داعش کے غیر ملکی جنگجوؤں (FTFs) کے لیے مغربی انتہا پسند حامیوں کی خفیہ مالی معاونت:
گزشتہ چند برسوں میں داعش کی مالیاتی سہولیات اس تنظیم کی مسلسل سرگرمیوں، عالمی اثر و رسوخ اور جنگی کارروائیوں کے لیے نہایت اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔ دنیا کے مختلف خطّوں میں ہونے والی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس گروہ کے مالی ذرائع صرف مقامی وسائل تک محدود نہیں، جیسے تیل کی فروخت، لوٹ مار، ٹیکس وصولی یا خیراتی چندے، بلکہ یورپ اور دیگر مغربی ممالک سے آنے والا ایک خفیہ مالیاتی نیٹ ورک بھی بھرپور طریقے سے سرگرم ہے جو غیر ملکی جنگجوؤں کی معاونت کرتا ہے۔
یہ خفیہ مالیاتی نیٹ ورک داعش کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے بین الاقوامی آپریشنز کے تسلسل میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ یورپی انتہا پسند حامیوں کی سرگرمیوں کے تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ وہ مائیکرو فنانس، چھوٹی مقدار میں مگر مسلسل فنڈنگ، اور مالی اداروں کی نگرانی سے بچ نکلنے کے طریقوں کے ذریعے داعش کے لیے رقوم فراہم کرتے ہیں۔ ان سرگرمیوں میں جعلی خیراتی تنظیمیں، فرضی کاروباری ادارے، سماجی تحفظ کے نظام میں دھوکہ دہی، غیر قانونی بینک قرضوں کا حصول، وی اے ٹی ٹیکس فراڈ اور نقد رقوم کی ترسیل کے لیے کورئیرز کا استعمال شامل ہے۔
ان ذرائع کے ذریعے نہ صرف داعش کے جنگجوؤں کے سفر، تربیت، سازوسامان اور فوجی کارروائیوں کے لیے سرمایہ فراہم کیا جاتا ہے، بلکہ مغربی ممالک کی سکیورٹی ایجنسیوں کے لیے بھی سراغ رسانی اور نگرانی کے عمل کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا جاتا ہے۔
یورپی شدت پسند عناصر داعش کے لیے مالی وسائل جمع کرنے کے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ترکی شام سرحدی علاقوں میں منی ٹرانسفر ادارے جیسے ویسٹرن یونین، منی گرام اور دیگر اسی مقصد کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاکہ یورپ سے داعش کے زیر اثر علاقوں تک رقوم پہنچائی جا سکیں۔
اسی طرح حوالہ یعنی غیر رسمی مالیاتی منتقلی کا نظام بھی داعش کی مالی سرگرمیوں میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ یہ عالمی بینکاری نظام کے دائرۂ نگرانی سے باہر ہے اور رقوم کی ترسیل خفیہ اور پیچیدہ طریقوں سے کی جاتی ہے۔
یورپ سے ہزاروں غیر ملکی جنگجو شام اور عراق کے جنگ زدہ علاقوں تک پہنچے، جہاں وہ داعش میں شامل ہوئے۔ بعض رپورٹس کے مطابق شام کی خانہ جنگی کے آغاز سے اب تک تقریباً پانچ ہزار یورپی یونین کے شہری داعش کے ساتھ جا ملے ہیں۔ ان اسفار کی مالی پشت پناہی یورپی انتہا پسند حامی انتہائی منظم انداز میں کرتے ہیں تاکہ ہر جنگجو کے سفر کے لیے درکار سرمائے کی فراہمی ممکن ہو سکے۔
ان حامیوں کی بڑی حکمت عملی یہ ہے کہ ہر جنگجو اپنی ذاتی دولت، تعلقات اور صلاحیت کے ذریعے خود بھی تنظیم کے لیے مسلسل مالی وسیلہ بن جائے۔ اس طرح وہ نہ صرف داعش کے زیر کنٹرول علاقوں میں اعلیٰ حیثیت اور اثر و رسوخ حاصل کرتے ہیں بلکہ مزید رقوم اکٹھی کرنے کی ترغیب بھی پاتے ہیں۔
بعض یورپی شدت پسند اپنے مجرمانہ پس منظر کے سبب غیر قانونی ذرائع استعمال کرتے ہیں، جیسے جیب تراشی، بینکاری فراڈ، ٹیکس میں جعلسازی اور سوشل سیکورٹی نظام میں دھوکہ دہی، تاکہ جنگجوؤں کے سفر کے اخراجات پورے کیے جائیں۔
خصوصاً وہ افراد یہ سرگرمیاں انجام دیتے ہیں جو بگڑے ہوئے گھریلو ماحول میں پروان چڑھے ہیں، جرائم کا سابقہ ریکارڈ رکھتے ہیں یا کسی مجرمانہ تنظیم سے وابستہ رہے ہیں۔ انہی ذرائع سے جمع ہونے والی رقوم جنگجوؤں کے سفر، ساز و سامان اور داعش کے علاقوں میں قیام کے لیے =حیاتی اہمیت رکھتی ہیں۔
بینکاری فراڈ اور VAT ٹیکس فراڈ کی مثالیں اس مسئلے کی سنگینی کو نمایاں کرتی ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق سویڈن میں ایک ۳۰ سالہ سلفی مبلغ نے VAT فراڈ کے ذریعے تقریباً ۷ لاکھ ۴۰ ہزار ڈالر داعش کے لیے جمع کیے۔ برطانیہ اور ڈنمارک کے متعدد کیسز بھی ظاہر کرتے ہیں کہ انتہا پسندوں نے جعلی کمپنیوں، غیر قانونی بینک قرضوں اور سوشل سیکیورٹی فراڈ کے ذریعے داعش کو فنڈ کیا۔
یہ کیسز ثابت کرتے ہیں کہ یورپ سے غیر ملکی جنگجوؤں کی مالی معاونت ایک منظم اور باقاعدہ نظام کے تحت ہو رہی ہے، جو مالی نگرانی اور قانونی کنٹرول کے لیے سنگین چیلنج ہے۔
نقد رقم لے جانے والے کورئیرز (cash couriers)، پری پیڈ کارڈز اور سوشل میڈیا فنڈنگ؛ یہ سب اس مالیاتی نیٹ ورک کے کلیدی عناصر ہیں۔ انہی کے ذریعے یورپ سے داعش کے علاقوں میں پیسہ پہنچایا جاتا ہے، جو اس کے عسکری آپریشنز، اسلحہ، اور مقامی نیٹ ورکس کی بقا کے لیے نہایت اہم ہے۔
یہ نیٹ ورک صرف شام و عراق میں موجود داعش کی شاخوں تک محدود نہیں، بلکہ یورپ کے اندر بھی اس کے حامیوں کو مالی مدد فراہم کرتا ہے، اس طرح عالمی دہشت گردی کے لیے ایک مضبوط مالی انفراسٹرکچر تشکیل پاتا ہے۔
بالآخر، مغربی انتہا پسند عناصر کی جانب سے غیر ملکی جنگجوؤں کو خفیہ فنڈنگ، داعش کی عالمی بقا کا بنیادی ستون ہے۔ اس نیٹ ورک کی نگرانی، نشاندہی اور روک تھام بین الاقوامی برادری کے لیے ایک اسٹریٹجک ضرورت ہے۔ اس کی کمزوری نہ صرف داعش کے مالی ذرائع محدود کر سکتی ہے بلکہ یورپ میں جنگجوؤں کی سرگرمیوں کو روکنے، انتہا پسند نیٹ ورکس کے خاتمے اور عالمی امن کے تحفظ کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔
اس مالیاتی نیٹ ورک پر تحقیق سے داعش کی بین الاقوامی فنڈنگ، مقامی ہمدردوں کے پھیلاؤ اور عالمی دہشت گرد نیٹ ورکس کی باہمی شراکت پر قیمتی معلومات حاصل ہو سکتی ہیں، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلیجنس سروسز اور مالیاتی ریگولیٹرز کے لیے نہایت اہم رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔




















































