ثالث تو وہ ہوتا ہے جو دو یا زیادہ فریقوں کے درمیان تنازعات اور کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے اصولوں کی بنیاد پر حل کرنے کی کوشش کرے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات 21 گھنٹوں کے اندر ناکامی پر ختم ہو گئے۔ اس ناکامی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں:
جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے تو پاکستان کے پاس ثالثی کا کوئی باضابطہ اختیار نہیں تھا۔ اسے صرف امریکہ کی جانب سے ثالث کے طور پر پیش کیا گیا، مگر حقیقت میں اس نے کوئی عملی کردار ادا نہیں کیا۔
بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ثالث دونوں فریقوں کے مؤقف سنتا ہے، انہی کی بنیاد پر عمل کرتا ہے اور اصول و ضوابط فریقین کے سامنے رکھتا ہے۔ لیکن ایران اور امریکہ کے درمیان ان مذاکرات میں اصولوں اور قواعد کی کوئی واضح جھلک نظر نہیں آئی۔
اس صورتحال کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں:
مذاکرات کا اسٹیج اور اختیار، جو بعد میں مذاکراتی عمل کے دوران واضح ہوا؛ امریکی فوج کی جانب سے سکیورٹی اقدامات؛ پاکستان کے وزیرِ خارجہ یا وزیرِ اطلاعات کے بجائے امریکی نائب کی وضاحت؛ اور مذاکرات کی ناکامی کا حتمی اعلان، یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان ثالث نہیں تھا بلکہ صرف امریکہ کی جانب سے ایک نام کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ ایران کو کسی حد تک معاہدہ قبول کرنے اور اپنی ناکامی پر نرم ردِعمل دینے پر مجبور کیا جائے۔
تاہم ایران کے لیے وہ مطالبات قبول کرنا دراصل شکست تسلیم کرنے کے مترادف تھا۔ امریکہ نے طویل مدتی جنگ بندی کے بہانے معاملے کو طول دیا۔ پاکستان کے ذریعے جنگ بندی اور ثالثی کا ذکر کرنے کا ایک اور مقصد یہ بھی تھا کہ جاری جنگ کو ایک سیاسی رنگ دیا جائے، عالمی توجہ حاصل کی جائے اور سخت مؤقف کو جواز فراہم کیا جائے۔ اس عمل میں پاکستان کی فوجی رجیم کو ایک آلے کے طور پر استعمال کیا گیا۔
اس کے علاوہ نہ کوئی حقیقی جنگ بندی تھی اور نہ ہی سنجیدہ مذاکرات؛ بلکہ دراصل آنے والے سخت حالات کی پیش گوئی پر ایک قسم کا تبادلہ خیال جاری تھا۔۔ یہی وجہ بنی کہ جنگ کے خاتمے اور حالات کو قابو میں لانے کے بجائے، صورتحال مزید خطرناک ہوتی چلی گئی۔




















































