مصر میں داعش کا نفوذ
گزشتہ اقساط میں ہم نے عالمِ اسلام میں داعش کے نفوذ کے تباہ کن اثرات پر گفتگو کی اور یہ واضح کیا کہ داعش کا ظہور امتِ مسلمہ کے لیے مصائب، مشکلات اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے سوا کچھ نہیں تھا اور نہ کبھی ہوگا۔
وہ شام، عراق اور درجنوں دیگر علاقوں میں ظاہر ہوئے، لیکن وہاں ان کی موجودگی وبا کے سوا کچھ نہ تھی اور انہوں نے امت کے جسم پر ناقابلِ تلافی زخم لگائے۔ براعظم افریقہ میں بھی انہوں نے مجاہدین کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا اور اپنے زہریلے خنجر ان کے سینوں میں پیوست کیے۔
انہی میں سے ایک مثال مصر، بالخصوص صحرائے سینا میں ان کا ظہور ہے، جہاں انہوں نے مجاہدین کے خلاف جو نقصانات پہنچائے وہ کبھی فراموش نہیں کیے جا سکتے۔ یہاں ہم واضح کریں گے کہ اس خطے میں داعش نے کیا سرگرمیاں انجام دیں۔
اول: سینا کا جغرافیائی محلِ وقوع
جزیرہ نمائے سینا مصر کے شمال مشرق میں واقع ہے اور اسٹریٹیجک لحاظ سے مشرقِ وسطیٰ کے نہایت حساس علاقوں میں شمار ہوتا ہے:
• مغرب: نہرِ سویز
• مشرق: مقبوضہ فلسطینی علاقے (اسرائیل) اور غزہ کی پٹی
• شمال: بحیرۂ روم
• جنوب: بحیرۂ احمر (خلیجِ عقبہ اور خلیجِ سویز)
اہم قدرتی خصوصیات:
• تقریباً 60,000 مربع کلومیٹر رقبہ
• کھلے میدانوں، دشوار گزار پہاڑوں (خصوصاً جنوبی حصے میں) اور کم آبادی والے علاقوں کا امتزاج
• یہاں کے اصل باشندے بدوی قبائل ہیں جن کی مصر کی مرکزی حکومت کے ساتھ کشمکش اور تنازعات کی طویل تاریخ رہی ہے، ان عوامل نے سکیورٹی کنٹرول کو مشکل بنایا اور اس علاقے کو جہادی سرگرمیوں کے لیے سازگار بنا دیا تھا۔
دوم: سینا میں داعش کا نفوذ
سینا میں داعش کا نفوذ سیاسی، سکیورٹی، سماجی اور جغرافیائی عوامل کے مشترکہ امتزاج کا نتیجہ تھا:
الف) 2011 کے بعد سکیورٹی خلا
• 2011 کے مصری انقلاب کے بعد مرکزی حکومت کا کنٹرول کمزور ہو گیا۔
• سکیورٹی فورسز کچھ عرصے کے لیے سینا سے نکل گئیں، جس سے جہادی گروہوں کی سرگرمیوں کے لیے میدان ہموار ہوا۔
ب) مقامی جہادی گروہوں کی تاریخ
داعش سے پہلے انصار بیت المقدس جیسی جماعتیں سینا میں سرگرم تھیں، جنہوں نے 2014ء میں داعش سے بیعت کر لی اور اپنا نام بدل کر "ولایتِ سینا” رکھ لیا۔
ج) گوریلا جنگ کے لیے موزوں جغرافیہ
پہاڑ، وسیع صحرا اور خفیہ راستے اس بات کا سبب بنے کہ مسلح افراد آسانی سے خود کو چھپا سکیں، اچانک حملے کریں اور تیزی سے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل ہو جائیں۔
د) حساس اور قابلِ نفوذ سرحدیں
غزہ اور اسرائیل کی سرحد سے قربت، اسلحہ اور افراد کی منتقلی کے لیے اسمگلنگ سرنگوں کی موجودگی (خصوصاً ماضی میں)، نیز غیر قانونی تجارت اور زیرِ زمین معیشت کا پھیلاؤ۔
ہ) بعض مقامی قبائل کی ناراضی
اقتصادی اور سیاسی حاشیہ نشینی کا احساس، مقامی باشندوں کے خلاف مصری حکومت کے سخت سکیورٹی اقدامات؛ داعش نے اس ناراضی سے فائدہ اٹھا کر بھرتی کی کوشش کی، اگرچہ بعد میں بہت سے قبائل نے داعش کے خلاف حکومت سے تعاون کیا۔
سوم: مجموعی صورتحال
مصر کی فوج نے تقریباً 2015ء کے آس پاس بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیے اور کچھ عرصے بعد مکمل طور پر علاقے کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے میں کامیاب ہو گئی۔




















































