خواتین، بچوں اور نوجوانوں کو نشانہ بنانا:
داعشی گروہ نے خود کو صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ تصاویر اور الفاظ سے بھی ایک تباہ کن پروپیگنڈا مشین کے طور پر منوایا۔ اس کے پروپیگنڈے کا ایک سب سے مکروہ پہلو خواتین، بچوں اور نوجوانوں کو منظم انداز میں نشانہ بنانا تھا؛ وہ طبقات جو باآسانی تشدد کے تسلسل کے لیے آلات میں بدل سکتے تھے۔
اس گروہ نے نفسیاتی اور سماجی طور پر متاثرہ افراد سے بُری طرح فائدہ اٹھایا، یہاں تک کہ ایک پوری نسل کے ذہن اس حد تک بدل ڈالے کہ وہ نہ صرف خود تشدد کا شکار بنے، بلکہ خود تشدد پھیلانے والے بن گئے۔ خواتین کو ماں اور محافظ کے روایتی کردار کے بجائے ’’نکاحِ جہاد‘‘ کی علامتوں میں بدل دیا گیا؛ وہ بچے جو کتاب اور قلم کے ساتھ پروان چڑھنے چاہیے تھے، انہوں نے ہتھیار تھام لیے؛ اور وہ نوجوان جو مایوسی کا شکار تھے، انہیں ’’مقدس شناخت‘‘ کا دھوکہ دیا گیا، اور وہ قتل، اسمگلنگ اور لوٹ مار کی مشینیں بن گئے۔ وہ لوگ جو خود کو کمزوروں کے محافظ سمجھتے تھے، انہی بے بس کمزوروں کو یا تو ناحق شہید کر دیا، یا انہیں قتل و غارت اور چوری چکاری کے راستے پر ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کیا۔
ان درندہ صفت داعشیوں کے لیے بچے صرف مستقبل کے سپاہی نہ تھے، بلکہ انہیں دہشت اور وحشت کو معمول بنانے کے لیے بہترین ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔
ان بچوں کی تصاویر جنہیں فوجی وردیوں میں گولیاں چلانے کی مشق کرتے ہوئے دکھایا گیا، یا کم عمر لڑکوں کی وہ تصاویر جن کے ہاتھوں میں کٹا ہوا انسانی سر تھا، یہ سب ایک سوچے سمجھے نفسیاتی حربے کا حصہ تھیں۔ داعش اس طرح کے مناظر دکھا کر اخلاقی حدود کو مٹانا اور تشدد کو ایک معمولی روزمرہ کھیل بنا دینا چاہتی تھی۔
یہاں تک کہ داعش کے زیرِ کنٹرول اسکولوں میں بچوں کی تعلیم؛ علم و ادب پر نہیں بلکہ سازشی نظریات اور نفرت پر مبنی تھی۔ انہیں یہ بات بخوبی معلوم تھی کہ اگر وہ ایک بچے کے ذہن کی تشکیل ابتدا سے کرلیں، تو مستقبل میں اس پر قابو پانے کے لیے کسی طاقت یا جبر کی ضرورت نہیں ہوگی؛ بلکہ وہ خود اپنے خیالات کا قیدی بن جائے گا۔
تاہم یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ داعش کے پروپیگنڈے میں خواتین کا استحصال جس سطح پر ہوا، اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ ایک طرف وہ انہیں ’’خلافت کی محافظات‘‘ کے طور پر پیش کرتے، اور دوسری طرف انہیں جنسی اور پروپیگنڈا کے اوزاروں میں بدل دیتے۔
اس شدت پسند تنظیم نے باحجاب اور مسلح خواتین کی تصاویر پھیلانے کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ تشدد اور قتل و غارت گری صرف مردوں کا کام نہیں، بلکہ یہ خواتین کی بھی ذمہ داری ہے۔
حتیٰ بعض مواقع پر وہ مغربی خواتین جو داعش میں شامل ہوئی تھیں، محض میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے ایک آلے کے طور پر استعمال کی جاتی تھیں۔
میڈیا میں ان کی موجودگی ایک طرف لوگوں میں تجسس پیدا کرتی تھی اور دوسری طرف وحشت اور خوف کو ایک معمول کی چیز بنا دیتی تھی۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ یہ خواتین بالآخر یا تو جنسی غلامی کا شکار بن جاتی تھیں، یا بہترین صورت میں انہیں ’’خلافت کے سپاہیوں‘‘ کی نسل پیدا کرنے والی مشینوں کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
ان تمام معاملات میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ نوجوان داعش کا سب سے اہم ہدف تھے۔
یہ گروہ بخوبی جانتا تھا کہ ایک گمراہ نوجوان خام مواد کی مانند ہوتا ہے، جسے جیسے چاہیں ڈھالا جا سکتا ہے۔ ’’تعلق کا احساس‘‘ اور ’’زندگی کے مقصد‘‘ جیسے خالی خولی وعدوں کے امتزاج سے وہ انہیں اپنے جال میں پھنسا لیتے۔
یورپی اور عرب نوجوانوں کے لیے داعش کا پیغام مختلف انداز کا ہوتا، لیکن منزل ایک ہی ہوتی:
یورپ کے پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے ایک لڑکے کے لیے ’’جہاد‘‘ کو نسل پرستی اور شناخت کی کمی سے بچنے کا راستہ دکھایا جاتا، جبکہ ایک عرب نوجوان کے لیے، فاسد حکومتوں کے خلاف ایک انقلابی تحریک گنوایا جاتا۔
دونوں صورتوں میں انجام ایک ہوتا: وہ موت کی ویڈیوز میں ایک بے نام اور بے چہرہ کردار میں بدل جاتا،
ایسا انسان جو نہ شناخت رکھتا، نہ مستقبل، او اس کی واحد یادگار وہ جرم ہوتا جو اس نے انجام دیا ہوتا۔
اگرچہ داعش کا سقوط اس کے پروپیگنڈا نظام کے لیے ایک بڑا دھچکہ تھا، لیکن جن معاشروں کو نشانہ بنایا گیا تھا، ان پر اس کے گہرے زخم باقی رہ گئے۔ وہ بچے جو نفرت کے ماحول میں پروان چڑھے، وہ خواتین جو اپنے آپ سے بیگانہ ہو گئیں اور وہ نوجوان جنہوں نے اپنی زندگی کے بہترین سال اس فریب میں گزار دیے؛ اب ایک بڑے چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں:
ہم ایسے شخص کو عام زندگی میں کیسے واپس لا سکتے ہیں جسے بچپن سے یہی سکھایا گیا ہو کہ ’’دوسروں کو قتل کرو‘‘؟
اس سوال کا جواب جنگ کے میدان میں نہیں، بلکہ تعلیم، فکری تربیت اور سماجی بحالی کے میدان میں پوشیدہ ہے۔
داعش ختم ہو گئی، لیکن اس کی فکری اولاد اب بھی انتظار میں بیٹھی ہے ،اب بھی اپنی نام نہاد ’’خلافت‘‘ کے وہم میں مبتلا ہے۔




















































