پاکستان خطے کا ایک بڑا ملک ہے جہاں مختلف قومیتیں آباد ہیں۔ صدیوں سے یہ اقوام باہمی محبت، اخوت اور ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزارتی آئی ہیں۔ ان کے درمیان یہ قربت اور بھائی چارہ کوئی وقتی یا مصنوعی تعلق نہیں بلکہ ایک فطری، تاریخی اور معاشرتی ضرورت رہا ہے۔ تاہم اس سرزمین پر مسلط فوجی اور آمرانہ رجیم نے ہمیشہ اس کے برعکس قوموں کے درمیان اختلافات، بداعتمادی اور دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ، محاورے کے مطابق "تقسیم کی سیاست سے اپنے اقتدار کو مضبوط کرے”۔
اس تحریر میں پہلے اس مذموم کھیل کے شواہد اور عملی مثالوں کا جائزہ لیا جائے گا، پھر ان مقاصد اور نتائج پر روشنی ڈالی جائے گی جنہیں پاکستانی رجیم قلیل اور طویل المدت بنیادوں پر حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے اس نئے منصوبے میں سابق افغان اربکی عناصر اور شر و فساد پھیلانے والے گروہوں کو بلوچوں اور پشتونوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ گویا ریاست شعوری طور پر ان دونوں بڑی قوموں کے درمیان اختلافات اور تصادم پیدا کرنا چاہتی ہے۔
اگرچہ پاکستانی رجیم خود کو عوام کا منتخب اور مقبول نظام ظاہر کرتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے تمام ادوارِ حکومت محض ظاہری طور پر سول حکومتیں رہی ہیں، جبکہ اصل اقتدار ہمیشہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں رہا ہے۔ اس آمرانہ غلبے نے پاکستان کے قومی توازن کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اس نام نہاد جمہوریت کو بھی بے نقاب کر دیا ہے جسے یہ رجیم مغربی دنیا، خصوصاً امریکہ، کے سامنے ایک معتدل اور مغربی طرز کے جمہوری ماڈل کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔
اس ملک کی تاریخ قومی رہنماؤں کے قتل، جبری گمشدگیوں اور پراسرار ہلاکتوں سے بھری پڑی ہے۔ بے شمار شخصیات کو "نامعلوم مسلح افراد” کے ہاتھوں قتل یا لاپتا قرار دیا گیا، جبکہ ان واقعات کے پس منظر میں فوجی رجیم کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔ ان کے بعد ایسے افراد کو قبائلی عمائدین، قومی نمائندوں اور بااثر شخصیات کے طور پر آگے لایا گیا جو فوجی رجیم کے تابع ہوں اور اپنے ہی عوام کے مفادات کے خلاف کھڑے ہوں۔
پاکستانی رجیم نے مختلف حربوں اور بہانوں کے ذریعے ہمیشہ قوموں اور ان کے رہنماؤں کے درمیان اختلافات کو ہوا دی ہے۔ اسی سلسلے کی ایک نئی اور متنازع منصوبہ بندی کے تحت بلوچ آزادی پسندوں کے مقابلے کے لیے افغانستان سے فرار شدہ اربکی عناصر اور شر و فساد پھیلانے والے گروہوں پر مشتمل مسلح جتھے تشکیل دیے گئے ہیں، جنہیں قبائلی علاقوں میں تربیت دی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد یہ بتایا جاتا ہے کہ بلوچ اور پشتون، جو خطے کی دو بڑی قومیں ہیں، ایک غیر اعلانیہ مسلح تصادم میں ایک دوسرے کے مقابلے میں آ جائیں۔
یہ معاملہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی حساس ہے، کیونکہ بلوچوں اور پشتونوں کے درمیان تاریخی طور پر برادرانہ تعلقات قائم رہے ہیں۔ دونوں قومیں اتحاد و یکجہتی کی علامت کے طور پر مشترکہ دن بھی مناتی رہی ہیں، اور ان کا یہ قومی رشتہ اس قدر مضبوط رہا ہے کہ ماضی کے پاکستانی رجیم بھی اسے کمزور کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ تاہم اب یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی رجیم دانستہ طور پر ان دونوں قوموں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آراء کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے ایسے کرائے کے جنگجوؤں کو بطور آلہ استعمال کر رہا ہے جن کا نہ کوئی وطن ہے اور نہ ہی کوئی قومی وابستگی، بلکہ انہیں صرف بے مقصد جنگوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہی عناصر ایک وقت افغانستان میں امریکی قبضے کے دوران ان کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کی صف میں برسرِ پیکار رہے اور اپنے ہی عوام کے خلاف لڑتے رہے، جبکہ آج وہ پاکستانی فوجی رجیم کی سرپرستی اور تربیت میں ان مسلح گروہوں کے خلاف استعمال کیے جا رہے ہیں جو اپنے حقوق اور تحفظ کے لیے پاکستانی رجیم سے برسرِ پیکار ہیں۔ چونکہ یہ رجیم خود ان کا مؤثر مقابلہ کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے، اس لیے وہ اس تنازع کو قومی رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
پاکستان اس حکمتِ عملی سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟
سب سے پہلے اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان اس وقت شدید داخلی سلامتی کے بحران سے دوچار ہے۔ ایک ریاست کے طور پر اس کی داخلی مشروعیت بتدریج کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ اسے بلوچ مسلح گروہوں، تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور ان دیگر تنظیموں سے خطرات لاحق ہیں جن کی پرورش کے الزامات بھی خود اسی پر عائد کیے جاتے ہیں۔ یہ کمزوریاں اب عوام سے بھی پوشیدہ نہیں رہیں۔
اسی لیے رجیم نے اس نئی حکمتِ عملی کا سہارا لیا ہے تاکہ ایک طرف اپنی فورسز کی جانی نقصان کو کم کیا جا سکے، اور دوسری طرف ایسا قومی و لسانی تصادم پیدا کیا جائے جس کی گرد میں بلوچستان، پشتونستان اور ٹی ٹی پی جیسے بنیادی سیاسی و سلامتی کے مسائل پس منظر میں چلے جائیں اور تنازع کو خالص قومی رنگ دے دیا جائے۔
بلوچ اور پشتون اقوام کے بااثر عمائدین اور باشعور رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اس منصوبے کے ممکنہ نتائج کا گہرا ادراک کریں اور ایسے عناصر کو، جنہیں شر و فساد پھیلانے والے گروہ یا سابق اربکی قرار دیا جاتا ہے، پشتونوں کے نمائندے کے طور پر ان بلوچ آزادی پسندوں کے مقابلے میں کھڑا نہ ہونے دیں جن کے خاندان، خواتین اور بچے پاکستانی فوجی کارروائیوں اور بمباریوں میں جانوں سے محروم ہوئے ہیں۔ اس ممکنہ تصادم کی روک تھام نہ صرف قوموں کے درمیان تاریخی بھائی چارے کو محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ اس سے پاکستانی رجیم کی کمزور پالیسیوں، فوجی حکمتِ عملی اور جماعتی سیاست سے متعلق وہ تمام اقدامات بھی زیادہ واضح ہو جائیں گے جن پر ناقدین مسلسل سوال اٹھاتے رہے ہیں، اور یوں پاکستان کے عوام اپنے قومی اتحاد و یگانگت کو برقرار رکھنے کے قابل ہو سکیں گے۔




















































