داعش کی جانب سے یورپی شہریوں کے اغوا اور فدیہ وصولی کے واقعات:
ساتواں واقعہ: فرانسیسی سفارتکار کا اغوا (۲۰۱۸ء)
ایک فرانسیسی سفارتکار کو داعش کے عسکریت پسندوں نے اغوا کیا۔
فدیہ: اس کی رہائی کے عوض ۳.۲ ملین ڈالر کا تقاضا کیا گیا۔
داعش کے نزدیک سفارتکار فدیے کی ایک بڑی اور پُرمنفعت سرچشمہ سمجھے جاتے ہیں، کیونکہ ان کے اغوا کے ذریعے نہ صرف مالی وسائل حاصل کیے جا سکتے ہیں بلکہ بین الاقوامی دباؤ اور ذرائع ابلاغ کی توجہ بھی حاصل ہوتی ہے۔ یہ طرزِ عمل داعش کی مالیاتی حکمتِ عملی اور اس کے عالمی اہداف کے باہمی ربط و ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے۔
ردِعمل کا تجزیہ:
فرانسیسی حکومت نے بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ مل کر سیاسی و سفارتی دباؤ میں اضافہ کیا تاکہ سفارتکار کی رہائی کے امکانات بڑھ سکیں۔ یہ طرزِ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومتیں فدیہ ادا نہ کرنے کے اصول اور سفارتی تدابیر کے استعمال کے درمیان ایک نازک توازن قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
آٹھواں واقعہ: برطانوی معلمہ کا اغوا (۲۰۱۹ء)
شمالی شام میں ایک برطانوی معلمہ کو داعش کے جنگجوؤں نے اغوا کیا۔
فدیہ: اس کی رہائی کے عوض تقریباً ۲ ملین ڈالر ادا کیے گئے۔
اساتذہ کے اغوا کو داعش اپنی بین الاقوامی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھتی ہے، جس کے ذریعے وہ نہ صرف مالی وسائل حاصل کرتی ہے بلکہ عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کراتی ہے۔ یہ کارروائیاں دباؤ کے ایسے مؤثر حربے کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں جو تنظیم کے مالی اور سیاسی مقاصد کو تقویت بخشتی ہیں۔
ردِعمل کا تجزیہ:
برطانوی حکومت نے بین الاقوامی افواج کے ساتھ تعاون میں اضافہ کیا تاکہ یہ معاملہ محفوظ طریقے سے حل ہو اور داعش کے مالی ذرائع کو محدود کیا جا سکے۔
نواں واقعہ: اطالوی صحافی کا اغوا (۲۰۱۹ء)
واقعہ: شام کی جنگ کے دوران ایک اطالوی خاتون صحافی کو داعش نے اغوا کیا۔
فدیہ: اس کی رہائی کے بدلے ۲.۷ ملین ڈالر کا مطالبہ کیا گیا۔
صحافیوں کا اغوا داعش کی مالیاتی حکمتِ عملی کا ایک اہم جزو ہے، کیونکہ ان کے ذریعے تنظیم کو فدیہ کی مد میں رقم بھی حاصل ہوتی ہے اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ بھی حاصل ہوتی ہے۔ اس طریقے سے داعش اپنے مالی اور تشہیری اہداف کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کرتی ہے۔
ردِعمل کا تجزیہ:
اطالوی حکومت نے بین الاقوامی سطح پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی تاکہ صحافی کی محفوظ رہائی ممکن بنائی جا سکے اور داعش کی مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کیا جا سکے۔ یہ اقدام انسدادِ دہشت گردی کی مؤثر حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
دسواں واقعہ: جرمن سیاح کا اغوا کا مقدمہ (۲۰۲۰ء)
واقعہ: ایک جرمن سیاح کو عراق کے ایک علاقے میں داعش کے جنگجوؤں نے اغوا کیا۔
فدیہ: اس کی رہائی کے عوض ۲ ملین ڈالر ادا کیے گئے۔
سیاحت داعش کے لیے مالی وسائل کا ایک نیا اور قابلِ توجہ ذریعہ بن چکی ہے، کیونکہ سیاحوں کے اغوا سے نہ صرف بھاری فدیہ حاصل ہوتا ہے بلکہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ بھی حاصل کی جاتی ہے۔ یہ طرزِ عمل داعش کی مالیاتی حکمتِ عملی کی توسیع کو ظاہر کرتا ہے۔
ردِعمل کا تجزیہ:
جرمن حکومت نے اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے نئے سکیورٹی اقدامات نافذ کیے، جو اغوا کے واقعات کی روک تھام اور داعش کے مالی وسائل کو محدود کرنے کی ایک کوشش تھی۔
گیارھواں واقعہ: فرانسیسی انجینئر کا اغوا (۲۰۲۰ء)
واقعہ: ایک فرانسیسی انجینئر کو شام کی جنگ کے دوران داعش نے اغوا کیا۔
فدیہ: اس کی رہائی کے لیے ۳ ملین ڈالر ادا کیے گئے۔
پیشہ ور انجینئر داعش کی مالیاتی حکمتِ عملی کے اہم اہداف میں شمار ہوتے ہیں، کیونکہ ان کا اغوا محض مالی منفعت کے لیے نہیں بلکہ فنی مہارتوں کے حصول کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔
ردِعمل کا تجزیہ:
فرانسیسی حکومت نے انٹیلی جنس نیٹ ورکس کو مضبوط کرنے اور داعش کی کارروائیوں کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کیے، جو فدیہ نہ دینے کی پالیسی کے عین مطابق تھے۔
بارھواں واقعہ: برطانوی طبی کارکن کا اغوا (۲۰۲۱ء)
واقعہ: ایک برطانوی نرس کو داعش نے اغوا کیا۔
فدیہ: اس کی رہائی کے عوض ۲.۵ ملین ڈالر ادا کیے گئے۔
طبی کارکنان داعش کے لیے مالی لحاظ سے قیمتی ہدف شمار ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے اغوا کے ذریعے فدیہ بھی حاصل ہوتا ہے اور بین الاقوامی اداروں کی توجہ و دباؤ بھی جنم لیتا ہے۔
ردِعمل کا تجزیہ:
عالمی صحت تنظیموں نے اس نوع کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا اور مؤثر بچاؤ کے طریقۂ کار وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
تیرہواں واقعہ: اطالوی سیاح کا اغوا(۲۰۲۱ء)
واقعہ: عراق کے جنوبی علاقوں میں ایک اطالوی سیاح کو داعش کے جنگجوؤں نے اغوا کیا۔
فدیہ: اس کی رہائی کے بدلے ۲ ملین ڈالر ادا کیے گئے۔
داعش نے اپنے مالیاتی ذرائع میں تنوع لانے کے لیے سیاحوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کیا، کیونکہ ان کا اغوا فدیہ کے حصول اور بین الاقوامی توجہ حاصل کرنے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔
ردِعمل کا تجزیہ:
اطالوی حکومت نے اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی سکیورٹی تعاون بڑھانے کی اپیل کی اور اغوا کی وارداتوں کی روک تھام کے لیے اقدامات میں اضافہ کیا۔




















































