جب ہم پاکستان کے حاکم نظام کا گہرا اور عقلی جائزہ لیتے ہیں، تو ہمیں ایک واضح تضاد نظر آتا ہے۔ وہ ملک جو اسلامی نظام کے نفاذ کے نعرے پر قائم کیا گیا تھا، آج دینی اور عقلی اقدار کے ساتھ تضاد کی علامت بن چکا ہے۔ دینی نقطہ نظر سے، ہر وہ حکومت جو خود کو اسلامی کہتی ہے، اسے انصاف، امانتداری اور عوام کے حقوق کی پاسداری کرنے والی ہونی چاہیے۔
قرآن کریم کی سورۃ النساء کے آیت نمبر 58 میں ارشاد ہے:
"إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ”
(بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔)
لیکن پاکستان کا حاکم نظام اس بنیادی اصول کی منظم طریقے سے خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف عوام سے خیانت کا مرتکب ہے، بلکہ خود ایک بڑے ظالم میں تبدیل ہو چکا ہے جو ہر روز پاکستانی نوجوانوں کے خون پر پل رہا ہے۔
عقلی نقطہ نظر سے، کسی سیاسی نظام کی کامیابی کا بنیادی پیمانہ عوام کی رضا مندی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی فراہمی ہے۔ لیکن معتبر عالمی اعداد و شمار اور رپورٹس ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں عوام کی عدم اطمینان کی شرح سب سے بلند ہے۔ بدعنوانی، قومی اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف منظم امتیازی سلوک، اور معاشی بدانتظامی نے زیادہ تر پاکستانی شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔
علاقائی سطح پر، اس نظام کا رویہ نہ صرف دینی معیارات بلکہ بین الاقوامی تعلقات کے عقلی اصولوں سے بھی متصادم ہے۔ پڑوسیوں کے ساتھ تعاون اور پرامن بقائے باہمی کے بجائے، مخاصمانہ پالیسیاں اور تشدد پسند گروہوں کی حمایت اس کے ایجنڈے کا حصہ بن چکی ہیں۔ یہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ عقلِ سلیم یہ تقاضا کرتی ہے کہ علاقائی استحکام اور سلامتی ہر ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔
پاکستان کے عوام، جو اس صورتحال سے تنگ آ چکے ہیں، بتدریج سیاسی شعور حاصل کر رہے ہیں۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ میں عوامی تحریکیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستانی شہری اپنے حقوق کے بارے میں بہتر شعور رکھتے ہیں اور تبدیلی کے خواہش مند ہیں۔ وہ بخوبی سمجھتے ہیں کہ ایک حکومت اسی وقت اسلامی کہلانے کی مستحق ہوتی ہے جب وہ صرف دینی نعروں پر ہی اکتفا نہ کرے، بلکہ انصاف، شفافیت اور جوابدہی کو عملی طور پر نافذ کرے۔
ثقافتی شناخت کے حوالے سے ایک گہرا بحران جنم لے رہا ہے۔ پاکستانی نوجوان نسل، جو سوشل میڈیا کے ذریعے بیرونی دنیا سے جڑی ہوئی ہے، بتدریج حکومتی پروپیگنڈا کے روایتی اقدار اور جدید دنیا کی حقیقتوں کے درمیان دوہری صورتحال میں پھنس چکی ہے۔ یہ نسلی فاصلہ، مستقبل کے واضح وژن کی عدم موجودگی کے ساتھ مل کر، نوجوانوں میں وسیع پیمانے پر ناامیدی اور مایوسی کا باعث بن رہا ہے۔
دوسری جانب، زبان اور ثقافت کے حوالے سے مسلط کردہ پالیسیاں نہ صرف قومی یکجہتی کے حصول میں ناکام رہی ہیں، بلکہ انہوں نے قومی اور مذہبی اختلافات کی آگ کو مزید بھڑکایا ہے۔ پاکستان کو آج ایک ایسی قومی شناخت کی ضرورت ہے جو ثقافتی اور مذہبی تنوع کے احترام پر مبنی ہو، نہ کہ یکساں بنانے والی اور غیر لچکدار پالیسیوں کے تسلط پر۔ پاکستان کا مستقبل اس کرپٹ نظام سے نکلنے اور ایسی ریاست کے قیام سے وابستہ ہے جو دینی معیارات اور عقلی اصولوں دونوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔
یہ تبدیلی ایک عمومی بیداری اور تمام پاکستانی شہریوں کی فعال شرکت سے ہی ممکن ہو سکتی ہے تاکہ وہ اپنی تقدیر کو اپنے ہاتھوں میں لے سکیں اور ایک ایسا ملک تشکیل دے سکیں جہاں انسانی وقار اور سماجی انصاف سب کے لیے قابل احترام ہو۔




















































