وہ گروہ جو ’’اسلامی ریاست‘‘ یا داعشی خوارج کے نام سے جانا جاتا ہے، اس نے اپنے منحوس آغاز ہی سے یہ بھرپور کوشش کی کہ خود کو اسلامی عدل و انصاف کے علمبردار کے طور پر پیش کرے۔ اس گروہ کے رہنماؤں اور کمانڈروں نے اپنے بیانات میں بار بار یہ دعویٰ کیا کہ وہ ’’اسلامی خلافت‘‘ کو دوبارہ قائم کریں گے، شریعت کا نظام مکمل طور پر نافذ کریں گے، فساد کا خاتمہ کریں گے اور مظلوموں کو ظالموں سے ان کا حق دلائیں گے۔
یہ دعوے ان بہت سے نوجوان مسلمانوں کے لیے دلکش اور پُرکشش معلوم ہوتے تھے، جو کٹھ پتلی حکومتوں کے کرپشن اور قابض قوتوں کے ظلم سے تنگ آ چکے تھے۔ انہی نعروں اور دعوؤں کے ذریعے داعشی خوارج نے متعدد سادہ لوح نوجوانوں کو دھوکہ دینے میں کامیابی حاصل کی، کیونکہ ان کا پروپیگنڈا قرآنِ کریم کی آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے مزین ہوا ہوتا تھا؛ لیکن غلط تشریح، گمراہ کن تعبیر اور انحراف کے ساتھ۔
داعش سے وابستہ تمام تر پروپیگنڈا میڈیا ایسے ایک مثالی اور قطعی اسلامی معاشرے کی تصویر پیش کرتا تھا، جس میں بظاہر مکمل عدل و انصاف اور امن قائم ہو اور شریعت کے تمام احکام سختی اور قطعیت کے ساتھ نافذ کیے جا رہے ہوں۔ عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے یہ لوگ حدود کے نفاذ کے مناظر نشر کرتے، جیسے قصاص کا اجراء، چوروں کے ہاتھ کاٹنا اور یہ دعویٰ کرتے کہ یہی وہ حقیقی انصاف ہے جس کی اسلامی دنیا کو ضرورت ہے۔
لیکن حقیقت کا میدان اس کے برعکس تھا۔ داعش نے عدل و انصاف کے قیام کے بجائے دنیا کے سامنے ظلم، وحشت اور بے رحمی کی بدترین مثالیں پیش کیں۔ انہوں نے حدود کے نام پر بے گناہ لوگوں کے سر قلم کیے، عوام کو جھوٹے الزامات اور جعلی مقدمات کے ذریعے کافر قرار دیا، اور ان کے اموال کو مباح ٹھہرایا۔ جن علاقوں پر انہوں نے قبضہ کیا، وہاں امن کے بجائے قتل عام، تشدد، گھروں کی تباہی، اموال کی لوٹ مار اور عوام کو بے گھر کرنے کی لہر پھیل گئی۔
داعش نے اگرچہ عدل و انصاف کے نعرے لگائے، لیکن اس نے امن و امان اور انسانی وقار کو تباہ کر دیا۔ اس نے خلافت کے قیام کا وعدہ کیا، لیکن ظلم، تشدد، فرقہ واریت اور تکفیر کے ذریعے اُس حقیقی خلافت کی بنیادیں کھوکھلی کر دیں، جس کا قیام اسلامی اخوت، عدل، مشاورت اور اعلیٰ اخلاقیات پر ہونا چاہیے۔ یہ گروہ دعویٰ کرتا تھا کہ امت کو یکجا کرے گا، مگر اس نے امت کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا اور مذہبی و نسلی اختلافات کو ہوا دی۔
داعش کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ اس کے زیادہ تر مظالم کا نشانہ خود مسلمان ہی بنے، اگر واقعی یہ گروہ کفار کے خلاف میدان میں آیا تھا، تو پھر اس کے زیادہ تر بم دھماکے، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گرد حملے مسلمانوں کے بازاروں، گلیوں، حتیٰ کہ مساجد میں کیوں کیے گئے؟
کیوں اس کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں ہزاروں مسلمان خواتین اور بچے مارے گئے یا ہجرت پر مجبور ہوئے؟
کیوں اس گروہ نے اسلام کی شکل کو مسخ کرنے کے لیے لوگوں کے سر قلم کیے، آگ میں جلایا، اور ایسے مناظر دنیا کے سامنے پیش کیے جن سے اسلام کا چہرہ خوفناک، وحشی اور بھیانک دکھائی دینے لگا؟
آخرکار، یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ داعش عدل کے صرف کھوکھلے نعرے لگانے اور عدل کے نام پر ظلم پھیلانے کے لیے میدان میں آئی تھی اور یہ اسلام کے مقدس اور رحمت بھرے دین کے ساتھ ایک نہایت سنگین خیانت تھی۔




















































