اگر حل کے پہلے حصے میں ایک مسلمان کی انفرادی اصلاح، ایمان اور فکر کے موضوع پر توجہ مرکوز کی گئی تھی، تو اس حصے میں سماجی، سیاسی اور اقتصادی ڈھانچوں کی اصلاح پر توجہ دی جائے گی, کیونکہ معاشرہ اسی وقت متوازن ہو سکتا ہے جب ایک صالح انسان کو ایک صحت مند نظام میں جگہ حاصل ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو نیک انسان بھی ایک فاسد نظام میں پابندیوں اور ناکامیوں کا سامنا کرتے ہیں۔
۶۔ امت مسلمہ کے اتحاد کو مضبوط بنانا اور تفرقے کے اسباب کا مقابلہ کرنا
اتحاد امت مسلمہ کی قوت اور عظمت کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے۔ قرآنِ عظیم الشان نے اس سلسلے میں مسلمانوں کو واضح الفاظ میں تفرقے اور باہمی جھگڑوں سے منع کیا ہے، کیونکہ تفرقہ کمزوری، شکست، پسماندگی اور امت مسلمہ کی ہیبت کے خاتمے کا سبب بنتا ہے۔ موجودہ دور میں بدقسمتی سے مختلف عوامل نے امت مسلمہ کے اتحاد کو کمزور کر دیا ہے، مثلاً نسلی تعصب، اختلافات، نااتفاقی، اسلامی تعلیمات سے دوری اور ان پر عمل نہ کرنا، جماعتی مفادات اور سیاسی اختلافات۔
اس مسئلے اور بحران کے حل کے لیے، جس نے مسلمانوں کو کمزور کر دیا ہے، درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:
• قومی اور لسانی شناختوں کے مقابلے میں امت مسلمہ کی شناخت کو مضبوط بنانا اور اسے ترجیح دینا۔
• اسلامی معاشروں کے درمیان علمی اور ثقافتی شعبوں میں مکالمے اور تعاون کو فروغ دینا۔
• ذرائع ابلاغ کی ایسی اشتعال انگیزیوں سے گریز کرنا جو اختلافات کو مزید بڑھاتی ہیں۔
• فروعی اختلافات پر اصرار کرنے کے بجائے مشترکہ دینی اقدار پر زور دینا۔
• فکری اور مذہبی کشیدگی کم کرنے میں علماء اور دانشوروں کا فعال کردار۔
اتحاد کا مطلب آرا کے اختلاف کو ختم کرنا نہیں، بلکہ احترام اور مشترکہ مقصد کے دائرے میں اختلافات کو درست طور پر سنبھالنا ہے۔
۷۔ عدل اور امانت داری کی بنیاد پر سیاسی نظام کی اصلاح
اسلام میں اقتدار ایک ’’امانت‘‘ ہے، نہ کہ ذاتی مفادات کے حصول کا ذریعہ۔ امت مسلمہ کی کمزوری کے اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اقتدار کو ذاتی اور گروہی کشمکش کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔
سیاسی نظام کی اصلاح کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:
• ذاتی اور نسلی تعلقات کے بجائے قابلیت اور اہلیت کی بنیاد پر افراد کا انتخاب۔
• عوام کے سامنے حکام کا جواب دہ ہونا۔
• انتظامی بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف سنجیدہ جدوجہد۔
• کسی بھی قسم کے امتیاز کے بغیر عدل کا نفاذ۔
• امت مسلمہ کے مفادات کی بنیاد پر سیاسی فیصلوں میں خودمختاری۔
جب بھی سیاسی نظام میں عدل قائم ہوتا ہے تو عوام کا اعتماد بڑھتا ہے اور معاشرتی استحکام پیدا ہوتا ہے۔
جس طرح آج ہمارے پیارے وطن افغانستان پر ایک خودمختار اور آزاد اسلامی نظام حکمران ہے، اسی نظام اور مجاہدین کی برکت سے اسلام اور مسلمانوں کے خاتمے کے لیے دشمنانِ اسلام کے تمام ناپاک عزائم خاک میں مل گئے، جو انہوں نے اس مقصد کے لیے تیار کیے تھے۔ الحمدللہ! آج افغانستان میں دین کے دشمنوں نے اس قوم میں اختلاف اور کمزوری پیدا کرنے کے لیے جو بیج بوئے تھے، وہ سب ختم ہو چکے ہیں اور ان کی کوششیں ناکام بنا دی گئی ہیں۔ اسی طرح اسلامی نظام کی برکت سے قومی اور نسلی تعصب بھی ختم ہو چکا ہے۔
۸۔ اقتصادی نظام کی اصلاح اور انحصار سے نجات
معیشت امت مسلمہ اور کسی بھی دوسری اُمت کی خودمختاری کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے، اور اقتصادی انحصار کا مطلب سیاسی انحصار بھی ہے۔
اس شعبے میں بنیادی حل درج ذیل ہیں:
• ملکی پیداوار کو مضبوط بنانا اور غیر ضروری درآمدات پر انحصار کم کرنا۔
• امت مسلمہ کے قدرتی وسائل سے درست اور مؤثر انداز میں استفادہ کرنا۔
• مالی بدعنوانی، خوردبرد اور رشوت ستانی کے خلاف جدوجہد کرنا۔
• زکوٰۃ، صدقات اور ظلم کی ممانعت جیسے اسلامی اصولوں کی بنیاد پر ایک منصفانہ اقتصادی نظام قائم کرنا۔
• نوجوانوں میں روزگار، صنعت اور تجارتی جدت طرازی کی حوصلہ افزائی کرنا۔
اسی طرح کوشش کی جانی چاہیے کہ معیشت کو صرف کھپت پر مبنی حالت سے نکال کر پیداوار پر مبنی معیشت میں تبدیل کیا جائے۔ جو معاشرہ پیداوار نہیں کرتا، وہ ہمیشہ دوسروں کا محتاج رہے گا۔
۹۔ معاشرتی انصاف کو ازسرِنو زندہ کرنا اور معاشرے کے طبقات کے درمیان فاصلے کم کرنا
معاشرتی بے چینی کے اہم اسباب میں سے ایک غریبوں اور امیروں کے درمیان شدید تفاوت بھی ہے۔ اسلام معاشرتی انصاف کو معاشرے کے استحکام کی بنیاد قرار دیتا ہے۔
اس شعبے میں درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:
• زکوٰۃ کے نظام کو درست طریقے سے نافذ کرنا اور سماجی امداد کا دائرہ وسیع کرنا۔
• معاشرے کے کمزور طبقات کی مدد کرنا۔
• تعلیم اور ملازمتوں میں یکساں مواقع فراہم کرنا۔
• دولت کی اجارہ داری کو روکنا اور اسے ایک محدود گروہ کے ہاتھوں میں جمع نہ ہونے دینا۔
• سماجی تعاون اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کے جذبے کو مضبوط بنانا۔
جس معاشرے میں انصاف نہ ہو، وہ دولت مند ہونے کے باوجود اندرونی بحران سے دوچار رہے گا۔
۱۰۔ فکری اور ثقافتی استعمار کا مقابلہ کرنا
آج استعمار زیادہ تر فکر، ذرائع ابلاغ اور ثقافت کے ذریعے اپنی سرگرمیاں انجام دیتا ہے، نہ کہ صرف فوجی قبضے کے ذریعے۔
اس کا مقابلہ کرنے کے طریقے درج ذیل ہیں:
• عالمِ اسلام کے اندر علم اور فکر کی پیداوار کو فروغ دینا۔
• صحت مند اور اسلامی شناخت پر مبنی ذرائع ابلاغ کو مضبوط بنانا۔
• ان ثقافتی اثرات کے بارے میں عوامی شعور بیدار کرنا جو دوسری ثقافتوں پر انحصار کا سبب بنتے ہیں۔
• اسلامی اقدار کی بنیاد پر نظامِ تعلیم کی ازسرِنو تعمیر کرنا۔
• ایسی نسل کی تربیت کرنا جو علم و آگہی رکھتی ہو، خودمختار ہو، فکری طور پر مضبوط ہو اور اپنی فکر پر اعتماد رکھتی ہو۔
فکری استعمار کا مقصد قوموں کی شناخت تبدیل کرنا ہے، لہٰذا اس کا مقابلہ بھی فکری اور ثقافتی سطح پر ہونا چاہیے۔
خلاصہ یہ کہ امت مسلمہ کی نجات کا راستہ ایک جملے میں یوں سمیٹا جا سکتا ہے:
فرد کی اصلاح، فکر کی اصلاح، نظام کی اصلاح، اخلاق کی اصلاح، عدل کا قیام اور اتحاد کا فروغ۔ جب یہ تمام عناصر ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہو جائیں تو امت مسلمہ ایک بار پھر اپنا تاریخی اور تہذیبی کردار ادا کر سکتی ہے اور کمزوری سے نکل کر عزت اور پیش رو مقام کی طرف واپس لوٹ سکتی ہے۔


















































