موجودہ صورتحال میں پاکستان ایک گہرے سیاسی، سکیورٹی اور معاشی بحران کے شدید مرحلے سے گزر رہا ہے، جس کے بنیادی اسباب فوج کے اندر انتشار، اقتدار پر تنازعات اور ایک متحد قومی وژن کی کمی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں، فوج کی اعلیٰ قیادت اپنے بنیادی، پیشہ ورانہ اور دفاعی مشن سے ہٹ چکی ہے اور ملک کے مفادات کے بجائے ذاتی مفادات، سیاسی انتقام اور اندرونی اقتدار پر توجہ مرکوز کر چکی ہے۔
جنرل عاصم منیر نے نہ صرف سیاسی جماعتوں کے درمیان فاصلوں کو مزید بڑھایا، بلکہ فوج کے اندر قیادت کے خلاف گہرے اختلافات بھی پیدا کیے۔ اقتدار کا ارتکاز، اختلاف رائے کو دبانا اور عوام کی مرضی سے ٹکراؤ اس بات کا باعث بنا کہ پاکستان کا عسکری، سیاسی اور معاشی استحکام زوال کی طرف گامزن ہوا۔
فوج کی یہ غیر پیشہ ورانہ مداخلت نہ صرف عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچا رہی ہے، بلکہ اسی ملک کی بین الاقوامی ساکھ اور پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کو بھی بحران سے دوچار کر رہی ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے اّ رہا ہے جو نہ تو اپنا اندرونی نظم برقرار رکھ سکتا ہے اور نہ ہی خطے کی امن و استحکام کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہ عدم استحکام صرف انتظامی ناکامیوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے داعش اور شر و فساد کے گروہ کی ترقی اور پھیلاؤ کے لیے ایک خطرناک بنیاد فراہم کی ہے۔ اور آج خود یہ ملک اس گروہ کی بنیادی پناہ گاہ، مالی معاون اور حمایت کا پلیٹ فارم بن چکا ہے۔
خاص طور پر داعش کو سرگرمیوں کی اجازت دینا، ان کے لیے سہولیات فراہم کرنا اور پڑوسی ممالک کے خلاف ان کے وجود سے فائدہ اٹھانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اس گروہ کو جیو پولیٹیکل ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن یہ کھیل نہ صرف خطے بلکہ خود پاکستان کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں مزید تقسیم، عدم استحکام اور اندرونی جنگوں کو ہوا مل رہی ہے۔
ملک کے اندر فوج کے اعلیٰ عہدوں پر موجود افسران کے درمیان اختلافات، آئی ایس آئی اور دیگر سکیورٹی اداروں کے درمیان مقابلہ بازی، اور سول اداروں کی مسلسل کمزوری نے اس ملک کے عسکری سیاسی ڈھانچے کی بنیاد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ اختلافات صرف نظریاتی یا رسمی نہیں ہیں، بلکہ فیصلہ سازی، اقتدار کی تقسیم اور اسٹریٹجک ترجیحات پر تنازعات کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
فوج کا وہ نظم و ضبط جو پہلے نظام کے استحکام کی ضمانت سمجھا جاتا تھا، آج تنازعات، شکوک و شبہات اور مقابلہ بازی کا شکار ہو چکا ہے۔ آئی ایس آئی کی سرگرمیاں، جو زیادہ تر خفیہ تھیں، اب فوج کے دیگر حصوں کے ساتھ کھلے عام تصادم میں ہیں، جس نے اسی ملک کی سکیورٹی پالیسی کو تہس نہس کر دیا ہے۔
اسی دوران، سول اداروں کی قدر و قیمت فوج کے سایے تلے پامال ہو چکی ہے، عوامی حکومتیں رسمی ڈھانچوں تک محدود ہو گئی ہیں اور عوامی آوازیں دبا دی گئی ہیں۔ عوام اور فوج کے درمیان، جو پہلے نسبتاً ہم آہنگی پائی جاتی تھی، اب بے اعتمادی، ناراضگی اور نفرت کا فاصلہ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ ناراضگی، جو پہلے صرف افسوس تک محدود تھی، اب وسیع پیمانے پر شہری احتجاج، سخت تنقید اور حتیٰ کہ فوج پر الزامات کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ ان حالات کا تسلسل نہ صرف فوج بلکہ پورے پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک بڑی تشویش کا باعث ہے۔
ایسے گہرے بحرانی حالات میں، پاکستان نے اپنی اندرونی مشکلات کو پردے کے پیچھے چھپانے کی کوشش کی ہے۔ اپنی اندرونی پالیسیوں اور حکمت عملیوں میں اصلاحات لانے کے بجائے، عوام اور عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کے لیے، اسی ملک نے پڑوسی ممالک کے معاملات میں مداخلت کی طرف رخ کیا ہے۔ یہ غیر ذمہ دارانہ حکمت عملی نہ صرف افغانستان بلکہ بھارت، ایران اور دیگر ممالک کے ساتھ تناؤ اور بے اعتمادی کی فضا کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ یہ اقدامات خطے کے سکیورٹی استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں اور ممکنہ وسیع پیمانے پر علاقائی تنازعات کے دروازے کھول رہے ہیں۔
دوسری طرف، پاکستان کے معاشی حالات قابو سے باہر ہو چکے ہیں۔ روپے کی قدر مسلسل گر رہی ہے، درآمد شدہ اشیا عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں، اور عوام بے روزگاری، غربت اور معاشی تباہی سے دوچار ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے جیسے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک پاکستان پر اپنے اعتماد کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں، اور سرمایہ کار اس کے بازار سے نکل چکے ہیں۔
معاشی عدم استحکام کے ساتھ ساتھ، سیاسی دباؤ، عوامی ناراضگی اور ناکام سفارت کاری نے پاکستان کو اندر سے اس قدر کھوکھلا کر دیا ہے کہ ہر طرف سے اس کے ٹوٹنے کی علامات نظر آ رہی ہیں۔ اگر یہ صورتحال اسی طرح جاری رہی، تو پاکستان نہ صرف اپنی بین الاقوامی ساکھ کھو دے گا، بلکہ اندرون ملک ایک بڑے بحران کا سامنا بھی کرے گا، جسے سنبھالنا انتہائی مشکل ہوگا۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ وہ تمام "کامیابیاں” ہیں جو جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے حاصل کی ہیں، کامیابیاں جو ترقی کے بجائے زوال، عدم استحکام اور تنازعات لا رہی ہیں۔ اگر پاکستان کے مسلمان عوام، سیاسی رہنما، اور سول سوسائٹی اب بھی خاموش رہے اور سنجیدہ اصلاحات، فوج کے اندر صفائی، داعشی تکفیری گروہ کے خلاف مخلصانہ جنگ، اور پڑوسیوں کے ساتھ احترام اور تعاون پر مبنی تعلقات قائم نہ کیے، تو یہ جاری بحران ملک کے مکمل زوال کا باعث بنے گا۔
موجودہ حالات ایک نئی قومی سوچ، جوابدہی، شفافیت اور عوامی محاسبے پر مبنی نظام کا تقاضا کرتے ہیں۔ عوام اور فوج کے درمیان اعتماد کی بحالی، اداروں کو غیر سیاسی بنانا، اور خارجہ پالیسی میں توازن قائم کرنا وہ عوامل ہیں جو اگر عملی نہ ہوئے، تو پاکستان ان غلطیوں سے سبق نہیں سیکھے گا جو اسے اب بحرانوں میں گھیرے ہوئے ہیں۔ وقت انتہائی نازک ہے، اور انتخاب صرف پاکستان کے عوام کے ہاتھ میں ہے۔




















































