پاکستان نے ۱۹۴۷ء میں برطانوی ہندوستان سے علیحدگی اختیار کی اور بظاہر آزادی حاصل کی، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ملک کبھی آزاد ہوا ہی نہیں۔ برطانوی فوج تو چلی گئی مگر استعماری ذہنیت جوں کی توں موجود رہی؛ صرف اس نے اپنی شکل بدلی اور نیا لباس پہن لیا۔
ایوب خان سے لے کر باجوہ اور عاصم منیر تک، راولپنڈی میں بیٹھا ایک نامزد جنرل ہمیشہ یہ طے کرتا رہا ہے کہ پاکستان کے پسے ہوئے عوام کی تقدیر کیا ہوگی، اور وہ کس قسم کی ذلت اور رسوائی برداشت کرنے پر مجبور ہوں گے۔ وہ نظام جو کبھی بھی اس ملک کے شریف لوگوں کی مرضی کا نہیں تھا، مگر ہمیشہ طاقت کے بل پر ان پر مسلط رہا۔
اپنی بقا کے لیے اس بدنام رجیم نے قومی بجٹ کا ستر فی صد سے زائد حصہ فوج کے لیے مخصوص کر رکھا ہے، جبکہ ملک میں غربت کی شرح چالیس فیصد تک جا پہنچی ہے۔ اس کے ساتھ جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل، اور قدرتی وسائل کی لوٹ مار؛ یہ سب پاکستان کی ۷۸ سالہ تاریخ کا ایک تاریک باب ہے۔
پاکستان نے اپنے قیام ہی سے اسلام اور اسلامی شعائر کو، اسلام اور مسلمانوں ہی کے خلاف استعمال کیا ہے۔ اس ملک کی تاریخ غداری اور فریب سے بھری پڑی ہے۔ اس کی ایک چھوٹی مثال وہ عرب مجاہدین ہیں جنہیں پاکستان نے گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کیا؛ وہ لوگ جنہوں نے پُرسکون و آرام دہ زندگی اور اپنے گھر بار چھوڑ کر جارح قوتوں کے خلاف جہاد کے لیے یہاں کا رخ کیا تھا۔
اگرچہ داعش کے وجود میں آںے کے بعد شروع میں کچھ لوگوں نے داعشی خوارج کے نمودار ہونے کو امت کی نجات کا ایک پیغام سمجھا تھا، لیکن آج یہ حقیقت کسی پر پوشیدہ نہیں رہی کہ یہ گمراہ گروہ دراصل اسلام کو کمزور کرنے کا ایک منصوبہ ہے۔ اسی حقیقت نے پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ اس گروہ کے عناصر کو اپنے مقاصد کے لیے کرائے پر لے اور اپنے مذموم مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے استعمال کرے۔
اس باطل محاذ میں صرف پاکستان اور داعش ہی نہیں تھے، بلکہ صہیونی ریاست کے خوارج کے ساتھ گہرے روابط نے اس خون آشام نظام کے لیے بھی مداخلت کی راہیں ہموار کر دیں۔ یوں داعش، پاکستان اور صہیونیت کا ایک سیاہ مثلث تشکیل پایا؛ ایسا مثلث کہ جس کے ہر پہلو کا نام اور نشان الگ ہے، مگر تینوں ایک ہی چھت کے نیچے جمع ہو کر اسلام کے خلاف اپنے مشترکہ منصوبوں پر عمل کر رہے ہیں۔
ذیل میں اس ناپاک مثلث کی چند کارستانیوں کا جائزہ پیش ہے:
۱۔ بلوچ حریت پسندوں کے خلاف جنگ
اس سیاہ اتحاد کے مشترکہ اہداف میں سے ایک یہ تھا کہ ’’بلوچ لبریشن آرمی‘‘ (BLA) کو کچلا جائے؛ وہ تحریک جو جغرافیہ کو تقسیم کرنے کے لیے نہیں، بلکہ پاکستانی فوج کے ظلم و جبر کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ صوبہ جو پاکستان کو ۷۰ فیصد گیس فراہم کرتا ہے، خود اس کے ۸۰ فیصد عوام بجلی سے محروم ہیں۔ ریکوڈک اور سینڈک کے کان فوج اور چینی کمپنیوں کے ہاتھوں لوٹے جا رہے ہیں، جن کے اصل مالکان بلوچ عوام کو کوئی حصہ نہیں دیا جاتا۔ ظلم اور استحصال کے ایسے بے شمار سانحے ہیں جو اس مختصر تحریر میں سموئے نہیں جا سکتے۔
۲۔ تحریک طالبان پاکستان کے خلاف جنگ
پاکستان کے وسیع پروپیگنڈے اور غلط دعوؤں کے برعکس، تحریک طالبان پاکستان کوئی ایسی جماعت نہیں جو افغانستان سے درآئی ہو؛ بلکہ یہ خود پاکستانی فوج کے برسوں پر مشتمل ظلم و جبر کا نتیجہ ہے۔ سوات، وزیرستان اور مہمند کی وہ خونریز کارروائیاں جن میں ہزاروں شہری شہید کیے گئے، مدارس تباہ کیے گئے اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے؛ انہی مظالم نے اس سرزمین کے نوجوانوں میں بغاوت کی روح پھونکی۔
تحریک طالبان پاکستان کا ہر رکن پاکستانی ہے، اور ان کی دشمنی بھی اسی فوج سے ہے جو گزشتہ ستر برسوں سے پختون عوام کو دوسرے درجے کے شہری سمجھتی آئی ہے۔ یہی دشمنی آج پہلے سے زیادہ گہری ہو چکی ہے اور اس نے پاکستان کے فوجی نظام کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔
۳۔ افغانستان کے اسلامی نظام کے خلاف محاذ
اس سیاہ اتحاد؛ پاکستان، داعش اور اسرائیل کا سب سے بڑا اور بنیادی ہدف بلا شبہ افغانستان کے اسلامی نظام کو کمزور کرنا ہے۔ وہ نظام جو گزشتہ چار برس ہوئے قائم ہوا اور اس مختصر مدت میں ایک آزاد اسلامی حکومت کی عظمت پوری دنیا پر واضح کر دی۔
داعشی خوارج نے امریکی قبضے کے دوران بھی افغان مجاہدین کو کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کی، مگر جب وہ افغانستان میں مکمل طور پر کچلے گئے، تو اب وہ پاکستان کی آئی ایس آئی اور صہیونی موساد کے سائے تلے سرحدوں سے باہر تربیت پا رہے ہیں، اور وقتاً فوقتاً افغانستان میں تخریب کاری کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ مگر اسلامی نظام کے جان نثار مجاہدین نے اب تک ان کی تمام سازشیں ناکام بنائی ہیں۔
یہ سوال قارئین کے ذہن میں پیدا ہو سکتا ہے کہ آخر صہیونی ریاست پاکستان اور داعش کے ساتھ کیوں کھڑی ہے؟
اس کا مختصر جواب ’’مفاد‘‘ ہے۔
صہیونیت ہمیشہ سے کوشش کرتی رہی ہے کہ عالمِ اسلام میں عدمِ استحکام رہے، تاکہ کوئی طاقتور، متحد اور مستقل اسلامی قوت اُبھر نہ سکے۔ بلوچ تحریک کو کچلنا، پاکستانی طالبان کے خلاف پسِ پردہ جنگ، اور افغانستان کے اسلامی نظام پر دباؤ؛ یہ تمام اقدامات وہ عوامل ہیں جو عالمِ اسلام کی قوت واتحاد کو ضائع کرتے اور ایک مضبوط اسلامی قوت کے ابھرنے کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
اسی وجہ سے کہا جا سکتا ہے کہ داعش اور آئی ایس آئی محض اوزار ہیں؛ ایسے اوزار جو انتشار، عدمِ استحکام اور ہر آزاد اسلامی حکومت کے قیام کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔




















































