وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ ﴿٢٠٤﴾ وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ ﴿٢٠٥﴾ (سورۃ البقرہ)
"اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جس کی دنیاوی زندگی کی باتیں تمہیں اچھی لگتی ہیں، اور وہ اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ بھی بناتا ہے، حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہوتا ہے۔ اور جب وہ پلٹ کر جاتا ہے تو زمین میں فساد برپا کرنے، کھیتی اور نسل کو تباہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔”
پاکستان اور افغانستان کے عوام برادر عوام ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ انہوں نے طویل عرصہ خوشگوار تعلقات کے ساتھ گزارا ہے۔ لیکن جب سے پاکستان وجود میں آیا ہے، پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس اداروں نے افغانستان کو اپنے لیے ایک اسٹریٹیجک خطرہ سمجھا ہے اور اسی زاویۂ نگاہ سے افغانستان اور افغانوں کے ساتھ برتاؤ کرتے آئے ہیں۔
اگر پاکستان کا مفاد افغانوں کے قتل میں ہو تو وہ انہیں قتل کرتا ہے، اگر مفاد ان کی گرفتاری میں ہو تو انہیں گرفتار کرتا ہے، اگر مفاد انہیں کفار کے حوالے کرنے میں ہو تو انہیں پکڑ کر ان کے سپرد کر دیتا ہے، اور اگر مفاد افغانوں کے ساتھ تعاون میں ہو تو ان سے تعاون بھی کرتا ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق امریکی قبضے کے ابتدائی برسوں میں افغانستان پر پاکستان کی سرزمین سے ساٹھ ہزار سے زائد فضائی بمباری کی گئی، جبکہ مغربی انٹیلی جنس اداروں کے جاسوس بھی اسی پاکستان کے راستے ہوائی جہازوں کے ذریعے افغانستان منتقل کیے گئے اور انہوں نے بغاوت کا آغاز کیا۔ قبضے کے پورے بیس سالہ دور میں قابض افواج اور ان کے حامیوں کو اسی پاکستان کے ذریعے رسد اور اسلحے کی فراہمی جاری رہی۔
امارت اسلامیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان نے قبائلی مہاجرین کی موجودگی کو بہانہ بنا کر درجنوں مرتبہ افغانستان میں شہری آبادی پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں سینکڑوں بے گناہ افغان شہری شہید ہوئے۔ اس نے افغانستان کو معاشی محاصرے میں رکھنے کی بھی کوشش کی۔
گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کے ساتھ منظم انداز میں ایسا ناروا سلوک کیا گیا اور انہیں نامناسب موسمی حالات میں زبردستی ملک بدر کیا گیا کہ اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ اس عرصے میں پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس اداروں نے افغانستان کے موجودہ حکمران نظام کی ان تمام کوششوں کا جواب انہی اقدامات سے دیا، جو پاکستان کے ساتھ مذاکرات اور باہمی مفاہمت کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے کی جا رہی تھیں۔ انہوں نے ان کوششوں کو کسی منطقی نتیجے تک پہنچنے نہیں دیا تاکہ پاکستان اور افغانستان کے عوام امن اور سکون کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
پاکستان کی بھارت کے ساتھ دشمنی ہے، لیکن اس نے ہمیشہ اس دشمنی کو ملک کے اندر اور باہر مسلمانوں اور مختلف طبقات کے خلاف ایک بہانے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اسی بہانے سے اس نے اپنے ہی ملک کے ہزاروں شہریوں کو بھارت سے تعلقات کے الزام میں یا تو قتل کیا یا جبری طور پر لاپتا کر دیا۔ اب پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس ادارے اسی تجربے کو افغانستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
امارت اسلامیہ افغانستان روئے زمین پر واحد حقیقی شرعی نظام ہے۔ اس کی دوستی اور دشمنی اسلامی شریعت کی روشنی میں ہوتی ہے، اور اس کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کسی مسلمان کے خلاف کسی کافر کے ساتھ تعاون کرے گی۔ پاکستان اور افغانستان کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کا مسلمانوں کے خلاف کفار کے ساتھ تعاون کی ایک طویل تاریخ موجود ہے، اور آج بھی وہ مختلف شعبوں میں مسلمانوں کے خلاف کفار کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، بلکہ یہی تعاون ان کی بقا اور معاش کا ایک ذریعہ بن چکا ہے۔
اس وقت بھی پاکستان امارت اسلامیہ کے خلاف شر و فساد پھیلانے والے انہی گروہوں کو منظم اور مجتمع کرنے میں مصروف ہے جنہوں نے ایک وقت پاکستان ہی کے اشارے پر سوویت یونین اور کمیونسٹوں کے خلاف افغانوں کے چودہ سالہ جہاد کے ثمرات ضائع کیے، مجاہدین سے بچ جانے والا جدید فوجی سازوسامان کباڑ کے بھاؤ پاکستان منتقل کیا، افغانستان کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کیا، علاقہ، قومیت اور زبان کے نام پر ہزاروں افغانوں کو قتل کیا، ملک پر بدامنی اور انارکی مسلط کی، اور پھر گزشتہ بیس برسوں میں بھی پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کی طرح امریکی اور دیگر مغربی افواج کے ساتھ مل کر افغانوں کے خلاف جنگ لڑی، جس کے نتیجے میں لاکھوں افغان شہید ہوئے۔
پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا تھا، لیکن پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس ادارے اس فکر اور راستے سے بہت دور جا چکے ہیں۔ آج اگرچہ وہ بظاہر اسلام کی باتیں کرتے ہیں، لیکن ان کے اعمال اور کردار ان دعوؤں سے یکسر مختلف ہیں۔ وہ یہ سب صرف عوام کو دھوکا دینے اور اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے کرتے ہیں، اور اس تحریر کے آغاز میں مذکور قرآنی آیت ان پر پوری طرح صادق آتی ہے۔
پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ افغانوں کے خلاف ان کے پرانے ہتھکنڈے اب مزید کارآمد نہیں رہے۔ انہیں افغانستان کے ساتھ دشمنی اور جھوٹے بیانیے گھڑنے کے بجائے اپنی بقا اور معاش کے لیے جائز ذرائع تلاش کرنے چاہییں، اور اپنے داخلی و خارجی مسائل کے حل کے لیے محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔




















































