تاریخ کے مختلف ادوار میں یہود اور یہود صفت لوگوں کی قدیم عادات میں سے ایک وعدے توڑنا اور معاہدوں کی خلاف ورزی کرنا بھی ہے۔ اسی طرح اگر پاکستانی رجیم کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ ملک کبھی بھی اپنے وعدوں اور معاہدوں کا وفادار نہیں رہا اور اب بھی اسی روش پر گامزن ہے۔
خطے کی حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممالک کی خارجہ پالیسیاں ہمیشہ صرف ان بیانات کی بنیاد پر نہیں سمجھی جا سکتیں جو سرکاری اعلامیوں میں جاری کیے جاتے ہیں، بلکہ بعض اوقات واقعات اور سیاسی مؤقف میں آنے والی تبدیلیوں کے درمیان تعلقات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہوتا ہے۔
اسی سلسلے میں، ۲۰۲۶ء میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان مکہ معاہدہ بھی ان پیش رفتوں میں سے ایک تھا جس نے خطے کی توجہ اپنی جانب مبذول کی۔ لیکن بعد میں، جیسا کہ توقع تھی، یہ عمل ایک پائیدار اور مؤثر فریم ورک میں تبدیل ہونے میں کامیاب نہ ہو سکا۔
ایسے حالات میں افغانستان کا مسئلہ ایک بار پھر پاکستان کی مستبد حکومت کے لیے خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس رجیم نے اپنی تمام سفارتی کوششیں اسلامی نظام کے ساتھ اختلافات ختم کرنے کے لیے استعمال کرنے کے بجائے، گزشتہ چند ماہ کے دوران پہلے سے کہیں زیادہ سکیورٹی سے متعلق دعووں اور افغان سرزمین سے پیدا ہونے والے خطرات پر زور دیا ہے اور اس کے ساتھ افغانستان پر اپنے فضائی حملوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا افغانستان ایک بار پھر پاکستان کی خارجہ پالیسی کی مشکلات اور ناکامیوں کے انتظام کے لیے ایک وسیلے میں تبدیل ہو گیا ہے؟
پاکستانی فوجی رجیم اپنی کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے عموماً مسلح مخالفین کی موجودگی اور سکیورٹی خطرات کا ذکر کرتی ہے اور ماضی کی طرح اپنے بے رحمانہ اقدامات دوبارہ شروع کر دیے ہیں۔ اگر پاکستان کی ظالم حکومت کی تشویش واقعی سکیورٹی سے متعلق ہے تو اس مسئلے کا حل مذاکرات، شواہد پیش کرنے، براہِ راست گفت و شنید اور مشترکہ سکیورٹی میکانزم قائم کرنے کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
مسئلہ اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب سیاسی یا سکیورٹی دباؤ میں اضافے کے ساتھ ہر بار افغانستان کو قصوروار فریق کے طور پر پیش کیا جائے۔ اس طرح کا طرزِ عمل مسئلے کے حل کے بجائے بحران کے دوبارہ پیدا ہونے کی راہ ہموار کرتا ہے۔ افغانستان کو پاکستان کے تمام سکیورٹی مسائل کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا، اسی طرح پاکستان بھی اپنی تمام مشکلات کو سرحد پار فوجی کارروائیوں کے ذریعے حل نہیں کر سکتا۔
اس نقطۂ نظر سے آج افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ واقعات ایک وسیع تر علاقائی منظر نامے کا بھی حصہ ہیں، جس میں پاکستان خطے کی نئی تبدیلیوں کے درمیان اپنی پوزیشن اور اپنے مفادات کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اب وعدوں اور معاہدوں پر عمل درآمد کا وقت ہے، کیونکہ وعدے توڑنا اور معاہدوں کی خلاف ورزی کرنا اس منافق حکومت کی سرشت میں شامل ہے۔ اس نے ابتدا ہی سے مکہ معاہدے پر جعل سازی اور فریب کے ساتھ دستخط کیے، لیکن اب، اپنے وعدوں کے باوجود، اس معاہدے پر عمل نہیں کرنا چاہتا اور افغانستان کا بہانہ پیش کر رہا ہے۔ حالانکہ سورج کو انگلی سے چھپایا نہیں جا سکتا اور سب جانتے ہیں کہ اصل معاملہ کہاں ہے۔
مختصراً پیغام واضح ہے کہ اگر خطے میں کوئی سیاسی راستہ مطلوبہ نتائج تک نہ پہنچ سکے تو افغانستان کے مسئلے کی طرف دوبارہ رجوع کرنا اور سکیورٹی خطرات کے موضوع پر زور دینا پاکستانی رجیم کے مسائل کا مستقل حل نہیں ہو سکتا۔
افغانستان کو بھی اپنے ہمسایوں کے ساتھ باہمی احترام کی بنیاد پر متوازن تعلقات کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی اختلافات کو مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، نہ کہ بمباری اور فوجی دباؤ کے ذریعے۔ ہمسائیگی ایک جغرافیائی حقیقت ہے اور کوئی بھی ملک دوسرے ملک کو خطے کے نقشے سے نہیں نکال سکتا۔
لہٰذا اگر پاکستان نے گزشتہ تجربات سے سبق سیکھا ہے تو اسے سمجھنا چاہیے کہ افغانستان کے مسئلے کے ذریعے عوامی افکار کو مصروف رکھنا اس کی رسوائی اور وعدہ خلافی چھپانے کا متبادل نہیں بن سکتا۔ لیکن اس صورتِ حال کو بدلنے کا راستہ افغانستان کے آسمان سے نہیں، بلکہ صرف اپنے اندر اصلاح لانے اور اسلام کا دامن مضبوطی سے تھامنے کے ذریعے ہے، تاکہ وہ عزت اور شرف حاصل کر سکے جس سے اب تک محروم رہا ہے۔
افغانستان کو اب مزید پاکستانی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے، اور پاکستان کو بھی سمجھنا چاہیے کہ ترقی، استحکام اور عزت افغانستان پر بمباری کرنے اور اس کے خلاف فوجی دباؤ بڑھانے سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔




















































