا مختصر مگر معروضی جائزہ لینا ہوگا۔ جیشِ محمد پاکستان کے سکیورٹی نظام کے لیے کوئی عام یا اجنبی تنظیم نہیں رہی۔ تاریخ کے ایک خاص دور میں کہ جب ریاست کو اپنے تزویراتی (strategic) مفادات کے تحفظ کے لیے غیر روایتی طریقوں (پراکسی) کی ضرورت تھی، اس تنظیم نے اپنے تئیں ایک محبِ وطن شہری یا اثاثہ جاتی ڈھانچے کا کردار نبھایا۔
کشمیر کے محاذ پر کہ جہاں ہندوستان کا ریاستی جبر اپنے عروج پر تھا اور اب بھی ہے، اس تنظیم نے ایک طویل اور کٹھن عسکری جنگ لڑی۔ اس کے کارکنوں نے ریاستِ پاکستان کی بقا اور مفادات کے بیانیے کے تحت اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس طویل عسکری سفر کے دوران جیشِ محمد نے کبھی بھی پاکستان کے داخلی اثاثوں، قومی تنصیبات یا سکیورٹی فورسز پر بندوق نہیں اٹھائی اور نہ ہی اپنے مطالبات کے لیے ملکی سطح پر کوئی پرتشدد احتجاجی مظاہرہ کیا۔ وہ ہمیشہ ریاست کے اشارۂ ابرو اور سرحد پار کے اہداف تک محدود رہے۔
لیکن جیو پولیٹیکل (Geo-political) یعنی عالمی سیاست کا ایک تلخ اور بے رحم اصول ہے:
‘ریاستوں کے کوئی مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، صرف مستقل مفادات ہوتے ہیں۔’
جب عالمی سطح پر فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF)، آئی ایم ایف اور اقوامِ متحدہ کا دباؤ بڑھا اور پاکستان کی معاشی بقا خطرے میں پڑی تو وہی تنظیمیں کہ جو کبھی سکیورٹی بیانیے کا اہم حصہ تھیں، اچانک ایک بوجھ بنا دی گئیں۔ چناں چہ اسی محبِ وطن تنظیم کو کالعدم قرار دے دیا گیا اور اس کے سربراہ کو اشتہاری مفرور بنا کر ان کے سر کی قیمت لگا دی گئی۔
یہیں سے وہ بڑا تضاد جنم لیتا ہے، جو پاکستانی عوام کے لیے ایک تماشا اور مضحکہ خیز صورت حال پیدا کرتا ہے۔ ایک طرف تو حکومت مصلحتوں کے تحت مولانا مسعود اظہر کو قانون کے لیے ایک ‘انتہائی مطلوب اور خطرناک’ مفرور قرار دیتی ہے، لیکن دوسری طرف زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہ سارا نیٹ ورک بہاولپور جیسے ایک ترقی یافتہ، گنجان اور معزز شہر کے مرکز میں سالہا سال سے قائم ہے۔
پچھلے سال مئی 2025 میں جب بھارت نے ‘آپریشن سندور’ کے تحت بہاولپور میں جیشِ محمد کے مرکز پر فضائی حملے کیے، جس میں مولانا مسعود اظہر کے قریبی رشتے داروں سمیت کئی لوگ شہید ہو گئے تو دنیا نے دیکھا کہ وہ نیٹ ورک کہیں چھپا ہوا نہیں تھا، بلکہ ایک معلوم اور طے شدہ پتے پر موجود تھا اور وہاں دوبارہ تعمیراتی کام شروع ہو گیا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ریاست نے واقعی انہیں مفرور سمجھا تھا تو وہ بہاولپور میں کس کی چھتری تلے موجود تھے؟
یہ سکیورٹی اداروں کی نااہلی نہیں… بلکہ ایک شعوری، ارادی اور خود ساختہ تضاد ہے، جہاں ریاست کاغذوں پر دنیا اور اپنے شہریوں کو دکھانے کے لیے ایک چہرہ سجاتی ہے اور زمین پر اپنے پرانے اثاثوں کو مستقبل میں دوبارہ استعمال کی ضرورت کے تحت بچانے کے لیے دوسری پالیسی اپناتی ہے۔
اس تضاد کو مزید آسان فہم بنانے کے لیے ہم ایک منطقی مثال سے دیکھ سکتے ہیں…
یوں کہ ایک ایسی بڑی فیکٹری کی ہے، جو رات کے اندھیرے میں ایک خاص قسم کا کیمیکل بناتی ہے، تاکہ مارکیٹ میں اپنا تسلط برقرار رکھ سکے۔ لیکن جب حکومت کے انسپکٹرز (IMF, FATF اور UN) کا چھاپہ پڑنے لگتا ہے تو فیکٹری کا مالک (یعنی پاکستانی فوج) خود ہی باہر نکل کر اعلان کر دیتا ہے کہ ‘یہ کیمیکل انتہائی خطرناک ہے اور میں اس پر پابندی لگاتا ہوں اور جو کوئی اس کے بنانے والے کا بتائے گا، میں اسے انعام دوں گا۔’
حالاں کہ وہ فیکٹری اور اس کے مزدور مالک ہی کی نگرانی میں اُسی کی زمین پر کام کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ دہرا معیار بالکل وہی ہے، جو پاکستان کے دوغلے سکیورٹی بیانیے کی ریڈ بک اور بہاولپور کے مراکز کے درمیان پایا جاتا ہے۔
دوسری طرف اس پورے معاملے کا سب سے دردناک پہلو وہ بیانیاتی جنگ ہے، جس میں عام پاکستانی شہری ہمیشہ پِس جاتا ہے۔ پاکستان میں اگر کوئی عام شہری، صحافی یا دانش ور خطے کے امن، دونوں ممالک کے غریب عوام کی بھلائی یا تاریخی و تہذیبی رشتوں کی بنیاد پر بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی بات کرے تو اسے سکیورٹی بیانیے کی مشینری کے ذریعے فوراً ‘پرو انڈیا’ یا ‘بھارت کا ایجنٹ’ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اسے طعنے دیے جاتے ہیں کہ اگر اُسے بھارت کے ساتھ تعلقات نارمل کرنے کی اتنی ہی ضرورت ہے تو وہ پاکستان چھوڑ کر بھارت چلا جائے۔
لیکن دوسری طرف جب پاکستان خود مولانا مسعود اظہر کے سر کی قیمت بڑھاتا ہے تو بھارتی میڈیا اسے اچھالتا ہے اور پوری دنیا کے سامنے اپنی بڑی فتح کے طور پر پیش کرتا ہے۔ بھارتی میڈیا یہ بیانیاتی جنگ جیت جاتا ہے کہ ‘دیکھیں، پاکستان نے بالآخر خود تسلیم کر لیا کہ جس شخص کو ہم سال ہا سال سے دہشت گرد کہہ رہے تھے، وہ واقعی دہشت گرد ہے۔ کیوں کہ اب پاکستان نے خود یہ تسلیم کر لیا ہے۔
اگرچہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر کے مسلمانوں کا اُن کی اسلام پسندی کی حد تک کا مسئلہ مکمل طور پر مذہبی اور جہادی ہے اور اس دوران جو بھی نوجوان وہاں قتل ہوئے، امید ہے کہ وہ اللہ تعالی کی نظر میں شہید ہی ہوں گے، مگر یہاں سوچنے کی بات یہ کہ کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی میں سب سے بڑی رکاوٹ خود پاکستانی فوج نظر آ رہی ہے۔ لہذا اگرچہ کشمیر کی جہادی سرگرمیاں اپنی ذات میں برحق اور جائز ہی ہوں، مگر ایسی سرگرمیوں کو پاکستانی فوج جیسے دوغلے ادارے کے تحت ہرگز انجام نہیں دینا چاہیے۔
یہاں ایک بنیادی اصولی اور اخلاقی سوال کھڑا ہوتا ہے کہ ‘اگر بھارت کے مؤقف سے معمولی سی مماثلت رکھنا ایک عام شہری کے لیے غداری کی علامت ہے تو پھر ریاست کا وہ اقدام کہ جو عالمی سطح پر بھارتی بیانیے پر مہرِ تصدیق ثبت کر دے، اُسے کس معیار کے تحت پرکھا جائے گا؟ کیا بیانیے کے درست یا غلط ہونے کا معیار صرف عام شہریوں کے لیے ہے اور ریاستی اداروں کو اس سے استثنیٰ حاصل ہے؟’
کیوں کہ یہاں تو بھارت کے بیانیے کو پروموٹ کر کے پاکستانی فوج خود ‘پرو انڈیا’، ‘انڈین ایجنٹ’ اور ‘فتنة الہندوستان’ ثابت ہو رہی ہے۔ لہذا ایسی پرو انڈیا فوج کی پاکستان میں کوئی ضرورت اور گنجائش نہیں ہے۔ چناں چہ اس فوج کو انڈیا چلے جانا چاہیے…
یہ صورت حال پاکستان کے عوام اور بالخصوص نوجوان نسل کے لیے ایک بہت بڑا اور گہرا فکری سبق چھوڑتی ہے۔ انسانی زندگی قدرت کا ایک ایسا انمول تحفہ ہے، جو صرف ایک بار ملتا ہے۔ جب ریاستیں بدلتے ہوئے معاشی اور سفارتی حالات کے تحت اپنے ہی پرانے بیانیوں کو دفن کر دیتی اور اپنے فرماں برداروں کو ضرورت ختم ہونے پر قربان کر دیتی ہیں تو عوام کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اُنہیں کسی بھی ایسے جذباتی یا تزویراتی نعرے کا ایندھن نہیں بننا چاہیے، جس کی بنیادیں وقتی سیاسی مفادات پر کھڑی ہوں۔
خاص طور پر ایسی ریاست کہ جس کی پالیسیاں، مفادات، جذبات، تعلقات امریکا و انڈیا کے ساتھ درِ پردہ دوستیوں اور یارانوں کا دوغلا پن ملک روزِ اوّل سے عیاں و عریاں اور واضح و ثابت ہے۔
حب الوطنی کا حقیقی معیار روایتی دشمنی کے کھوکھلے نعروں میں نہیں، بلکہ اپنے ملک کے اندر قانون کی حکمرانی، معاشی خوش حالی، اصولوں کے یکساں اطلاق اور خطے میں پرامن بقائے باہمی کی سوچ میں پنہاں ہے۔ جب تک پاکستان اپنے داخلی بیانیے میں اس اصولی تسلسل کو قائم نہیں کرے گا، یہ تضادات عوامی شعور کو اسی طرح جھنجھوڑتے رہیں گے اور بیانیے کی جنگ میں پاکستان کو ہمیشہ دفاعی پوزیشن پر کھڑا ہونا پڑے گا۔




































