مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کا نعرہ ایک ایسا جھوٹا دعویٰ تھا، جو ہمیشہ داعشی خوارج کے رہنماؤں اور کمانڈروں کی طرف سے عوام کے ذہنوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، تاکہ امت کے نوجوانوں کے دل جیتے جائیں اور انہیں اپنی تنظیم کی صفوں میں شامل کیا جائے۔
«وحدت» اور «اتحاد» کے الفاظ اکثر خوارج کے رہنماؤں کی تقریروں میں سنے جاتے تھے۔ ان میں سے ایک ابو محمد العدنانی نے 29 جون 2014 کو "ھذا وعد اللہ” کے عنوان سے ایک تقریر میں اپنی نام نہاد خلافت کا اعلان کیا اور وضاحت کی۔ داعشی گروہ نے "خلافت”، "وحدتِ امت” اور "اسلامی بھائی چارے” جیسے مقدس اسلامی تصورات کے تحت وسیع پروپیگنڈا کیا اور خود کو نہ صرف ایک جہادی تحریک بلکہ ایک اسلامی ریاست کے طور پر پیش کیا۔
وہ خود کو مسلمانوں کے نجات دہندہ اور تفرقہ و ذلت کے خاتمے کا باعث قرار دیتے تھے۔ انہوں نے خلافت کی بحالی اور استعماری سرحدوں کے خاتمے کے وعدے کیے، تاکہ اسلامی عزت کو واپس لایا جائے۔ لیکن عملاً انہوں نے نہ صرف اتحاد کو نقصان پہنچایا، بلکہ تفرقہ، نفاق اور نفرت پھیلائی۔ خوارج نے اس پوری مدت میں یہ دعویٰ کیا کہ وہ عراق اور شام میں اپنی خلافت قائم کرکے مسلمانوں کو مذہبی اور سیاسی اختلافات سے نجات دیں گے اور سب کو ایک جھنڈے تلے جمع کریں گے۔
ان جھوٹے دعووں اور نعروں کی بدولت انہوں نے سینکڑوں نوجوانوں کو، حتیٰ کہ یورپی ممالک کے نوجوانوں کو بھی اپنی طرف راغب کیا۔ یہ نعرے "وحدتِ امت”، "ایمانی بھائی چارے” اور "طاغوتی حکومتوں” کے خاتمے کے دعووں پر مبنی تھے۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ داعش لی لغت میں "وحدت” کا مطلب صرف ایک خود ساختہ رہنما کی بیعت، ان کے باطل عقائد کو قبول کرنا اور شریعت کے اصولوں سے متصادم بے بصیرت اطاعت تھی۔
اگر کوئی ان اصولوں کی خلاف ورزی کرتا، چاہے وہ عالم ہو، مجاہد ہو یا عام مسلمان، تو ان کے نزدیک وہ دشمن تھا، مرتد تھا، اس کی تکفیر کی جاتی تھی اور اس کی سزا موت تھی۔ جب انہوں نے کچھ علاقوں میں اقتدار حاصل کیا، تو اپنے جھوٹے دعوؤں کے برعکس ایسے اعمال کیے کہ یہی نہیں کہ امت مسلمہ کو متحد نہ کیا، بلکہ امت کو تفرقہ اور نفرت کے شعلوں میں جھونک دیا۔
خوارج کے زہریلے اعمال نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے تمام مواقع ختم کر دیے اور اسلامی سرزمین پر دشمنوں کے اثر و رسوخ کے دروازے کھول دیے۔ خوارج کے اس گمراہ مکتب کے پیروکاروں نے نہ صرف امت مسلمہ کے درمیان اختلافات پیدا کیے، بلکہ امت کے بہترین حصے، یعنی جہادی گروہوں کے درمیان گہرے اختلافات پیدا کیے۔ یہ منحوس حرکتیں باہمی جنگوں اور مجاہدین کی ہلاکتوں کا سبب بنیں۔
داعش اگرچہ اسلامی اتحاد کی چھتری تلے میدان میں آئی، لیکن عملاً امت کے تفرقہ اور نفرت کا ایک بڑا سبب بنی۔ کیونکہ امت مسلمہ میں اتحاد تکفیر، قتل اور زور زبردستی سے نہیں آتا، بلکہ وہ چیز جو امت مسلمہ کو متحد کرتی ہے، وہ قرآن عظیم الشان اور سنت کا گہرا فہم، الہی رحمت اور اعتدال ہے۔




















































