پختونخوا میں سکیورٹی کی صورتِ حال کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ وہاں داعش کے مراکز قائم کیے جائیں اور اس کے ارکان کو تربیت دی جائے، تاکہ بدامنی کو افغانستان، خطے اور وسطی ایشیا تک پھیلایا جا سکے۔ امارت اسلامیہ افغانستان کے مقابلے میں سیاسی اور سفارتی میدانوں میں مسلسل شکستوں کے بعد پاکستانی فوجی رجیم نے اس بار اپنے کھیل کا آخری باب کھول دیا ہے، یعنی پاکستان کے پشتون آبادی والے علاقوں، بالخصوص پختونخوا اور بلوچستان میں داعش کی دہشت گرد تنظیم کے مراکز قائم کرنا اور اس کی سرپرستی کرنا۔
یہ حکمتِ عملی کوئی معمولی کیلکولیشن کی غلطی نہیں، بلکہ ایک دانستہ اور مجرمانہ اقدام ہے، جو فوجی رجیم کو اخلاقی، انسانی اور اسٹریٹیجک زوال کی طرف لے جا رہا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو رجیم خود کو علاقائی سکیورٹی کا محافظ ظاہر کرتی ہے اور دوسرے ممالک کے ساتھ جھوٹے معاہدے کرتی ہے، وہ دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے بجائے اس کی تربیت اور پرورش کی طرف کیوں مائل ہوئی ہے؟ اس کا جواب اس رجیم کی مسلسل ناکامیوں میں پوشیدہ ہے۔
امارت اسلامیہ کے ساتھ تعلقات خراب ہونے اور کابل پر اپنی مرضی مسلط کرنے میں ناکامی کے بعد پاکستانی فوجی رجیم نے دہشت گرد پراکسی گروہوں کی تربیت اور سرپرستی کی اپنی پرانی پالیسی کی طرف رجوع کیا ہے۔ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی فوج سے وابستہ عناصر نے بلوچستان کے اضلاع مستونگ اور خضدار میں داعش خراسان کے لیے مراکز قائم کیے ہیں۔ ان مراکز کے بیک وقت دو مقاصد ہیں: بلوچ عوامی مزاحمت کو کچلنا اور افغانستان پر حملوں کے لیے ایک اڈہ فراہم کرنا۔
درحقیقت، یہ وہی حکمتِ عملی ہے جسے پاکستان کئی دہائیوں سے بھارت اور افغانستان کے خلاف استعمال کرتا آیا ہے۔ لیکن اس بار آگ سے کھیلنا پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ داعش علاقائی گروہوں کے برعکس سرحدوں سے ماورا سرگرم ایک ایسا نیٹ ورک ہے جو کسی بھی سرحد کو تسلیم نہیں کرتا۔
اس کھیل میں فوجی رجیم کا مقصد واضح ہے۔ پاکستان گزشتہ چند برسوں کے دوران اپنی سرزمین پر ایک ہزار سے زیادہ حملوں کا مشاہدہ کر چکا ہے اور ان کی روک تھام کے معاملے میں اپنی بے بسی ظاہر کر چکا ہے۔ اسی دوران وہ ان بلوچ گروہوں کے دباؤ میں بھی ہے جو انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔ فوجی رجیم ایسے ہتھکنڈے کی تلاش میں ہے جس کے ذریعے ایک طرف امارت اسلامیہ پر دباؤ بڑھایا جا سکے اور دوسری طرف بلوچوں کی مزاحمت کو کچلا جا سکے۔ داعش خراسان، جس کے لیے افغانستان میں امارت اسلامیہ کی سخت کارروائیوں کے بعد سرگرمیوں کی گنجائش محدود ہو چکی ہے، اس مقصد کے لیے ایک موزوں ہتھیار دکھائی دیتی ہے۔
لیکن یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے، کیونکہ داعش کبھی بھی کسی کے قابو میں رہنے والا ہتھیار نہیں تھی اور نہ کبھی ہوگی۔ یہ گروہ، جس نے مختلف ممالک میں خونریز حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے اور داعش کی ان شاخوں میں شمار ہوتا ہے جو سرحدوں سے ماورا کارروائیوں میں فعال کردار ادا کرتی ہیں، اپنی فطرت ہی سے ہر اس نظام کے خلاف کارروائی کرتا ہے جو اس کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کرے۔
اس سے بھی زیادہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ فوجی رجیم داعش کو نہ صرف افغانستان کو دھمکانے کے لیے استعمال کر رہی ہے، بلکہ ان قوتوں کو کچلنے کے لیے بھی اس سے کام لے رہی ہے جو برسوں سے اس رجیم کے ظلم کا شکار ہیں۔ بلوچ کئی دہائیوں سے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور تشدد کا نشانہ بنتے آئے ہیں۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران انہوں نے پاکستانی فوج پر بھاری ضربیں لگائی ہیں۔ فوجی رجیم جب اس مزاحمت کو کچلنے میں ناکام رہی تو اب اس نے داعش کو میدان میں اتارا ہے، تاکہ وہ اس کی جگہ لڑے۔
لیکن یہ اندازہ بھی اس رجیم کے دوسرے سابقہ اندازوں کی طرح ناکامی سے دوچار ہوگا، کیونکہ داعش نہ پاکستان کی وفادار ہے اور نہ کسی دوسرے ملک کی۔ یہ تکفیری گروہ، جسے بدطینت ممالک کے انٹیلی جنس مقاصد کے لیے مدد فراہم کی جاتی ہے، بالآخر اسی تھالی میں چھید کرے گی جس میں اس کو کھانا ملتا ہے۔
پاکستانی فوجی رجیم یہ سمجھتی ہے کہ وہ داعش کو پختونخوا اور بلوچستان میں تربیت دے کر اس کی سرپرستی کر سکتی ہے، پھر اسے افغانستان اور وسطی ایشیا کی طرف دھکیل سکتی ہے، اور خود اس زہریلے سانپ کا شکار ہونے سے بھی بچ سکتی ہے۔ یہ ریچھ کا وہ خواب ہے جو سردیوں میں دیکھا جاتا ہے اور جس کا انجام اپنی تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ آج پختونخوا میں جس داعش کو تربیت دی جا رہی ہے، وہ کل پشاور اور اسلام آباد میں بھی خونریز حملے کرے گی۔
امارت اسلامیہ افغانستان کئی بار ثابت کر چکی ہے کہ وہ پاکستانی رجیم کی مذموم پالیسیوں کے مقابلے میں مضبوطی سے کھڑی ہوتی ہے اور افغانستان اور خطے کے عوام کی سکیورٹی کے تحفظ کے لیے اپنی تمام تر کوششیں کرتی ہے۔ لیکن پاکستانی فوجی رجیم کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ خطرناک کھیل صرف افغانستان کے لیے خطرہ نہیں، بلکہ اس کی آگ جلد یا بدیر پاکستان کے دامن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ جو رجیم اپنے اندرونی بحرانوں کو چھپانے کے لیے اتنے مذموم اور گھناؤنے طریقے اختیار کرتی ہے، وہ نہ صرف افغانستان بلکہ تاریخ اور ضمیرِ انسانیت کے سامنے بھی مجرم ہے۔


















































