انسانی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی عالمی آمدنی (۳)
داعش نے اپنے زیرِ تسلط علاقوں میں، جیسے دیرالزور، رقہ، نینویٰ، حتیٰ کہ لیبیا اور افغانستان میں بھی، انسانی اسمگلنگ کے وسیع نیٹ ورکس قائم کیے۔ اس گروہ نے نسلی، مذہبی یا سیاسی اقلیتوں (مثال کے طور پر ایزدیوں) کی خواتین پر خصوصی توجہ مرکوز رکھی۔ خواتین کو یا تو زبردستی اغوا کیا جاتا یا بے سہارا خاندانوں سے چھین لیا جاتا اور بعد ازاں انہیں جنسی غلامی، گھریلو کام کاج یا دوبارہ فروخت کے ذریعے مارکیٹ میں پیش کیا جاتا۔
رپورٹس کے مطابق، داعش ہر اسمگل شدہ عورت یا لڑکی کے بدلے میں 1500 سے 4000 امریکی ڈالر تک وصول کرتی تھی، جس نے اسے جنگی معیشت کا ایک مستحکم حصہ بنا دیا تھا۔ انسانی اسمگلنگ کے اس طریقے سے داعش نے نہ صرف جنگجوؤں کے درمیان ترغیب اور انعام کا ایک نظام پیدا کیا بلکہ جنسی غلامی کے بازار کو آمدنی کے ایک منظم نظام میں بدل دیا۔
عالمی رپورٹس، جیسے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (UNHRC)، ہیومن رائٹس واچ، اور انٹرنیشنل سینٹر فار دی اسٹڈی آف ریڈیکلائزیشن، یہ ظاہر کرتی ہیں کہ داعش نے انسانی اسمگلنگ کے ذریعے نہ صرف دہشت پھیلائی بلکہ اپنی انٹیلیجنس، لاجسٹک اور مالیاتی نیٹ ورکس کو بھی مضبوط کیا۔ یہ کہ داعش نے کن علاقوں میں کن افراد کو ہدف بنایا؟ ان کی فروخت سے کتنا منافع حاصل کیا؟ ان کی حکمتِ عملی کیا تھی؟ اور بالآخر ہر واقعے کا نتیجہ کیا نکلا اور اس سے کیا اسباق حاصل ہوتے ہیں؟
ان تمام نکات کے پیشِ نظر یہاں چند عملی کیسز، جن میں مقام، ہدف بننے والے افراد، اسمگلرز، مالی فائدہ، حکمتِ عملی، نتائج اور ہر کیس سے حاصل ہونے والے اسباق شامل ہیں، معتبر بین الاقوامی ذرائع سے پیش کیے گئے ہیں تاکہ اس گروہ کا مکروہ چہرہ اور ان کے وہ ظالمانہ اقدامات جو بچوں، لڑکیوں اور عورتوں کے ساتھ کیے گئے، بے نقاب ہو سکیں۔
پہلا کیس: شام میں انسانی اسمگلنگ اور جنسی غلامی
مقام: مشرقی شام، دیرالزور
ہدف بننے والے افراد: ۱۵سے ۲۵ سال کی لڑکیاں
اسمگلرز: داعش کے جنگجو، مقامی اسمگلنگ نیٹ ورکس
مالی فائدہ: فی عورت تقریباً ۲۰۰۰ ڈالر (ابتدائی اسمگلنگ کے بدلے)
طریقۂ کار: اغوا شدہ خواتین کو جنسی غلامی اور گھریلو کام کاج کے لیے فروخت کیا جاتا۔ بعض خواتین کو مزید دیگر علاقوں میں بھی اسمگل کیا جاتا تھا۔
نتیجہ: کچھ خواتین کو بین الاقوامی انسانی تنظیموں نے آزاد کرایا، لیکن بڑی تعداد اب بھی قید میں ہیں۔
سبق: داعش نے اس طریقے سے مسلسل آمدنی کا ایک ذریعہ قائم رکھا۔
دوسرا کیس: کم عمر بچوں کو جنگجو بنانے کے لیے اسمگلنگ
مقام: عراق، موصل
ہدف بننے والے افراد:۱۲ سے ۱۶ سال کے لڑکے
اسمگلرز: داعش کے رسمی جنگجو
مالی فائدہ: ہر کمسن لڑکا جو جنگجو کے طور پر شامل ہوتا، داعش کو سالانہ تقریباً ۱۵۰۰ ڈالر کی آمدنی دیتا تھا۔
طریقۂ کار: لڑکوں کو زبردستی یا غریب خاندانوں سے اٹھایا جاتا اور بعد میں انہیں جنگجو بنایا جاتا۔ بعض اوقات انہیں بیچا جاتا یا دیگر مسلح گروہوں کو بھیجا جاتا۔
نتیجہ: چند بچوں کو مقامی سیکیورٹی فورسز نے آزاد کرایا، لیکن اکثریت اب بھی داعش کے ساتھ ہے۔
سبق: داعش نے انسانی اسمگلنگ کے ذریعے اپنی عسکری طاقت میں اضافہ کیا اور مالی فوائد بھی حاصل کیے۔
تیسرا کیس: خواتین کو مزدوری کے لیے اسمگل کرنا
مقام: شام، رقہ
ہدف بننے والے افراد:۲۰ سے ۳۵ سال کی خواتین
اسمگلرز: داعش، مقامی اسمگلنگ نیٹ ورکس کے تعاون سے
مالی فائدہ: فی عورت ۱۲۰۰ سے ۱۸۰۰ ڈالر، مزدوری کے لیے، نیٹ ورک کے ذریعے داعش کو منتقل کی جاتی تھی۔
طریقۂ کار: خواتین کو گھریلو کام اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے اسمگل کیا جاتا۔
نتیجہ: بعض خواتین کو مقامی انسانی تنظیموں نے مدد فراہم کی اور آزاد کرایا۔
سبق: داعش انسانی اسمگلنگ کے ذریعے اپنی معاشی آمدنی میں اضافہ کرتی رہی۔
چوتھا کیس: اسمگل شدہ خواتین کو دیگر ممالک میں فروخت کرنا
مقام: عراق، صوبہ صلاح الدین
ہدف بننے والے افرد: ۱۸ سے ۳۰ سال کی خواتین
اسمگلرز: داعش کے جنگجو، مقامی اسمگلرز
مالی فائدہ: اوسطاً فی عورت تقریباً ۲۵۰۰ ڈالر میں فروخت
طریقۂ کار: اسمگل شدہ خواتین کو جنسی غلامی اور گھریلو خدمات کے لیے داعش کے زیرِ اثر دیگر علاقوں میں منتقل کیا جاتا۔
نتیجہ: چند خواتین کی بازیابی کی رپورٹس موجود ہیں، لیکن بڑی تعداد اب بھی لاپتہ ہے۔
سبق: داعش انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کے ذریعے ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک مالی وسائل منتقل کرتی رہی۔




















































