حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا ہر لمحے تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے اور ایک غیر متوازن پہیے کی طرح گھوم رہی ہے۔ واقعات اور حالات اتنی تیزی سے بدل رہے ہیں کہ تجزیہ کار بھی حیران رہ جاتے ہیں۔ عدم استحکام اس قدر غالب ہے کہ کوئی تجزیہ بھی حتمی یا دائمی نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی تجزیہ کار اپنی رائے کو آخری اور ناقابل تغیر مانتا ہے۔
واقعات تیزی سے رونما ہوتے ہیں، تیزی سے بڑھتے ہیں، اور چونکہ ان کی کوئی مضبوط بنیاد یا جڑ نہیں ہوتی، وہ اسی تیزی سے ختم یا فنا ہو جاتے ہیں۔ اس تیزی سے بدلتی دنیا میں، اگر ہم داعش جیسی دہشت گرد تنظیم پر غور کریں، تو دیکھتے ہیں کہ ایسی تنظیموں کے خاتمے سے دنیا کتنی پرسکون اور مستحکم ہو جائے گی۔ داعش کے بغیر دنیا اتنی خوبصورت اور پرامن ہو گی کہ موجودہ حالات کے بارے میں سب سے زیادہ پرامید انسانوں کے تصورات سے بھی بڑھ کر ہو گی۔
داعش نے اپنے وجود سے عالمی سطح پر ذہنوں میں اس قدر خوف پھیلایا کہ سکون نام کی کوئی چیز باقی نہ رہی۔ اپنے دہشت گردانہ اقدامات کے ذریعے، جو کسی انسانی یا دینی حدود کو تسلیم نہیں کرتے، داعش نے دنیا بھر میں خوف کی ایک وسیع لہر پھیلائی۔ اگر ہم دنیا کو داعش اور اس جیسی تنظیموں کے بغیر تصور کریں، جو وحشت اور دہشت کے نظریے پر عمل پیرا ہیں، تو یہ ایک انتہائی پرامن اور سکھی دنیا ہو گی۔
نئی نسل اور نئے دور کو ماضی کے ادوار اور نسلوں کی نسبت امن اور سکون کی زیادہ ضرورت ہے اور یہ پرامن زندگی جینے کے لیے کوشاں ہے۔ نئے دور اور نئی نسل کی سب سے بڑی ضرورت زندگی میں سکون اور عقیدے میں اطمینان ہے۔ ہر وہ عنصر جو اس سکون اور اطمینان کو ختم کرے یا اسے خطرے میں ڈالے، نئے دور اور نئی نسل کے خیالات اور عقیدے میں کوئی جگہ نہیں رکھتا اور اس سے نفرت کی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی اور وحشت کا رجحان اسلامی تعلیمات میں بھی کوئی جگہ نہیں رکھتا اور اس کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔
داعش نے جو حکمت عملی اپنائی ہے، اگر وہ مزید اقدامات اٹھاتی ہے تو دنیا کو تاریک تباہی کی طرف لے جائے گی۔ لیکن اگر ہم موجودہ دنیا کے سماجی اور دینی زندگی کو مثبت نظر سے دیکھیں اور انسانیت کی بہتری کے لیے مثبت سوچ کی بنیاد پر داعش اور اس جیسی تاریک تنظیموں کو دنیا سے الگ کر دیں، تو دنیا کتنی خوبصورت اور پرسکون ہو جائے گی۔ داعش کے بغیر دنیا واقعی ایک پرامن اور خوشحال دنیا ہو گی۔
داعش کے نظریے میں وحشت اور دہشت ایک بنیادی اصول ہے، اور اسی اصول کی بنیاد پر وہ اپنے وجود کو ظاہر کرتی ہے۔ داعش کے بغیر دنیا وہی ہے جس کی تلاش امن پسند اور امن دوست لوگ کر رہے ہیں، کیونکہ داعش کے بغیر دنیا میں وہ وحشت موجود نہیں ہو گی جو بغیر کسی شرط یا استثناء کے لوگوں پر مسلط کی جاتی ہے۔
داعش کے بغیر دنیا میں مجرم کو اس کے اعمال کی سزا ملے گی، لیکن مظلوم اور وہ شخص جس پر ظلم کیا گیا، سزا سے محفوظ رہے گا۔ داعش کے بغیر دنیا میں بے گناہ اور گنہگار ایک ساتھ تباہ نہیں ہوں گے۔ جو شخص تباہی کا مستحق ہے، وہی تباہ ہو گا، اور جو شخص زندگی اور انعام کا حق دار ہے، وہ اپنی زندگی خوشی اور خوبصورتی کے ساتھ گزارے گا۔
داعش کے بغیر دنیا میں، مسائل مذاکرات کے ذریعے حل ہوں گے، اور مقابلہ دینی اصولوں، بنیادی اقدار اور انسانی تعلیمات کی بنیاد پر منظم ہو گا۔ داعش کی موجودگی میں کوئی محفوظ نہیں، نہ کوئی خیال یا عقیدہ جارحیت سے بچ سکتا ہے، اور نہ ہی کوئی انسان بطور انسان محفوظ رہ سکتا ہے۔ اس دنیا میں جہاں داعش اور اس کا تاریک نظریہ غالب ہو، انسان حقیقی معنوں میں انسان نہیں رہتا، کیونکہ نسلی برتری کا خیال ان کے نظریے کا حصہ ہے۔ جب تک یہ نظریہ ان کے ذہنوں میں موجود ہے، انسانیت کے بارے میں ان کا نقطہ نظر تبدیل نہیں ہو گا۔
داعش کے بعد کی دنیا مثبت حکمت عملیوں اور مضبوط اقدامات کے ساتھ آگے بڑھے گی۔ داعش کے بغیر دنیا میں مندرجہ ذیل چیزیں اس شدت کے ساتھ موجود نہیں ہوں گی: بغیر عدالت کے سزا، عمومی خوف و ہراس، انسانی بے حرمتی، اور انسانی وقار کی پامالی۔ آئندہ بحثوں میں ان موضوعات پر مزید روشنی ڈالی جائے گی اور مختلف تجزیات و نقطہ ہائے نظر کا جائزہ لیا جائے گا۔




















































