خلافتِ عثمانیہ کے سقوط میں پاکستانی فوج کا کردار:
سن ۱۹۱۴ء میں پہلی عالمی جنگ کا آغاز ہوا۔ اس جنگ میں خلافت عثمانیہ نے جرمنی کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، اس فیصلے کے نتیجے میں خلافت کو یورپی طاقتوں کے شدید اور ہمہ گیر حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ برطانیہ، فرانس، روس، اٹلی اور یونان سمیت کئی ممالک نے متحد ہو کر یلغار کی، یہ مرحلہ اسلامی تاریخ کے لیے نہایت نازک اور حساس تھا۔ مادی اعتبار سے طاقتور صلیبی قوتیں پوری شدت کے ساتھ عالمِ اسلام کے قلب پر حملہ آور تھیں۔ انہی نازک لمحات میں برصغیر ہند کے مسلمانوں کے درمیان دو متضاد نقطۂ نظر رکھنے والے گروہ سامنے آئے۔
پہلا گروہ علماء کرام، مجاہدین اور عام مسلمانوں پر مشتمل تھا۔ یہ طبقہ خلافت کے دفاع کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار تھا۔ ان علماء، مجاہدین اور عوام نے دعوتی، عسکری اور سیاسی میدانوں میں بھرپور کردار ادا کیا۔ اسی گروہ کی نمایاں اور مؤثر شخصیات میں سے ایک مولانا محمود الحسن تھے، جو سرحدی علاقوں کے مجاہدین کے ساتھ مل کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔ یہ کوششیں عسکری منصوبہ بندی اور تربیتی مراکز کے قیام کی صورت میں جاری تھیں، تاکہ عوام میں جذبۂ قربانی اور استقامت بیدار کرکے ایک بھرپور عسکری تحریک برپا کی جائے۔
یہ تحریک نہ صرف عوام کو بیدار کر رہی تھی بلکہ خلافت کے دفاع کے لیے ایک عملی بنیاد بھی فراہم کر رہی تھی۔ برطانیہ نے اس تحریک کو ایک سنجیدہ خطرہ سمجھا اور اس پر سخت نگرانی شروع کردی۔ بالآخر شیخ الہندؒ کو حجاز سے گرفتار کر کے مالٹا کے جزائر میں قید کر دیاگیا۔ ایک جانب مسلمانوں کے درمیان ایثار، قربانی اور خلافت کے دفاع کی ایک روشن اور قابلِ فخر داستان رقم ہو رہی تھی، جبکہ دوسری جانب برصغیر میں ایک ایسا فوجی اور جاگیردار طبقہ بھی موجود تھا، جو برطانوی استعمار کے مفادات کے لیے خدمات انجام دے رہا تھا۔
سن ۱۹۱۴ء ستمبر سے لے کر ۱۹۱۸ء نومبر تک، پہلی عالمی جنگ کے دوران تقریباً پندرہ لاکھ (1.5 ملین) فوجی، نیم فوجی اہلکار اور عام شہری برصغیر ہند کے مختلف علاقوں سے برطانوی کمان کے تحت جنگوں میں شریک رہے۔ یہ افراد یورپ، افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے محاذوں پر برسرِ پیکار تھے۔ چار برس کے عرصے میں مزید تقریباً سات لاکھ (۷۰۰،۰۰۰) نئے سپاہی بھی ہندوستان کے مختلف علاقوں سے بھرتی کیے گئے۔
ان میں سے قریب ساٹھ فیصد فوجی صرف پنجاب سے فراہم کیے گئے تھے۔ یہ سپاہی نہ صرف میدانِ جنگ میں سرگرم رہے بلکہ برطانیہ کی عسکری حکمتِ عملی کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے۔ ہندوستان میں موجود جاگیردار طبقے نے بھی اپنی زمینیں اور وسائل برطانوی مفادات کے لیے وقف کیے۔ اس طرح ایک جانب مسلمانوں کی قربانیوں اور خلافت کے دفاع کی تحریک زور پکڑ رہی تھی تو دوسری جانب برطانیہ ہندوستان کی مادی قوت اور فوجی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھا رہا تھا۔
اسی بدبخت لشکر کے سپاہیوں کو نہرِ سویز کی حفاظت کے لیے مصر میں تعینات کیا گیا۔ وہاں انہوں نے جنوری ۱۹۱۵ء میں عثمانی فوج کے ایک مضبوط حملے کو پسپا کیا اور برطانیہ کی اس اہم تجارتی و عسکری شاہراہ کو محفوظ بنایا۔ مزید برآں، انہی سپاہیوں کو فارس میں تیل کے کنوؤں کی حفاظت پر بھی مامور کیا گیا، تاکہ وہ عثمانی حملوں سے محفوظ رہیں اور برطانوی مفادات ہر قسم کے خطرے سے بچائے جا سکیں۔
فروری ۱۹۱۷ء میں، جب برطانوی جنرل اسٹینلی موڈ نے ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار (۱۶۶،۰۰۰) فوجیوں کے ساتھ بغداد کی جانب پیش قدمی کی، تو اس لشکر کا دو تہائی حصہ ہندی سپاہیوں پر مشتمل تھا۔ انہی وفادار فوجیوں کی مدد سے برطانیہ نے ۱۱ مارچ ۱۹۱۷ء تک بغداد پر مکمل قبضہ کر لیا۔ بعد ازاں اسی فوج کے بل بوتے پر ویلیم مارشل(William Marshal) نے اکتوبر ۱۹۱۸ء میں تیل سے مالا مال شہر موصل کو بھی اپنے کنٹرول میں لے لیا۔
بعد ازاں، جب برطانیہ کی صلیبی فوج نے انبیاء کی سرزمین فلسطین کو مسلمانوں سے چھین لیا اور وہاں صہیونی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنا شروع کی، تو اس ظالمانہ فوجی یلغار میں بھی ہندی فوج پوری طرح شریک تھی۔ برطانوی جنرل ایلن بی، جو فلسطین میں داخل ہوتے ہی صلاح الدین ایوبی کے مزار کی بے حرمتی کا مرتکب ہوا، اس نے گستاخانہ انداز میں قبر کو ٹھوکر ماری اور اہانت آمیز کلمات کہے۔ اس کی قیادت میں وہ لشکر، جس نے ستمبر ۱۹۱۷ء میں غزہ اور اسی سال دسمبر میں بیت المقدس کو فتح کیا، اس کا بڑا حصہ ہندی فوجی دستوں پر مشتمل تھا۔
یہی وہ فوج تھی جس نے اپنے سروں اور اموال کو مسلمانوں کی خلافت اور اسلامی سرزمین کے بجائے برطانوی سلطنت کے مفادات کے لیے وقف کر دیا۔ ان کے یہ اقدامات مسلمانوں کے لیے تاریخ کا ایک سیاہ باب اور باعثِ ندامت بن گئے۔ وھل من عار بعد هذا العار!
شاہی ہندی فوج نے ہر محاذ پر کفار کے مفادات کے لیے اپنی نام نہاد ’’قربانیاں‘‘ پیش کیں۔ میرٹھ اور لاہور کی پیدل فوجی ڈویژنز کو جرمن فوج کے ہاتھوں شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ اپریل ۱۹۱۵ء کی ایک رات، زہریلی گیس کے حملے میں لاہور ڈویژن کے قریب چار ہزار فوجی مردار ہوئے اور بے شمار زخمی ہوئے، جنہیں مناسب طبی سہولیات بھی میسر نہ تھیں۔
اسی طرح گیلی پولی کی تاریخی اور عسکری لحاظ سے اہم جزیرہ نما پر قبضے کی ناکام کوشش میں بھی بڑی تعداد میں ہندی فوجی مارے گئے۔ اسی زمانے میں ’’۵۹ سندھ رائفلز‘‘ کے ایک حوالدار عبدالرحمن نے ۱۹۱۵ء میں یورپ سے ہندوستان میں اپنے ساتھی نائیک راج ولی خان جو’’۲۱ ویں پنجاب رجمنٹ‘‘ سے تعلق رکھتا تھا اور ژوب (بلوچستان)میں تعینات تھا کو ایک خط لکھا۔ یہ خط واضح طور پر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ یہ کرائے کے سپاہی کس طرح طاغوتی طاقتوں کی راہ میں اپنی جان و مال قربان کر رہے تھے:
’’خداکا واسطہ ہے! یورپ کی اس جنگ میں شریک ہونے ہر گز مت آنا! مت آنا! مت آنا! مجھے خط لکھ کر بتاؤ کہ تمہیں یا تمہاری رجمنٹ والوں کو یہا ں بھیجا تو نہیں جا رہا۔ میں بہت پریشان ہوں، میرے بھائی یعقوب کو بھی کہہ دو کہ خدا کا واسطہ ہے! اپنا نام مت لکھوائے! اگر تمہارے کوئی رشتہ دار ایسا ارادہ رکھتے ہیں تو ان کو بھی میری یہی نصیحت ہو گی کہ ہرگز بھرتی نہ ہوں ………توپیں ، مشین گنیں اور بم، یہاں یوں برس رہے ہیں گویا مون سون کی بارش ہو۔ ہم میں سے جو لوگ زندہ بچے ہیں ان کی تعداد ہانڈی میں باقی رہ جانے والے چند دانوں سے زیادہ نہیں۔ میری کمپنی میں صرف دس لوگ باقی بچے ہیں اور پوری رجمنٹ میں صرف دو سو‘‘۔
یقیناً شاہی ہندی فوج کی ان غیر معمولی ’’قربانیوں‘‘ کے بغیر برطانیہ اور اس کے اتحادی خلافتِ عثمانیہ کو گرانے اور جرمنی کو شکست دینے میں ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتے تھے۔




















































