روان سال فروری اور مارچ میں، ڈیورنڈ کی پوری فرضی سرحد پر پاکستانی بزدل فوج کی جانب سے عام لوگوں کے خلاف فضائی حملے، میزائل حملے اور ہر قسم کے ہتھیار استعمال کیے، جن میں ہمارے بہت سے بے گناہ افغان شہید کر دیے۔ امارت اسلامیہ کے نائب ترجمان کے مطابق، حالیہ بے رحمانہ حملوں میں، جن میں صوبہ کنڑ کے سرحدی اضلاع میں شہری علاقوں اور لوگوں کو نشانہ بنایا گیا، جانی نقصان بھی ہوا۔
اسلام میں شہادت ایک بلند مقام ہے، قرآن کریم اور احادیث میں وہ لوگ جو اللہ جل جلالہ کی راہ میں، ظلم کے خلاف، اپنے آپ، اپنے خاندان، اسلامی سرزمین یا مسلمانوں کے دفاع میں قتل کیے جائیں، شہید کہلاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے جنگ کے اصولوں میں سختی سے حکم دیا ہے کہ عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور غیر محارب افراد کو قتل نہ کیا جائے۔ اگر کوئی بے گناہ مسلمان ایسے حملوں میں قتل ہو جائے تو اسے شہادت کا درجہ ملتا ہے، اس کے گناہ معاف کیے جاتے ہیں اور وہ جنت میں داخل ہوتا ہے۔
لیکن یہ بات ظالموں کے لیے ہرگز کوئی عذر نہیں بنتی۔ عام شہریوں کو نشانہ بنانا یا ان کے قتل میں لاپرواہی برتنا، یہ ظلم اور قتل ہے جس کا قیامت کے دن سخت حساب لیا جائے گا۔
اسلام اندھا دھند بمباری اور شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتا ہے، کیونکہ یہ اصولِ “لا ضرر ولا ضرار” کی خلاف ورزی ہے۔ عام لوگ جو اپنے گھروں میں، راستوں پر یا روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہوتے ہوئے نشانہ بنتے ہیں، اس قتل عام کی ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو بزدلانہ طور پر شہریوں کو نشانہ بناتے اور اندھی طاقت استعمال کرتے ہیں۔
پاکستانی فوجی رجیم، جو اپنے شیطانی آپریشنز میں شہری علاقوں اور عام افراد کو نشانہ بناتی ہے، درندگی کی ایک واضح تصویر پیش کر رہی ہے۔ گھروں کو تباہ کرنا، مدارس، مساجد، ہسپتالوں اور عوامی تنصیبات کو نقصان پہنچانا، بچوں اور خواتین کو شہید کرنا، شہریوں کو بے گھر کرنا اور دیگر اس طرح کے حربے اپنانا، یہ سب غزہ میں صہیونی رجیم کے حربوں سے مشابہت رکھتے ہیں، جہاں بھی "دہشت گردوں کے خلاف” کے نام پر اندھا دھند بمباری، چھاپوں اور بارودی سرنگوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتیں ہوئیں۔
دونوں فوجی رجیمز بڑی بے شرمی کے ساتھ عام شہریوں اور علاقوں کو نشانہ بنانے کو "ضمنی نقصان” (Collateral Damage) قرار دے کر اس کا جواز پیش کرتے ہیں، حالانکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کی شدید مذمت کرتی ہیں اور اسے بین الاقوامی قوانین (جیسے قوانینِ جنگ) کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ ایک اور مماثلت یہ ہے کہ دونوں رجیمز "امن و سلامتی” کے نام پر طاقت کا غیر متوازن استعمال کرتی ہیں اور عام شہری ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول نہیں کرتیں یا اسے کم کر کے پیش کرتی ہیں۔ ان کا یہ وحشیانہ طرزِ عمل کسی بھی طرح قابلِ جواز نہیں۔ اسلام عدل، رحم اور بے گناہ انسانوں کی جان کے تحفظ کا حکم دیتا ہے، نہ کہ اندھے حملوں کا۔
پاکستانی فوجی رجیم کو جان لینا چاہیے کہ اسرائیلی طریقوں کی تقلید نہ صرف افغان عوام بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ہے۔ یہ نہ صرف امن و امان قائم نہیں کر سکتی بلکہ مزید تنازعات اور شدت پسندی کو جنم دے گی، جس کا سب سے زیادہ نقصان خود بکھرے ہوئے اور زوال پزیر پاکستان کو ہی اٹھانا پڑے گا۔
ہم اس درندگی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ کنڑ کے بے گناہ عوام کی قربانیاں اور شہادتیں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی، اور فوجی رجیم اور اس کی ملیشیا سے اس کا پورا پورا حساب لیا جائے گا، ان شاء اللہ۔




















































