وہ کون سی چیزیں ہیں جو افغانوں کے پاس پہلے نہیں تھیں، لیکن آج وہ ان سے بہرہ مند ہیں؟
افغانستان میں کئی دہائیوں کی جنگوں کے باوجود، سیاست، سیاست دانوں، قومی جماعتوں، مذہبی اور انتہا پسند گروہوں نے ایسے اقدامات کیے کہ افغانوں کی کامیابیاں، قربانیاں اور اقدار خود افغانوں سے چھین لی گئیں۔ مختلف پالیسیاں اور قوانین جو بیرونی عناصر کی جانب سے افغانوں پر مسلط کیے جاتے تھے، اور پھر بغاوتوں اور دیگر خونریز طریقوں کے ذریعے سیاست دانوں کی طرف سے ان کا نفاذ کیا جاتا تھا، یہی وہ چیزیں تھیں جنہوں نے افغانوں کو سخت کچل کر رکھ دیا۔
قومی جماعتوں نے افغانوں کے اتحاد و یکجہتی کو کچل دیا۔ مسلمان بھائیوں کو جماعت، قوم اور زبان کی بنیاد پر ایک ہی دسترخوان سے جدا کر دیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومی اور لسانی رہنماؤں اور جماعتوں نے افغانوں کو اس قدر کچلا کہ تاریخ دہشت اور جبر کی منظرکشی اور بیان سے بھی عاجز ہے۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ وہ افغانوں کو قوم اور زبان کی بنیاد پر ایک دوسرے سے جدا کر رہے تھے، لیکن اسی دوران مذہبی جماعتوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ ان گروہوں نے افغانوں کے جہاد اور جدوجہد کو جماعتی طرز کی تقلید اور مختلف راستوں میں تقسیم کر دیا، یہاں تک کہ کئی جہادی جماعتوں اور انتہا پسند گروہوں کی وجہ سے فتح کے بعد افغانوں کو ایک دوسرے سے دست و گریباں کر دیا گیا۔
لیکن آج وہ چیزیں ختم ہوچکی ہیں جنہوں نے افغانوں کو وقار، جدت اور ترقی کے بجائے خونریزی، لسانی، قومی، مذہبی اور انتہا پسند فتنوں میں الجھا رکھا تھا۔ ان کی چند بڑی مثالیں یہاں ذکر کرتا ہوں:
۱۔ جھوٹی سیاست، سیاست دانوں اور قوانین کا خاتمہ
افغانوں کے اتحاد، ترقی، مضبوطی اور وقار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ جھوٹی سوچ اور بیرونی افکار پر مبنی سیاست، سیاست دان اور قوانین تھے، جو کئی دہائیوں تک افغانوں کو باہمی اور بیرونی جنگوں کی طرف لے جاتے رہے۔ افغانوں کے دشمنوں کا اصرار اس بات پر تھا کہ اپنے جھوٹے اور کٹھ پتلی سیاست دانوں اور رہنماؤں کو افغانوں پر مسلط رکھا جائے اور ان کا دفاع کیا جائے، کیونکہ افغانوں کو مضبوط ہونے اور روشن صبح کی طرف بڑھنے سے روکنے کا کام یہی فکر انجام دے سکتی تھی۔
اسی وجہ سے انہوں نے کئی دہائیوں تک اپنے افکار اور مغربی جدید ثقافت کے لیے کھربوں ڈالر اور قربانیاں صرف کیں، لیکن افغانوں کے ایمانی، مسلم، مضبوط اور مجاہد عزم نے بالآخر ان کی ان سازشوں اور افکار کو ناکام بنا دیا۔ آج ہمارے پاس جھوٹی سیاست، سیاست دانوں اور قوانین کے بجائے اپنے عقیدے، دین، ثقافت اور حقیقت کی بنیاد پر سیاست، رہنما اور شرعی قانون موجود ہیں، جسے ہم کئی دہائیوں کی قربانیوں اور فداکاریوں کا نتیجہ بھی سمجھتے ہیں۔
۲۔ جھوٹی مغربی معیشت، بے روزگاری اور کاہلی کا خاتمہ
کئی دہائیوں کی جنگوں اور بیرونی مداخلتوں کے نتیجے میں مغرب اور یہودیوں نے افغانوں کو فکری، دینی، عسکری، سیاسی اور ثقافتی طور پر کچلنے کے علاوہ معاشی، تعلیمی، اخلاقی اور تجارتی طور پر بھی کچلنے کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔
انہوں نے افغانوں کی معاشی طاقت کو باطل اور مغرب زدہ سیاست میں جھونک دیا تھا۔ اگر کوئی اس سیاست اور فکر کے سائے تلے نہیں آتا تھا تو اس کے لیے معاشی بقا ممکن نہیں ہوتی تھی۔ نظام کو اپنے مفادات کے منبع کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، لیکن بازاروں میں بھکاریوں اور غربت کا راج تھا۔ بازار اور تجارتی نظام، سیاست اور سیاست دانوں کے ساتھ وابستہ تھے، اگر وہ کمزور ہوتے تو بازار بھی کمزور ہوجاتے۔ انہوں نے افغانوں کو کاہلی اور بے روزگاری کے گڑھے میں دھکیل دیا، جس نے معاشرے کے امن اور وقار کو تباہ کردیا۔
افغانوں میں غربت کی شرح اسی سے نوے فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ دوسری جانب تعلیم کو اس قدر ناقص اور بدعنوانی سے بھر دیا گیا کہ افغانوں نے اپنا مستقبل تعلیم میں نہیں بلکہ اقتدار اور مالی طاقت میں دیکھنا شروع کردیا۔ امارتِ اسلامیہ کے آنے کے ساتھ بازاروں، تجارت اور تعلیم کے سامنے جھوٹا سیاہ پردہ ہٹا دیا گیا۔ مصنوعی آسودگی سے حقیقی چھپی ہوئی بھوک اور غربت کا پردہ اٹھ گیا، جس نے کئی دہائیوں تک افغانوں کو جھوٹے خالی بازار اور تجارت کے گرد جمع کر رکھا تھا۔
چنانچہ امارتِ اسلامیہ حقیقی معیشت، تعلیم اور تجارت کا نمونہ بن گئی، جس نے افغانوں کے مستقبل کو عزم اور محنت سے وابستہ کردیا۔ افغانوں کے لیے امارتِ اسلامیہ کی حکمرانی نے تعلیمی، تجارتی، معاشی اور ہمہ جہت جدت و ترقی، اور پھر عصرِ حاضر اور وقت کے تقاضوں کے ساتھ مسابقت کی راہ کھول دی۔ افغانوں کی تجارت خودمختار ہوگئی، تعلیم اور ہمہ جہت جدت ان کی اپنی اور پائیدار ہوگئی۔ ان کی سیاست لسانی، قومی اور دیگر انتہا پسند افکار سے ایک واحد شرعی اور اسلامی عقیدے کی طرف لوٹ آئی۔ افغان سرزمین پر افغانوں کے عقیدے اور ثقافت کے مطابق ثقافت کے فروغ کی راہ ہموار ہوگئی۔
آج افغانوں کے سامنے کئی دہائیوں سے موجود خطرات اور رکاوٹوں کا راستہ روک دیا گیا ہے۔ امارتِ اسلامیہ نے افغانوں کو دوبارہ زندہ کردیا ہے۔ آج افغانوں کی باری اور ذمہ داری ہے کہ دنیا کے ساتھ مسابقت اور مقابلے کے لیے عزم و محنت کا راستہ اختیار کریں، کیونکہ اب حالات اور وقت افغانوں کی خود کفالت کا ہے۔




















































