شہادت مسلمان نوجوان کی آخری آرزو اور سب سے بڑا اعزاز ہے۔ شہادت فنا ہوتے قافلوں میں نئی روح پھونک دیتی ہے، شہادت خاموش افکار کو بیدار کرتی ہے، اور شہادت امت کی امیدوں کی کلیوں کو گلابوں میں بدل دیتی ہے۔
باطل جان لے کہ جس طرح تم شراب اور اخلاقی فساد کے دلدادہ ہو، اسی طرح ہم تمہارے مقابلے میں گرم معرکوں، زخمی جسموں اور شہادت کے بلند مناروں کے عاشق ہیں، تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔
صہیونی رجیم اور ابو شباب کے غرق شدہ لشکر سے ہم کہتے ہیں:
غزہ کا ہر جوانمرد احمد یاسین ہے، سنوار ہے، ہنیہ ہے، ضیف اور ابو عبیدہ ہے۔ تم ابو عبیدہ اور دیگر قائدین کی شہادت کے ذریعے کبھی بھی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکو گے۔
اس قافلے کی بقا ہزاروں ابو عبیدہ کی موجودگی سے یقینی ہے۔ ہر ماضی، حال اور مستقبل کا نوجوان ابو عبیدہ ہے۔ ابو عبیدہ کی آواز جب تک یادوں میں زندہ ہے، آنے والی نسلوں تک پہنچتی رہے گی، اور وہ اسے یوں سنیں گی جیسے ابو عبیدہ براہِ راست ان سے مخاطب ہو۔ یہ آواز عزم کو مضبوط کرے گی اور دشمن کے مقابل کھڑا ہونے کے لیے تیار کرے گی۔
امت مسلمہ کے گمنام قافلوں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ اپنے قائدین کی شہادتوں سے نہ مٹے اور نہ ہی ان کے حوصلے پست ہوئے۔ ان قافلوں کے نوجوان شہادت سے مانوس ہیں، شہادت انہیں مزید مضبوط کرتی ہے اور باطل کے مقابل جہاد کے لیے آگے بڑھاتی ہے۔
آئیے آج شہادت کے اس عظیم قافلے کے ایک اور ستارے کی زندگی کی کتاب پڑھیں، اس شخص کی زندگی کی داستان جس نے کفر کے افکار کو ناکام بنایا، جس کی باتوں نے باطل کے قلعے ہلا دیے، وہ آواز جس نے وقت کے فرعون اور ہامان کو لرزا دیا، اور وہ شخصیت جس نے شہید احمد یاسین کی شبیہ کو افکار میں زندہ کر دیا۔ یہ ستارہ اور شخصیت شہید، سعید ابو عبیدہ ہے۔
شہید حذیفہ الکحلوت (ابو عبیدہ) تقبلہ اللہ امت مسلمہ کے گزرے اور موجود قائدین میں ایک نمایاں شخصیت تھے، ایسی شخصیت جس نے مسلمان نوجوان کے فکر و قلم کو کفر کے مقابل زندہ رکھا۔
ان کی پیدائش 11 فروری 1985ء کو غزہ کی پاک اور جہاد پرور سرزمین پر ہوئی۔ ابو عبیدہ کی پیدائش اہلِ ایمان کے لیے رحمت اور باطل کے لیے عذاب تھی۔ وہ حماس کے دیگر گمنام اور دلیر قائدین کی طرح طویل عرصہ ہجرت کی سرزمین میں رہے۔ اصل میں وہ نیلیا کے رہنے والے تھے، جہاں سے ان کے خاندان نے ظلم سے نجات کے لیے ہجرت کی اور 1948ء میں غزہ میں آ کر آباد ہوا۔
ابو عبیدہ نے جدید تعلیم کے میدان میں قدم رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اعلیٰ صلاحیت عطا کی تھی۔ انہوں نے اسلامی یونیورسٹی سے عقیدہ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ وہ ممتاز طلبہ میں شامل تھے اور اساتذہ کی توجہ حاصل کر چکے تھے۔
وقت گزرنے کے ساتھ وہ شہید احمد یاسین کے قافلے کے ایک سرگرم مجاہد بن گئے۔ 2002ء اور 2003ء کے درمیان وہ کتائب القسام کے نوجوانوں کی صفوں میں نمایاں ہوئے۔ بعد ازاں 2 اکتوبر 2004ء کو شمالی غزہ میں ایک کانفرنس میں شریک ہوئے۔
2005ء میں انہیں کتائب القسام کا رسمی ترجمان مقرر کیا گیا۔ انہوں نے اپنی ترجمانی کی ذمہ داری مضبوط منطق، مؤثر الفاظ اور بلند حوصلے کے ساتھ انجام دی۔ ان کی ہر تقریر ساتھیوں کے عزم کو بلند اور دشمن کے ارادے کو کمزور کرتی تھی۔ ان کا پہلا بڑا اعلان صہیونی فوجی گلعاد شالیت کی گرفتاری کی خبر تھا، جس نے مظلوم فلسطینی عوام کے دلوں کو تسلی دی اور دشمن کے ایوانوں کو ہلا دیا۔
صہیونی رجیم نے کئی مرتبہ ابو عبیدہ کو شہید کرنے کی کوشش کی۔ 2008ء سے 2014ء کے دوران ان کے خاندان کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا، مگر اس کے باوجود ان کا عزم متزلزل نہ ہوا۔ 2023ء میں ایک بار پھر ان کے خاندان کے گھروں پر بمباری کی گئی۔ ابو عبیدہ نے اپنے دین کی خاطر اپنے خاندان کے کئی افراد قربان کیے۔
انہوں نے بیس برس تک نقاب پوش حالت میں قسام بریگیڈ کے عسکری میڈیا کی ذمہ داری نبھائی۔ دشمن نہ ان کا نام معلوم کر سکا اور نہ ہی ان کی تصویر۔ ان کی آواز مظلوم عوام کی زبان تھی اور آج بھی اہلِ ایمان کی یادوں میں زندہ ہے۔
18 جولائی 2025ء کو ان کی آخری تقریر سنی گئی۔ 30 اگست کی رات دشمن کی شدید بمباری میں وہ اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ شہید ہو گئے۔ اس حملے میں خواتین اور بچوں سمیت تقریباً 40 افراد شہید ہوئے۔
29 دسمبر 2025ء کو کتائب القسام نے ان کی شہادت کا اعلان کیا اور ایک نئے ترجمان کا تقرر کیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون، اللہ ان کی شہادت قبول فرمائے اور ان کے خون کو فلسطین کی آزادی کی بشارت بنا دے۔ آمین




















































