قاری بختیار علی فاروق ولد گلستان، 1992ء میں صوبہ ننگرہار کے ضلع سپین غر کے گاؤں حجم کلا میں ایک دیندار اور متقی خاندان میں پیدا ہوئے۔
بچپن ہی سے انہیں دینی تعلیم حاصل کرنے سے محبت تھی۔ انہوں نے گاؤں کی مسجد کے امام سے تیسرے درجے تک ابتدائی دینی تعلیم حاصل کی۔ ابھی کم سن ہی تھے کہ اپنے ارد گرد کے ماحول، حالات اور اس وقت کی جنگوں سے متاثر ہوئے اور 2005ء میں، جو کم عمری کے باوجود ان کی زندگی کا ایک اہم مرحلہ تھا، اپنے ہم عمروں کے ساتھ جنگ کے میدان میں داخل ہوئے۔
قاری بختیار علی فاروق کم عمری ہی میں مضبوط عزم، بہادری اور جہادی جدوجہد سے خصوصی دلچسپی کی وجہ سے مختلف ذمہ داریاں انجام دینے کے مقام تک پہنچ گئے۔ گروپ کمانڈر کی ذمہ داری سے لے کر عسکری ذمہ داریوں تک، انہوں نے اپنے علاقے کے مختلف اطراف میں سرگرمیاں انجام دیں۔ ضلع سپین غر کے حجم کلا، چہل گزی، لوخۍ، معروف چینی، شامیر کلي اور میدانک کے علاقوں میں انہوں نے عسکری سرگرمیوں سے متعلق ذمہ داریاں انجام دیں۔
زندگی کی یادیں اور جہادی سرگرمیاں
ان کے ساتھی بتاتے ہیں کہ قاری فاروق کی اپنی جدوجہد سے متعلق بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ ایک دن امریکی فوجی قافلہ ضلع کوٹ کی جانب سے ضلع سپین غر کی طرف جا رہا تھا کہ انہوں نے خود اس پر ایک بارودی سرنگ دھماکا کیا، جس کے نتیجے میں بکتر بند گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور اس میں سوار امریکی قابض فوجی مارے گئے۔
وہ کہتے ہیں کہ ایک اور واقعے میں بھی، جب امریکی قابض افواج کا قافلہ ضلع سپین غر سے صوبائی مرکز کی جانب جا رہا تھا، قاری فاروق تقبلہ اللہ نے ایک بکتر بند ھموی کو دھماکے سے اڑا دیا، جسے انہوں نے مکمل طور پر تباہ کر دیا اور اس میں سوار تمام امریکی فوجی مارے گئے۔
قاری فاروق کے ساتھیوں کی روایت کے مطابق، یہ دونوں واقعات ان کی زندگی کی ان یادوں میں سے تھے جن پر وہ خاص طور پر فخر کیا کرتے اور ان کا ذکر کیا کرتے تھے۔
مشکلات اور سختیوں سے بھری زندگی
قاری بختیار علی فاروق کی زندگی صرف جنگوں، ذمہ داریوں اور جدوجہد کی داستانوں پر مشتمل نہیں تھی، ان کی زندگی کی آغوش میں ایسی تلخ یادیں بھی تھیں جن میں بچپن اور جوانی کے میٹھے لمحات کے ساتھ غربت کے دکھ اور زندگی کی سختیاں بھی شامل تھیں۔
ان کی والدہ محترمہ ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ان کے خاندان کی معاشی حالت بہت کمزور تھی۔ زندگی کی ضروریات بڑی مشقت سے پوری ہوتی تھیں، لیکن اس کے باوجود گھر کا دروازہ مہمانوں کے لیے کھلا رہتا تھا۔ جب بختیار اپنے ساتھیوں کے ساتھ گھر آتے تو ایک طرف ماں کا دل اپنے بیٹے کو دیکھ کر خوش ہوتا، لیکن دوسری طرف مہمانوں کی میزبانی کی فکر اسے رنجیدہ کر دیتی۔ گھر میں اتنے وسائل نہیں ہوتے تھے کہ وہ مہمانوں کی اس طرح خاطر تواضع کر سکے، جیسی ایک مہمان نواز ماں کا دل چاہتا تھا۔
غربت کی وجہ سے مہمانوں کی آمد کے وقت وہ دل میں ایک پوشیدہ تشویش محسوس کرتی تھیں، کیونکہ ان کا دل چاہتا تھا کہ ہر مہمان کے سامنے عزت اور محبت سے دسترخوان بچھائیں، لیکن زندگی کی تنگ دستی انہیں اس کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ یہی چھوٹی مگر گہری یادیں ان کے دل میں رہ گئیں، یہ ایسی یادیں ہیں جو ایک ماں کے قلبی احساسات کے ساتھ غربت کے خاموش درد کو بھی بیان کرتی ہیں۔ بختیار زندگی کی انہی تنگیوں اور محرومیوں سے گزرے اور مشکلات کے درمیان ان میں صبر، قناعت اور احساسِ ذمہ داری مزید مضبوط ہوتا گیا۔
فضائی حملے کے سائے تلے
قاری فاروق کی زندگی کے سفر میں ایسے لمحات بھی آئے جب جنگ کا سایہ ان کے دل اور ذہن تک پہنچ گیا۔ ایک مرتبہ درۂ مومند کے علاقے میں فضائی حملے کے باعث وہ شدید اعصابی دباؤ کا شکار ہوئے۔ حملے کے شدید صدمے اور نفسیاتی اثر سے ان کی صحت اس حد تک خراب ہوگئی کہ وہ ذہنی انتشار کی حالت کے قریب پہنچ گئے تھے۔
ان کی حالت خاندان اور ساتھیوں کے لیے باعثِ تشویش تھی۔ علاج اور طبی نگہداشت کے مقصد سے بعد میں انہیں بیرونِ ملک بھیجا گیا۔ وہاں انہوں نے کچھ عرصے تک علاج کا مرحلہ مکمل کیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے طویل علاج کے بعد ان کی صحت دوبارہ بہتر ہوگئی اور صحت یاب حالت میں اپنی معمول کی زندگی کی طرف واپس آگئے۔
شہادت:
قاری بختیار علی فاروق کی زندگی کی تلخ اور دردناک یادوں میں ایک وہ آخری معرکہ بھی تھا جو 2015ء میں ضلع سپین غر کے گاؤں شامیر میں داعشی خوارج کے ساتھ پیش آیا۔ یہ وہ واقعہ تھا جس نے اچانک ان کی زندگی کی کتاب بند کردی اور خاندان کے دل میں ہمیشہ کے لیے غم کی ایک نہ بھولنے والی یاد چھوڑ دی۔
روایت کے مطابق، صبح کے ابتدائی اوقات میں تقریباً ستر داعشیوں پر مشتمل ایک گروہ نے حجم کلا گاؤں پر حملہ کیا۔ اسی دوران قاری بختیار علی فاروق اپنے چھ ساتھیوں کے ساتھ اپنے گھر کے قریب ایک حجرے میں محصور ہو گئے۔ ایک طرف جنگ کی گولیوں کی گھن گرج تھی اور دوسری طرف خاندان کے افراد، بالخصوص ماں کے دل کی دھڑکنیں مزید تیز ہورہی تھیں۔
ان کی والدہ محترمہ کہتی ہیں کہ تقریباً تین یا چار گھنٹے تک وہ گولیوں کی آوازیں سنتی رہیں، لیکن انہیں اپنے بیٹے اور اس کے ساتھیوں کے انجام کی کوئی خبر نہیں تھی۔ ان کے بقول، شدید تشویش کے باعث ’’زمین مجھے جگہ نہیں دے رہی تھی اور مجھ میں بیٹھنے کی طاقت نہیں تھی۔‘‘
بعد میں وہ خبر پہنچی جو ایک ماں کے لیے ہر خبر سے زیادہ بھاری اور دردناک تھی۔ ان کا بیٹا، قاری بختیار علی فاروق، اور ان کا ایک اور ساتھی اسی معرکے میں اس حال میں شہادت کے بلند مقام پر فائز ہوگئے تھے کہ انہوں نے چھ داعشیوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔
نَحْسَبُهُ كَذَٰلِكَ، وَاللّٰهُ حَسِيبُهُ۔


















































